مضامین

سمویدھان پر اسپاٹ لائٹ

برسوں پہلے کا ہندی کا لفظ بتاتا ہے کہ کس طرح دستورِ ہند جو الماریوں میں چلا گیا تھا اور اب وہاں سے وہ گلیوں میں آگیا ہے اداریہ انڈین ایکسپریس ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

سمویدھان اصل لفظ سنسکرت کا ہے۔ آکسفورڈ کا ہندی لفظ اب یہ 2019ء کا ہوگیا ہے۔ جس سمویدھان کے معنی کہ کسی نظام کو ترتیب وار رکھنا ہے۔ جو دورِ جدید کے مطابق ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سماج کے لیے جو طریقہ کار پسند کرتی ہے اُس کے لیے قانون بنایا جائے اور بنیادی اصول جس سے سیاست یا سماج بنتا ہے یا انفرادی جیسے افراد کو بھی اُس میں شامل کیا گیا ہے۔ سمویدھان کو منتخب کرنے کی کیا وجہ ہے؟ یہ ظاہری طور پر نظر آتاہے کہ ”ہندوستان کا دستور ایک نصابی کتابی تصور سے نکل کر حرکیاتی انداز میں صحیح وقتوں پر استعمال کے لیے ہے۔“ کارتک اگروال کے مطابق ہندی زبان چمپئن فار آکسفورڈ لینگویج میں اس کی تعریف کی گئی ہے۔
اس لیے یہاں پر طنزیہ طور پر اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے اس کی نمایاں خصوصیت عوام میں اس کی گفتگو پر منحصر ہے اور یہ نمایاں خصوصیت انسانی جسم میں اُن ہڈیوں کی طرح ہے جس سے اس کی شکل و صورت بنتی ہے۔ اکثر ان باتوں کو ہم ذہن سے نظر انداز کرتے ہیں۔ لیکن شعوری طور پر دماغ میں یہ بات آتی ہے کہ کس طرح اس کے ٹوٹنے سے ذہنی تکلیف پہنچتی ہے کہ کس طرح ہندوستان کی تعمیر بہت ہی کوششوں کے بعد کی گئی تھی۔ چند عرصے کے لیے اس کے اقدار کو جوں کا توں مان لیا گیا۔ لیکن سوسائٹی اور ریاست اب ایک دوسرے سے متصادم جو پچھلے چند برسوں سے چلا آرہا ہے اس میں کے جو اصولی بنیادی باتیں استعمال میں آرہی ہیں اُسے چیلنج کیا جارہا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چیلنج کرنے والے لوگ صحیح وہ راست ہیں۔
عقیدے اور مساوات کے درمیان کیا رشتہ پایا جاتا ہے؟ اور کس حد تک ریاست کو عقائدمیں مداخلت کرنی چاہیے۔ یا پھر فرد کے معاملات کو کیونکر متاثر کیا جاسکتا ہے؟ کیا ریاست اور مرکز متحدہ طور پر کام کرنے کی صلاحیت کو توڑا جاسکتا ہے؟ اور پھر یہ حقیقت ہے کہ شہریت کے لیے کیامذہب کا استعمال کیا جاسکتاہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سنویدھان کے بارے میں کیے جارہے ہیں۔ جس کا تعین و تعریف 2019ء میں کی گئی۔ آگے بڑھتے ہوئے دوسرے لفظ جو اُسی بنیاد پر ہیں کیا وہ ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ 1950ء میں بہت تفصیلی بحث و مباحث کے بعد دستور ساز اسمبلی نے سنویدھان کو منظور کیا۔ لیکن آج وہی سنویدھان سے اختلاف شاید ہوسکتا ہے کم یا زیادہ قسم کی اس کی اہمیت ہو۔ چونکہ اب دستور کے بارے میں بحث و مباحثہ اُسے کتابوں کی الماریوں سے نکال کر گلیوں پر لایا گیا ہے۔ کیا اس لیے کہ اُس میں جو اقدار ہیں اس کی تباہی ہورہی ہے۔ یاد رکھئے کہ نئی نسل نے اپنے آپ کو متعین کرنے کے ذرائع وسائل کو پالیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: