اسلامیات

سماوی، انسانی، شیطانی آفات اور تحفظ کے فطری طریقے

محمد یاسین جہازی

حفاظت اور بچاو تمام مخلوقات کا نیچر ہے۔ ہر ایک مخلوق خواہ وہ انسان ہو یا جانور؛اپنا بچاو اور دفاع کے ہنر سے واقف ہوتی ہے، کوئی بھی خطرہ درپیش ہو، اس سے اپنے آپ کو بچانے اور محفوظ کرنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ آپ نے یہ منظر بارہا دیکھا ہوگا کہ چوہے بلی کی آہٹ سن کر ہی جان بچانے کے لیے بلوں میں چھپ جاتے ہیں۔ کبھی آپ کا اور سانپ کا آمنا سامنا ہوجائے، تو جس طرح سانپ اپنی جان بچانے کے لیے راہ فرار تلاش کرتا ہے، اسی طرح آپ بھی اس کے خوف سے سر پر پاوں رکھ کر بھاگتے ہیں۔ المختصر اپنی جان کی حفاظت کرنا، ہر ایک مخلوق کا نیچر ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان کے علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی حفاظت کے آلات خود انھیں کے جسم کا ایک حصہ اور جز بنادیا ہے۔ آپ ہاتھی کو دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی حفاظت کے لیے طاقت اور سونڈ دے دیا ہے، شیر کو خوں خوار پنجہ، کتے کو نوکیلے دانت، سانپ اور بچھو کو زہر آلود ڈنک،گائے، بیل، بھینس کو سینگ، پرندوں کو بے قید ہوا میں اڑبھاگنے کی صلاحیت وغیرہ وغیرہ۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ ایک ہی مخلوق میں الگ الگ مقامات کے سرد و گرم موسم کے اعتبار سے جسم و جثہ میں جزوی تبدیلی۔ اس کے بالمقابل انسان کو قدرت کاملہ نے اس طرح کا کوئی بھی ہتھیار اس کے جسم کا حصہ نہیں بنایا ہے۔ انسان کے بدن پر پنکھ یا روئی دار کھال نہیں ہوتے کہ جسے وہ سردی سے حفاظت کے لیے استعمال کرے۔ اس کے پاس خوں خوار پنجے اور نوکیلے دانت بھی نہیں ہیں کہ ان سے اپنے تحفظ کا کام لے اور نہ ہی ہاتھی کی طرح سونڈ، گائے کی طرح سینگ ہیں کہ انھیں بطور اوزار کام میں لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کے مقابلے میں انسان کو عقل سلیم عنایت فرمادی ہے، جسے وہ استعمال کرکے ہاتھی سے زیادہ طاقت ور، خوں خوار پنجوں سے زیادہ تیز، نوکیلے دانت سے زیادہ نوکیلے ہتھیار اور زہر آلود ڈنک سے زیادہ خطرناک زہر تیار کرکے اپنی حفاظت کا سامان بہم پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں اور دیگر مخلوقات کے تحفظ کا طریقہ کار یکسر مختلف ہوتا ہے۔
آفتیں تین طرح کی ہوتی ہیں: (۱) آفات سماوی۔ (۲) آفات انسانی۔ (۳) آفات شیطانی۔ انسانوں کے علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں، وہ صرف پہلی دونوں آفتوں کی شکار ہوتی ہیں۔ تیسری قسم یعنی آفات شیطانی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، اسی لیے آپ نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ کسی کتے، بلی یا گائے بیل پر بھوت سوار ہوگیا ہے۔ آفت شیطانی کی زد میں صرف حضرت انسان ہی آتے ہیں، ساتھ ہی انسان آفات سماوی اور آفات انسانی سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
تینوں آفتوں سے بچنے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے طریقے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اور ہتھیار بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آفت و مصیبت سے تحفظ کے وقت دوسری آفت سے بچاو کے ہتھیار کام آجاتے ہیں، لیکن کچھ آفتیں ایسی بھی ہیں، جہاں دوسرے ہتھیاربالکل بھی کام نہیں آتے، اس سے بچاو کے لیے مخصوص ہتھیار ہی استعمال کرنے ہوں گے۔ آئیے ذیل کی سطروں میں یہ دیکھتے ہیں کہ تینوں قسم کی آفتوں کے لیے کیا کیا ہتھیار ہیں۔
طوفان، آندھی، سیلاب، زلزلہ؛ آفات سماوی ہیں، ان سے بلا استثنا سبھی مخلوقات متاثر ہوتی ہیں۔ زہریلے بم پھوڑ دینا، فسادات برپا کرنا، ایک قوم کا دوسری قوم سے برسرپیکار ہونا، ناحق کسی کو مار ڈالنا، چوری، گالم گلوچ اور اس قسم کی دیگر حرکتیں آفات انسانی کی مثالیں ہیں۔ ان آفتوں میں سے بعض سے تو انسان جانور سمیت سبھی مخلوقات متاثر ہوتی ہیں، جس کی مثالیں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے ایٹم بم ہیں۔ اس بم کے گرانے کے بیسیوں سال بعد بھی نئی نسل اس کے مہلک اثرات سے متاثر ہوتی رہی اور وہ گونگے، بہرے اور لنگڑے پیدا ہوتی رہی۔ درج بالا دونوں آفتوں سے حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سلیم کا استعمال کرے اور ان آفتوں کے اسباب پر غور کرکے، اپنے اور دیگر مخلوقات کے تحفظ کا سامان فراہم کرے۔ مثال کے طور پر بار بار سیلاب آجاتا ہے، تو اس سے تحفظ کے لیے پانی کے سرچشمہ پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرے، وہاں باندھ لگائے اور اس قسم کی جو بھی تدبیریں ہیں وہ اختیار کی جائیں۔ اسی طرح آفات انسانی کے طور پر بار بار دو ملکوں میں جنگ کے خطرات منڈلاتے ہیں، تو دونوں ملکوں کو معاہدہ امن پر مجبور کیا جائے۔ المختصر انسانی حکمت عملی کے ذریعے اس قسم کی مصیبتوں سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔البتہ تیسری قسم کی جو آفت ہے، اس سے بچنے کے لیے کوئی بھی انسان کا مصنوعی ہتھیار کارگر نہیں ہوتا۔ اس سے حفاظت کے لیے ایک دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ اگر کسی پر شیطان سوار ہوجاتا ہے، تو آپ یہ بتائیے کہ اسے چاقو، ڈنڈا یا ایٹم بم دکھانے سے وہ بھاگ جاتا ہے؟۔ بالکل نہیں بھاگتا؛ بلکہ اسے بھگانے کے لیے دوسری تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں۔ وہ تدابیر پیش خدمت ہیں۔
کلام پاک میں ہے کہ
لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُونہُ مِنْ أَمْرِ اللَّہِ (سورۃ الرعد، آیۃ: ۱۱)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو بحکم الٰہی اس کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جس طرح بندوں کے اعمال پر نگہبانی کے لیے دو فرشتے مقرر ہیں؛ ایک دائیں، دوسرا بائیں۔ دایاں والا نیکیاں لکھتا ہے اور بایاں والا برے اعمال رقم کرتا ہے، اسی طرح انسانوں کو ہر قسم کی آفتوں سے بچانے کے لیے ہر وقت دو فرشتے ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ ایک فرشتہ سامنے ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ اس کے پیچھے۔ اس طرح گویاہمہ وقت چار فرشتے انسان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اگر یہ فرشتے انسانوں کی حفاظت نہ کریں، تو شیطان انسان کا اس قدر دشمن ہیں کہ فوری طور پر اس کو ہلاک کردیں۔
آج حادثات اور آفتوں کا دور دورہ ہے۔ اگر ایک شخص صبح کا گھر سے نکلا ہوا، شام کو صحیح سلامت گھر واپس آجائے، تو اسے سجدہ شکر بجالانا چاہیے۔ ان میں جہاں آفات سماوی اور آفات انسانی ہمہ وقت گردش کرتی رہتی ہیں، وہیں آفات شیطانی بھی تعاقب کرتی رہتی ہیں، اول الذکر دونوں آفتوں سے تحفظ کا طریقہ آپ نے پڑھ لیا، شیطانی آفتوں سے حفاظت کا طریقہ چوں کہ ان طریقوں سے مختلف ہے، اس لیے یہاں پر احادیث کی روشنی میں چند تدبیریں لکھی جارہی ہیں۔
یوں تو احادیث میں آفتوں اور شیطانی اثرات سے بچنے کے لیے بہت سے دعائیں موجود ہیں، لیکن بہت ہی مختصر اور جامع دو تین دعائیں یہ ہیں:
۱۔ ہر صبح و شام فجر اور مغرب کی نماز کے بعد تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں کہ
بسم اللہ الذی لایضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء، وھو السمیع العلیم۔
۲۔ تین تین مرتبہ سورہ اخلاص اور سورہ معوذتین۔
پابندی کے ساتھ اگر یہی دونوں اعمال کیے جائیں، تو نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ وعدہ ہے کہ اسے جہاں آفات سماوی و انسانی سے نجات مل جائے گی، وہیں شیطان بھی اس کا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ دعا فرمائیں کہ اللہ پاک ہمیں سرور کائنات کے ارشادات پر عمل کی توفیق دے اور ہمیں ہر قسم کی آفات و بلیات سے محفوظ فرمائے، آمین۔

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close