اسلامیات

سلام کے آداب

سب سے افضل عمل سلام کرنا ہے

مولانا شوکت علی بھاگلپوری
]۱[ (۱) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَا ”اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ رَسُوْلَ اللہ ِ صَلیّٰ اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:”اَیُّ الْاِسَلَامِ خَیْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَ تَقْرَءُ السَّلاَمَ عَلیٰ مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَمْ تَعْرِفْ“ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ (بخاری:۱/۶؛رقم:۲۱،مسلم:۱/۸۴؛رقم:(۳۶-۹۳)،مشکوۃ:۷۹۳؛رقم:۹۲۶۴) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ: ایک صاحب نے حضوراقدس ا سے دریافت کیا کہ: مسلمانوں کی کونسی خصلت سب سے افضل ہے؟ آپ انے ارشاد فرمایا:کھانا کھلانا اور ہر شخص کو سلام کرنا چاہے جانا پہچانا ہو یا انجان۔ (بخاری و مسلم)
سلام سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے
]۲[ (۲) عَنْ اَبِیْ ھُرِیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”لَا تَدْخُلُوْنَ الجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا وَ لَا تُؤمِنُوا حَتیّٰ تَحَابُّوْا اَوَلَاادُلُّکُمْ عَلیٰ شَیءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ؟ اَفْشُوْا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ“.
(رواہ ُمسلم:۱/۴۵؛رقم:(۳۹-۴۵)،مشکوۃ:۷۹۳؛رقم:۱۳۶۴)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایتہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: جب تک ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں نہیں جاسکو گے، اور جب تک تم لوگ آپس میں محبت و دوستی کا تعلق نہ قائم کرلو تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکے گا کیا میں تمہیں ایسا راستہ نہ بتاؤں؟ جس پر چلنے سے آپس میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، وہ راستہ یہ ہے کہ: آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا خوب رواج ڈالو۔ (مسلم)
ف:- زمانہئ جاہلیت میں ہر طرف قتل و غارتگری کا بازار گرم تھا،جدھر دیکھیں! ڈر،بھے،اور خوں ریزی کا دور دورہ تھا،بے اعتمادی اور بد امنی کا یہ عالم تھا کہ:کسی کو سامنے سے آتا ہو ادیکھ کر خوف و ہراس کے مارے اچھے اچھوں کی روح کانپ اٹھتی تھی کہ:دیکھئے! اب کیا ہوتا ہے؟ جان رہتی ہے یا جاتی ہے؟ اسلام نے سلام کو رواج دے کر اس وحشت ناک ماحول کو اکدم سے ختم کر دیا،سلام کوسنت قرار دے کر دنیا کو محبت و بھائی چارگی،اور اُنس وپریم کا وہ بے مثال پیغام دیا کہ: وحشت و بربریت کا یکسر خاتمہ ہو گیا،اسلام نے اس سلام کے ذریعے روئے زمین پر امن و شانتی اور اخوت و انسانیت کا ایساتابناک چراغ روشن کیا کہ:دنیا کی قومیں اِس کی کوئی مثال نہیں پیش کر سکتیں۔
سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت
]۳[ (۳) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّا قَالَ: ”اَلْبَادِیئُ بِالسَّلاَمِ بَرِیْءُ مِنَ الْکِبْرِ“.
(شُعَبُ الْاِیْمَانِ:۶/۳۳۴؛رقم:۶۸۷۸،مشکوۃ:۰۰۴؛رقم:۶۶۶۴)
وَفِی رِوَایَۃِ اَبِی دَاوُئدَ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:”اِنَّ اَوْلٰی النَّاسِ بِاللّٰہِ مَنْ بَدَاَئھُمْ بِالسَّلَامِ“.
(ابوداؤد:۲/۶۰۷؛رقم:۸۸۱۵)
وَفِی رِوَایَۃِ التِّرْمِذِیِّ عَنْہُ قَالْ:قِیْلَ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلرَّجُلَانِ یَلْتَقِیَانِ اَیُّھُمَا یَبْدَاُئ بِالسَّلَامِ؟قَالَ:اَوْلٰھُمَا بِاللّٰہِ.
(ترمذی و حَسَّنہ:۲/۴۹؛رقم:۴۹۶۲)
وَفِی رِوَایَۃِ اَحْمَدَ عَنْہُ بِسَنَدٍ جَیِّدٍ مَرْفُوْعاً:”مَنْ بَدَاَئ بِالسَّلَامِ فَھُوَ اَوْلٰی بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ.(مسند احمد:۵/۴۵۲،ترغیب:۳/۶۸۲)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ: حضور اقدس انے ارشادفرمایاکہ:سلا م میں پہل کرنے والا شخص تکبر سے پاک ہے۔(شعب الایمان)
ایک حدیث میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ:وہ شخص اللہ جل شانہ سے بہت قریب ہے جس نے لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کی۔ (ابو داؤد شریف)
ایک روایت میں ہے کہ: نبی کریم ا سے دریافت کیا گیا کہ:اے اللہ کے رسول! دو شخص کی ملاقات ہو تو سلام میں پہل کون کرے؟ارشاد فرمایا کہ:جو اللہ سے زیادہ قریب ہے۔ (ترمذی شریف)
ایک روایت میں ہے کہ:جو شخص سلام میں پہل کرے؛وہ اللہ اور اس کے رسول ا سے بہت زیادہ قریب ہے۔ (مسند احمد)
ف:- اللہ سے قریب ہونے کا مطلب: اللہ کی رحمت و مغفرت کا زیادہ مستحق ہونا ہے،اور رسول اللہ ا سے زیادہ قریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ:قیامت کے دن حضور اقدس ا کی شفاعت کا زیادہ حقدار ہوگا،اور جنت میں حضور ا کے زیادہ قریب رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: