اسلامیات

سرور کائنات ﷺ کی تاریخ وفات کی تحقیق

وفات نبوی ﷺکی صحیح اور محقق تاریخ یکم ربیع الاول 11ھ ہے

محمد یاسین جہازی
بارہ ربیع الاول عوام میں ’’بارہ وفات‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن قمری کلینڈر سے ثابت ہوتا ہے کہ 12 ربیع الاول کو نبی اکرم ﷺ کی وفات کی تاریخ قرار دینا تاریخی غلطی ہے۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہیں کہ وفات کا دن سوموار کا تھا۔ (صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945)۔ اور یہ بھی قطعی الثبوت ہے کہ وفات سےتقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔
9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول تک کا حساب لگا یاجائے، تو ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30، یا کچھ کو 29 اور کچھ کو 30 تسلیم کریں، کسی بھی شکل میں 12ربیع الاول کو سوموار کا دن نہیں پڑتا۔ تینوں مہینوں کو 29 یا 30 مان کر کلینڈر بنایا جائے، تو اس کی 8 شکلیں بنتی ہیں۔

ان مفروضہ شکلوں میں سے پہلی شکل میں 12 ربیع الاول اتور کو۔ دوسری شکل میں جمعرات کو، تیسری شکل میں جمعہ کو، چوتھی شکل میں سنیچر کو، پانچویں شکل میں جمعہ کو، چھٹی شکل میں سنیچر کو، ساتویں شکل میں سنیچر کو، اور آٹھویں شکل میں جمعہ کو پڑ رہا ہے۔ یعنی کسی بھی شکل میں 12 ربیع الاول 11 ہجری کو سوموار کا دن نہیں پڑتا؛ لہذا یہ قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ 12 ربیع الاول کو نبی اکرم ﷺ کی وفات نہیں ہوئی ہے۔
درج بالا مفروضہ تاریخوں میں ربیع الاول میں سوموار کا دن 1۔2۔6-7-8-9-13-14- 15 تاریخوں میں پڑ رہا ہے۔ان میں سے 6-7-8-9-13-14- 15 تاریخ وفات نہیں ہوسکتی ، کیوں کہ ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں ہے۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ تی ہے، جو تیسری شکل میں درج ہے، جس میں ذی الحجہ، محرم اور صفر تینوں مہینے 29 کے فرض کیے گئے ہیں، اور یہ خلاف اصول ہے کہ تینوں مہینے لگاتار 29 کے ہی ہوں۔
یکم تاریخ تین شکلوں میں واقع ہورہی ہے:
(1) شکل نمبر 3 میں یعنی ذی الحجہ 30، محرم29 اور صفر 29 ۔
(2) شکل نمبر 5 میں، یعنی ذی الحجہ 29 ، محرم 30 اور صفر 29۔
(3) شکل نمبر8 میں، یعنی ذی الحجہ 29 ، محرم 29 اورصفر30 ۔
اوریہ تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں، اس لیے وفات نبوی کی صحیح اور محقق تاریخ یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔
اس درایت کو سب سے پہلے امام سہیلی نور اللہ مرقدہ نے روض الانف میں لکھا تھا۔ اس پر کچھ تفصیلات علامہ شبلی نعمانی نور اللہ مرقدہ نے حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31پر پیش کی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: