مضامین

ساوتری بائی پھلے آج بھی ہمارے درمیان ہے

محمد بہاء الدین ایڈوکیٹ، ناندیڑ Cell:9890245367

انسانی دماغ کوئی نلکی یا نالی نہیں ہے کہ جسے بھر دیا جائے بلکہ اس میں وہ شعلہ ہے جسے روشن کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم کوئی صرف سیکھنے والی چیز کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسان میں دُنیا کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بارے میں کچھ نہ کرنے کی چاہت پیدا کی جاسکتی ہے۔ پچھلے ہفتہ ساوتری بائی پھلے کی سالگرہ منائی گئی ہے جو ایک مشہور جہد کار اور ٹیچر تھیں۔ جس کا ہندوستان عہد لیتا ہے کہ ہم اُس کے مقروض ہے۔ وہ اپنی دوست فاطمہ شیخ کی مدد سے لڑکیوں کے لیے ملک میں سب سے پہلا اسکول قائم کی تھیں۔ فاطمہ شیخ لڑکیوں کے اسکول کی ہندوستان میں سب سے پہلی صدر معلمہ تھیں۔ جس میں جیوتی راؤ پھلے کی تائید و حمایت حاصل تھی۔ اسی طرح انہوں نے کمزور دلت، بہوجن کے لیے ہی مدرسہ قائم کیا۔ نہ صرف انہوں نے مدرسہ بلکہ ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا، جہاں کمزور، مجبور، معذور عورتوں کے سہارے کی جگہ تھی اور یہیں سے انہوں نے بچوں کو گود لینے کا طریقہ رائج کیا۔
پھلے اور اُن کا ستیہ شودھک سماج خود اپنے نظریات رکھتے تھے جو روایتی طور پر پائے جانے والی بندشوں و دیواروں کو ختم کرنے والی تھی۔ ان میں یہ صلاحیت تھی کہ ساری انسانیت کے ذریعے ہر ایک کو برابر کا رُتبہ اور درجہ دیتے تھے اور یہ وہ زمانہ ہے جب اُس وقت کی مشہور شخصیتیں تعلیم کو عام کرنے سے متعلق یہ نظریہ رکھتے تھے کہ وہ ذہنوں کو زہریلا بنا دیتی ہے اور بالخصوص عورتوں کی تعلیم سے متعلق کہ وہ کسی بھی نچلی درجہ میں دیا جائے اُسے زہریلا سمجھتے تھے اور علم کو صرف مخصوص ذاتوں کے لیے ہی اس ملک میں طئے کیا تھا اور ہم تمام وہ جو اُس ذات سے باہر پیدا ہوتے تھے اور اب وہ تمام لوگ جو کسی بھی ذات کے ہوں یا جنس کے، اُن کے لیے تعلیم عام کرنے کا انہوں نے آغاز کیا۔ وہ تمام لوگ ذرائع و وسائل رکھتے ہیں اور اپنے ذہن و فکر میں صلاحیت اس بات کی بھی رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ ساوتری بائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم تعلیم کو عام کریں جو بلا لحاظ مذہب و ملت و جنس سب کے لیے مساوی رویہ ہو۔
ہمیں یہاں ان شخصیتوں کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے ہندوستانی نظریہ کا ارتقاء کیا۔ ہم سوچتے ہیں فادر آف نیشن (father of nation) کی طرح اس میں بھی مدر آف نیشن (mother of nation) شامل ہے جس میں خواتین ہم سے پہلے گزری ہیں جیسا کہ ساوتری بائی پھلے۔ جن کے نام کی وجہ سے مدھم و مغموم و پست کردہ خواتین میں تعلیم کی شروعات ہوئی۔ اور اس طرح وہ تمام کہانیاں جو ماضی میں جنہیں حاشیہ پر رکھا جاتا تھا جن کے متعلق کوئی سوچ و فکر نہ تھی اُسے انہوں نے منظر عام پر لایا۔ یہاں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ قوم نے ان کی وجہ سے کیا کچھ حاصل نہیں کیا جو خدا کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ تھی۔ جس میں چند شخصیتوں کا نام بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس عمل میں اور کارروائیوں میں بہت سے لوگوں کے دل و دماغ اور ہاتھ شامل ہیں جو ہندوستانی سماج کے بلالحاظ مذہب و ملت لوگوں نے ان کی تائید کی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: