زبان و ادب

سلیس اور سادہ اسلوب

محمد یاسین جہازی 9891737350

سادہ اسلوب سے مراد وہ اسلوب ہے،جس کی زبان سادہ سلیس، شستہ وشگفتہ اور روز مرہ استعمال ہونے والی ہوتی ہے۔ اس اسلوب میں پیچیدہ فقرے، طویل سے طویل جملے، الجھی ہوئی گنجلک اور ادق ترکیبیں نہیں ہوتیں، اور نہ ہی نامانوس الفاظ، دشوار گذار کلمات استعمال کیے جاتے ہیں۔نیز اس اسلوب میں قواعد زبان اور اصول بیان کے خلاف بھی کوئی بات نہیں ہوتی۔نظم ونثر دونوں صنفوں میں اس اسلوب کو برتا جاتا ہے۔
نثر کی مثال:
”عزیزی سلمہ! اب جا کے تم نے ایسی چپ سادھی کی کہ میں سمجھا، کہیں اور چل دیے۔ میں بھی خاموش تھا اور انتظار کر رہا تھا کہ رمضان گذر جائے؛ تو مزاج پر سی کروں۔ روزوں میں مزاج ہاتھ میں نہیں رہتااور ایمان میں فرق آجاتا ہے، اس لیے ان دنوں میں میں نے چھیڑنا مصلحت نہ سمجھا۔ شکر ہے کہ رمضان ختم ہونے سے پہلے ہی تمھارا خط آگیا“۔(مولوی عبد الحق)
نظم کی مثال: ؎
تہمتیں چند اپنے ذمہ دھر چلے
کس لیے آئے تھے ہم کیا کر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
بسا اوقات ایسا ہو تا ہے کہ لکھنے والا ’سادہ اسلوب‘ میں کچھ لکھنا چاہتا ہے، لیکن وہ لکھتے لکھتے اس اسلوب کی صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے۔اس کی چند وجوہات ہیں، جو ذیل کی سطروں میں درج ہیں:
(۱)تکیہئ کلام: بعض لوگوں کی زبان قلم اور زبان لحم دونوں پر کچھ مخصوص الفاظ چڑھ جاتے ہیں، جن کو وہ بار بار استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ نفس مضمون کے مطابق اوربر محل ہوتے ہیں؛بلکہ وہ اپنی عادت اور طبیعت سے مجبور ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ الفاظ خود بخود اور لاشعوری طور پر نوک قلم پر آجاتے ہیں اور بے ساختہ لکھے چلے جاتے ہیں، جیسے:
”اللہ کے دربار میں ان دونوں میں زیادہ مقبول کون ہو سکتا ہے؟۔ اپنے دل میں خود سوچیے اور فیصلہ کیجیے کہ اللہ کے یہاں مقبولیت پیدا کرنے والی کون سی چیز ہو سکتی ہیں؟ پر تکلف لباس؟ لذیذ غذائیں؟ عمدہ کوٹھیاں؟ اعلیٰ سامان آرائش؟ نمائشی چندے؟ رسمی جلسے؟ بناوٹی تقریریں اور تحریریں؟ یا اس کے برعکس زندگی کی سادگی؟دل کی شکستگی؟ایثار وخدمت گذاری؟انکساری وخاکساری؟عاجزی وفروتنی؟صبر وقناعت؟زہد وعبادت؟ تقویٰ وطہارت؟‘۔ (مولاناعبدا لماجد دریا بادیؒ)
اس مضمون میں استفہامیہ جملے ’تکیہئ کلام‘ کے طور پر اس کثرت سے استعمال ہوئے ہیں کہ تحریر سادگی کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔
(۲)آورد: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مضمون لکھتے وقت بسیار کو شش کے باوجود ذہن میں موادکی آمد نہیں ہوتی ہے۔ایسی صورت میں مضمون نگار ’آمد‘ کی کمی کو چھپا نے کے لیے متوازن جملوں، مسجع ومقفیٰ عبارتوں، دور دراز اور متضاد تشبیہوں کو بہ کثر ت استعمال کرنے لگتاہے، جیسے:
”آج قلم کا دماغ پھول کی خوشبو سے معطر ہے، صفحہئ کاغذ آنکھ کی سفیدی کی طرح منور ہے، نظر کا ڈورا راگ گل کے طور پر رنگین ہے، نگاہ کا تاررشتہئ گلدستہ کی مانند نہاریں ہے، کس واسطے کہ مجھے ایک باغ اور ایک مکان کی صفت لکھنی منظور ہے؟ جس کی میرے چشم مردم میں نور ہے اس کے صحن اور دالان میں خدا کی قدرت کا گل کھلا ہے، چمن اور میدان صانع کی صنعت کا تماشہ ہے۔وہ کون مکاں؟ اور کیسا مکاں؟ جو شاہ جہاں ایسے بادشاہ عا لی جاہ کا قیام گاہ ہے۔ کون اور کیسا ایوان؟ جو جناب عالیہ بادشاہ بیگم کی آرام گاہ ہے۔“ (مولانا غلام امام شہید)
اس میں ’آورد‘ پا یا جاتاہے،جو’آمد‘ کی کمی پر غماز ہے اور سادہ اسلوب کے لیے ایک قسم کی خامی ہے۔
(۳)نمود علمیت: کبھی مضمون نگار اپنی علمی قابلیت دکھانے کے لیے بڑے بڑے انتہائی زور دار اور پر رعب جملوں اور عجیب وغریب فقروں کا بے محل استعمال کرنے لگتا ہے، جن میں نہ تو نفس مضمون کے حوالے سے گہرے خیالات ہوتے ہیں او ر نہ ہی مضمون سے اٹیچ معلومات، بلکہ وہ بے جوڑ اور غیر متعلق ہوتے ہیں، جیسے: ؎
اے دبدبہئ نظم! دوعالم کو ہلا دے
اے طنطنہئ طبع! جزو کل کو ملادے
اے معجزہئ فکر! فصاحت کو چلا دے
اے زمزمہئ نطق! بلاغت کا صلہ دے
اے بائے بیاں!معنیِئ تسخیر کو حل کر
اے سین سخن! قاف تا قاف عمل کر
(مرزادبیر)
ان اشعار کے جملے تو بہت زور دار اور پررعب ہیں؛ مگر معنوی اعتبار سے ان میں بالکل بھی ہم آہنگی نہیں ہے؛کیوں کہ طنطنہ کو جزو کل کے ملادینے سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ زمزمہئ نطق سے بلاغت کا صلہ مانگنے کا کیا مطلب ہو سکتاہے؟ بیان کی ب کو تسخیر سے کیا تعلق؟ اسی طرح سخن کے سین کو قاف سے تاقاف عمل کرنے کے لیے کیا خصوصیت ہوسکتی ہے؟
(۴)تک بندی: کبھی مضمون نگار رسمی اور فرسودہ خیالات کو سادگی کے طور پر اتنے ہلکے اور پھیکے الفاظ میں ادا کرتاہے کہ تحریر سادگی کے معیار سے گر کر تک بندی کی صف میں داخل ہو جاتی ہے، اور اس میں جذبات کو متأثر کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی۔ یہ خامی زیادہ تر نظم میں پائی جاتی ہے، جیسے: ؎
(الف) میں نے اپنے سرپہ اک ٹوپی دھری
اور اٹھ کر آگرے کی راہ لی
راہ میں اک دوست یوں کہنے لگا
کیوں نہ موٹر پر سفر تم نے کیا
(ب) ہاتھی کو بڑا کیا، بڑا ہے
لٹھے کو کھڑا کیا، کھڑا ہے،
ان اشعار میں ایک تو مضامین پیش پا افتاد ہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ الفاظ بھی رکیک ہیں، اس لیے ان کو تک بندی کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے؟۔
(۵)عامیانہ پن: کبھی مضمون نگار ایسے بازاری اور گرے ہوئے الفاظ کا استعمال کرتا ہے، جو معتبر لوگوں اور ارباب سخن کے حلقوں میں استعمال نہیں کیے جاتے، جیسے:”کسی نے کیا جچی تلی ہوئی، باون تولہ پاؤرتی بات کہی ہے کہ من عرف نفسہ؛ فقد عرف ربہ“۔(مولانا نذیر احمد)
اس میں خط کشیدہ الفاظ ارباب سخن کے یہاں اس طرح مستعمل نہیں ہوتے، جن کی وجہ سے تحریر عامیانہ اسلوب کاحامل ہوگئی ہے۔
نظم کی مثال: ؎
ادا جان لیتی ہے جانی تمھاری
ستم ڈھا رہی ہے جوانی تمھاری
اس میں کس قدر سوقیانہ ا ورعامیانہ پن دکھائی دے رہا ہے، اسی مضمون کو حضرت داغؔ دہلوی نے کس شرافت اورخوبی کے ساتھ ادا کیا ہے کہ: ؎
ہر ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی
اف تیری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: