مضامین

سلطنت عثمانیہ سے مملکت سعودیہ تک

تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

**

عرب شریف میں 1922ء تک ترکی کی حکومت تھی جسے خلافتِ عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے 1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا خلافتِ عثمانیہ دنیاکےتین براعظموں پر623 سال(1299ء-1922ء) تک قائم رہی۔جب بهی اسلامی دنیا پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی امریکہ ، برطانیہ اور یورپین ممالک کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافتِ عثمانیہ کا تها.ان کو معلوم تها کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ ہے ہم مسلمانوں کا کچھ بهی نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔امریکہ و یورپ نے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی 19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے نزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لئے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ‘ ایسی فصیح عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں ہوا اس نے عرب کے لوگوں کو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ تم عربی ہو اور یہ ترکی عجمی ہیں ہم عجمیوں کی حکومت کو کیسے برداشت کر رہے ہیں پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.یہ شخص "لارنس آف عریبیہ” کے نام سے مشہور ہوا.پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام محمدبن عبدالوهاب نجدی تھا۔ابن عبدالوهاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے ہوئی،جس کا نام ابن سعود تها اس نےابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔پھر کیا تھا ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی مکہ ، مدینہ اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود ہمیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ و مدینہ اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ”ہم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے”اس وجہ سے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے 40 نئے ممالک وجود میں آئے۔ پهر عرب اور ساری دنیا کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا حجازِ مقدس کا نام 1400 سال کی تاریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجازِ مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکھ دیا۔اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوهاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر مسیلمہ کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھوا دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔ جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ اور اہل بیتِ اطہار رضوان الله تعالی اجمعین کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا اور تمام قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهلِ بیت کے نام پر تهےان کا نام آلِ سعود کے نام پر رکها گیا.انگریزوں کی اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُوڈ نے ’’ Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ دیکھی جا چکی ہے۔یہود و نصاریٰ کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن ایک جشن ہوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے پرائم منسٹرس ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ تھے کل جس عرب کے نام سے پوری دنیا لرزہ براندام تھی آج وہی سعودیہ عربیہ اپنی غیرت بیچ کر امریکہ کے اشارہ ابرو پر ناچنے لگااور آج بهی ناچ رہا ہے جس کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا نہایت ہی شرمندہ ہے تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عربوں کی زبوں حالی اور ضمیر فروشی کی بلا کسی آفت ناگہانی کی طرح آج کوئی اچانک نمودار نہیں ہوگئی ہے بلکہ یہودونصاریٰ کی ہمارے خلاف کی جانے والی برسوں کی سازشی و لعنتی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے اس تناظر میں سلطان صلاح الدین ایوبی اور ایک صلیبی جاسوس کی منتج گفتگو دل چسپی سے خالی نہ ہوگی تاریخ بتاتی ہے کہ جب جولائی 1187ء کو حطین کے میدان میں سات صلیبی حکمرانوں کی متحدہ فوج کو جو مکہ اور مدینے پر قبضہ کرنے آئی تھی ایوبی فوج نے عبرتناک شکست دے کر مکہ اور مدینہ کی جانب بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا تھا اور اب وہ حطین سے پچیس میل دور عکرہ پر حملہ آور تھے سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ فیصلہ اِس لیے کیا تھا کہ عکرہ صلیبیوں کا مکہ تھا، سلطان اُسے تہہ تیغ کرکے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا انتقام لینا چاہتا تھا، دوسرے بیت المقدس سے پہلے سلطان عکرہ پر اِس لیے بھی قبضہ چاہتا تھا کہ صلیبیوں کے حوصلے پست ہو جائیں اور وہ جلد ہتھیار ڈال دیں، چنانچہ اُس نے مضبوط دفاع کے باوجود عکرہ پر حملہ کردیا اور 8جولائی 1187ء کو عکرہ ایوبی افواج کے قبضے میں آگیا اِس معرکے میں صلیبی انٹیلیجنس کا سربراہ ہرمن بھی گرفتار ہوا جسے فرار ہوتے ہوئے ایک کماندار نے گرفتار کیا تھاگرفتاری کے وقت ہرمن نے کماندار کو خوبصورت لڑکیوں اور بہت سا سونا دے کر فرار کرانے کی پیش کش کی تھی مگر کماندار نے اُسے رد کردیا، ہرمن کو جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے گرفتار کرنے والے کماندار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلطان سے کہا”سلطان معظم ! اگر آپ کے تمام کماندار اِس کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ کر لایا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی اُس نے کہا میری نظر انسانی فطرت کی کمزوریوں پر رہتی ہے، میں نے آپ کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کیا میرا ماننا ہے کہ جب یہ کمزوریاں کسی جرنیل میں پیدا ہو جاتی ہیں یا پیدا کر دی جاتی ہیں تو شکست اُس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے میں نے آپ کے یہاں جتنے بھی غدار پیدا کئے اُن میں سب سے پہلے یہی کمزوریاں پیدا کیں حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے سلطان معظم! آپ کا جاسوسی نظام نہایت ہی کارگر ہے آپ صحیح وقت اور صحیح مقام پر ضرب لگاتے ہیں مگر میں آپ کو یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے ہم نے آپ کے یہاں جو بیج بویا ہے وہ ضائع نہیں ہوگا آپ چونکہ ایمان والے ہیں اِس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبا لیا لیکن ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت، دولت، لذت اور عورت کا نشہ بھر دیا ہے، آپ کے جانشین اِس نشے کو اتار نہیں سکیں گے اور میرے جانشین اِس نشے کو تیز کرتے رہیں گے۔ سلطان معظم ! یہ جنگ جو ہم لڑرہے ہیں یہ میری اور آپ کی یا ہمارے بادشاہوں کی جنگ نہیں ہے یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے ہم مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کامحاصرہ کریں گے ہماری لڑکیاں، ہماری دولت، ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں، اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی پھر مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے سلطان معظم! وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے میں نہیں دیکھوں گا ہماری روحیں دیکھیں گی۔” سلطان صلاح الدین ایوبی جرمن نژاد ہرمن کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے ہرمن کہہ رہا تھا : ” سلطان معظم ! آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے عرب کو کیوں میدان جنگ بنایا ؟ صرف اِس لیے کہ ساری دنیا کے مسلمان اِس خطے کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے ہیں اور یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے ہم مسلمانوں کے اِس مرکز کو ختم کر رہے ہیں آپ آج بیت المقدس کو ہمارے قبضے سے چھڑا لیں گے لیکن جب آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے مسجد اقصیٰ پھر ہماری عبادت گاہ بن جائے گی میں جو پیشن گوئی کر رہا ہوں یہ اپنی اور آپ کی قوم کی فطرت کو بڑے غور سے دیکھ کر کر رہا ہوں ہم آپ کی قوم کو ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں گے اور فلسطین کا نام و نشان نہیں رہے گا یہودیوں نے آپ کی قوم کے لڑکوں اور لڑکیوں میں لذت پرستی کا بیج بونا شروع کردیا ہے اِن میں سے اب کوئی نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا تاریخ شاہد ہے کہ تیسری صلیبی جنگ کو شکست دینے کے بعد سالار اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی کا انتقال ہو گیا۔سلطان کی فتح کے بعد کئی سو سال بیت المقدس مسلمانوں کی تحویل میں رہا لیکن ترک سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی بیت المقدس بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ اس موقع پر فرانسیسی فوج کا جرنیل دمشق جا کر سلطان کی قبر پر کھڑے ہو کر اعلان کہتا ہے کہ”اے صلاح الدین! ہم آ گئے ہیں، ہم کو روک کر دکھاﺅ“ ۔۔۔ یہ تاریخ کا بڑا ہی دلخراش پہلو ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بعد اسرائیلوں کے مظالم کو روکنے والا ہاتھ دوبارہ پیدا نہ ہو سکا بلکہ مسلمانوں کے حالات مزید ابتر ہو چکے ہیں۔ اخلاقیات کا دیوالیہ ہو رہاہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول ہے کہ ”اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو۔“ گمراہی اور مذہبی انتہا پسندی نے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور دونوں انتہائیں مسلمانوں کو تباہی اور بزدلی کی جانب لے جا رہی ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی قبر کے سراہنے للکارنے والے صلیبی دشمن کی بازگشت آج بھی سنائی دے رہی ہے ”ہم آگئے ہیں ہم کو روک کر دکھاﺅ۔“ سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے کہ کیا یہ ساری باتیں آج سچ ثابت نہیں ہو رہی ہیں کیا عرب ممالک کے حکمران اسلام دشمن طاقتوں کے زرخرید غلام نہیں ہوگئے ہیں اب تو متحدہ عرب امارات کے حکمران اسلام دشمن ملک اسرائیل کے ساتھ معاہدے اور مطالبے پر لبیک کہتے ہوئے خود اسلام دشمنی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے” یہود و نصاریٰ کی ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے ڈاکٹر محمد اقبال نے بہت پہلے کہا تھا:
وہ فاقہ کش موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
Hashimazmi78692@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: