اسلامیات

سنن وضو

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (5) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ

دین کا وہ پسندیدہ طریقہ جو حضور پر نور ﷺ کے قول یا فعل سے ثابت ہو، مگر نہ وہ لازم ہو اور نہ چھوڑنے پر انکار ہو اور نہ حضورﷺ کے ساتھ مخصوص ہو، اس کو سنت کہتے ہیں ۔ سنت کی جمع سنن آتی ہے ۔ وضو کی سنتیں یہ ہیں:
(۱) نیت کرنا: یعنی دل سے وضو کا ارادہ کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
انما الاعمال بالنیات۔ (متفق علیہ)
نیت ہی سے عمل کا اعتبار ہے اور اسی پر ثواب کا دارو مدار ہے۔
(۲) بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھنا۔
کانَ النبی ﷺ اذا بدء الوضوءَ سمّٰی (رواہ البزار)
نبی کریم ﷺ جب وضو شروع کرتے تو بسم اللہ پڑھتے۔(زجاجہ ص۹۸)
سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ
منْ توضَّاءَ و ذکَرَ اسمَ اللّٰہِ فاِنَّہ یطْھُرُ جَسَدَہُ کلُّہُ، و من توضَّاءَ ولم یذکُرِاسمَ اللّٰہِ لم یطھر الا موضعَ الوضوءِ (رواہ دار قطنی، ا بو الشیخ نور الہدایہ، زجاجہ ص۹۷)
جو شخص اللہ کا نام لے کر وضو کرے تو اس کا پورا بدن پاک ہوتا ہے اور جو شخص وضو کرے اور اللہ کا نام نہ لے تو اس کا صرف دھونے کی جگہ پاک ہوتی ہے۔
یعنی بسم اللہ کے بغیر وضو ناقص رہتا ہے ۔
(۳) دونوں ہاتھوں کا کلائی تک تین بار دھونا۔
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھویا۔ (بخاری و مسلم)
(۴) مسواک کرنا۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
السواکُ مِطْھَرَۃٌ للفم مرضاۃٌ للرب۔ (رواہ الشافعی و احمد والدارمی والنسائی و رواہ البخاری فی صحیحہ بلا اسناد)
مسواک منھ کی صفائی اور اللہ کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔
اور بھی حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تفضل الصلوٰۃ التی یستاک لھا علیٰ الصلوٰۃ التی لا یستاک لھا سبعین ضعفا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
جس نماز کے لیے مسواک کی جائے وہ نماز اس نماز پر جس کے لیے مسواک نہ کی جائے ستر درجہ فضیلت رکھتی ہے۔
کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
ما أراکم قُلَّحاً اِسْتاکوا۔ (رواہ امامنا ابو حنیفۃ مرسلا)
میں تم کو پیلے دانتوں والا کیوں دیکھتا ہوں ؟ تم مسواک کیا کرو۔
کلی کرتے وقت مسواک کرے تاکہ منھ اچھی طرح صاف ہوجائے۔ اگر مسواک نہ ہوتو انگلی سے دانت کو ملے۔ (نور الہدایہ)
(۵) تین بار مضمضہ یعنی منھ میں پانی دے کر اس کو حرکت دے کر کلی کرنا مسنون ہے۔
عن ابی وائل شھدتُ علیا و عثمان توضا ثلاثا ثلاثا و افردا المضمضۃ من الاستنشاق ثم قالا: ھٰکذا رأیتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ توضاء۔ (التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر، کتاب الطھارۃ، باب سنن الوضوء)
(۶) تین بار ناک میں پانی ڈالنا اور اس کو صاف کرنا۔ حضرت کعب بن عمرو الیمانی کا بیان ہے کہ
کانَ النبی ﷺ توضا فمضمضَ ثلاثا، واستنشقَ ثلاثا یاخذ لکل واحد ماء ا جدیدا (رواہ الطبرانی)
نبی کریم ﷺ نے وضو کیا، پس تین بار کلی اور مضمضہ کیا، یعنی منھ میں پانی ڈال کر اس کو حرکت دی۔ تین بار ناک میں پانی ڈال کر چھڑکا۔ ہر ایک کے لیے نیا پانی لیتے تھے۔
ایک ہی چلو سے دونوں کام نہیں کرتے تھے اور یہی مسنون طریقہ ہے۔
(۷) ہر عضو کو تین تین بار دھونا مسنون ہے۔
ان النبی ﷺ توضاثلاثا ثلاثا و قال: ھٰکذا وضوئی و وضوء الانبیاء من قبلی۔ (رواہ الدارقطنی وغیرہ)
نبی کریم ﷺ ہر عضو کو تین تین بار دھوتے اور فرمایا: یہ میرا اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کا وضو ہے۔
(۸) داڑھی کا خلال کرنا مسنون ہے ۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ
کانَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ اذا توضاءَ اخذَ کفَّاً من ماءٍ ، فادخلہُ تحت حنکہِ فخلل بہ لحیتَہُ و قال: ھٰکذا امرَنی ربی۔ (رواہ ابو داود)
رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اپنے گلے کے نیچے داخل کرتے اور اس سے داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے : اسی طرح میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔
داڑھی کا نیچے کی طرف سے خلال کرنا ہی مسنون طریقہ ہے ۔
(۹) ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا مسنون ہے ۔
لقیط ابن صبرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے وضو کی خبر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
اسبغِ الوضوءَ و خلل بین الاصابع و بالغ فی الاستنشاق الا ان تکون صائما۔ (رواہ ابو داؤد و غیرہ و صححہ ابن خزیمہ)
وضو کامل کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔ اگر روزہ کی حالت نہ ہوتو ناک میں پانی چڑھانے اور سنکنے میں مبالغہ کرو۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا توضاء فخلل اصابع یدیک و رجلیک۔ (رواہ الترمذی وابن ماجہ وقال الترمذی حسن غریب کبیری ص۲۴)
جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔
(۱۰) ایک بار پورے سر کا مسح کرنا۔ مسح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کی شہادت اور انگوٹھے کو چھوڑ کر باقی انگلیوں کو ملا کر سر کے اگلے حصے پر اور ہتھیلی کو الگ رکھ کر پیچھے کی طرف کھینچ کر گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے لوٹائے ، اس طرح پر کہ دونوں ہتھیلیوں کو دونوں کنپٹیوں سے لگاتے ہوئے آگے کو لائے تاکہ پورے سر کا مسح ہوجائے۔ (محیط)
عن عبد اللّٰہ بن زید ان رسول اللّٰہ ﷺ مسحَ رأسَہُ بیدیہ فاقبل بھما و ادبر بدأ بمقدم رأسِہ ثم ذھب بھماالیٰ قفاہ ثم ردَّھما حتّٰی رجع الیٰ المکان الذی بدأ منہ ثم غسلَ رجلیہ۔ (رواہ الترمذی، و قال ھٰذا حدیث اصح شئی فی ھٰذا الباب و احسن، و رواہ البخاری مثلہ، زجاجہ ص۹۹)
حضرت عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اگلے پچھلے حصہ کا مسح کیا، سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا، پھر دونوں کو گدی تک لے گئے ۔ پھر دونوں کو لوٹایا، یہاں تک کہ اس جگہ پہنچایا جہاں سے شروع کیا تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا۔
(۱۱) دونوں کانوں کے اندر و باہر کا مسح کرنا۔ شہادت کی انگلیوں سے اندر کا اور انگوٹھوں سے اس کے باہر کا مسح کرے۔
حضرت عبدا للہ بن عمروؓ نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
ثم مسح برأسہ و ادخلَ اصبعیہ السباحتین فی اذنیہ و مسح ابھامیہ فی ظاہر اذنیہ (اخرجہ ابو داؤد و النسائی و صححہ ابن خزیمہ، بلوغ المرام ص۹)
پھر آں حضرت ﷺ نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں داخل کیااور اپنے دونوں انگوٹھوں سے دونوں کانوں کے ظاہر کا مسح کیا۔
اور کان کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے ، کیوں کہ کان بھی سر میں داخل ہے ۔ چنانچہ عبد اللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ
قال رسول اللّٰہ ﷺ الاذنان من الرأس۔ (رواہ ابن ماجہ و رویٰ الدار قطنی عن ابن عباس مثلہ قال ابن القطان اسنادہ صحیح لاتصالہ و ثقۃ رواتہ، زجاجہ، ص ۱۰۰)
(۱۲) داہنی طرف سے شروع کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا توضاتم فابدؤا بمیامنکم (اخرجہ الاربعۃ و صححہ ابن خزیمۃ، بلوغ المرام ص۱۰)
جب وضو کرو تو اپنے داہنے طرف سے شروع کرو۔
رسول اللہ ﷺ کوجوتا پہننے میں اور کنگھی کرنے میں اور طہارت کرنے میں (غرض) تمام کاموں میں داہنی جانب سے ابتدا کرنا اچھا معلوم ہوتا تھا۔ (بخاری، کتاب الوضوء )
(۱۳)ترتیب سے وضو کرنا، یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وضو کا ذکر کیا ہے، اسی ترتیب سے وضو کرنامسنون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حج کے بارے میں فرمایا:
ابدؤا بما بدء اللّٰہُ بہِ (نسائی)
جس طرح اللہ نے شروع کیا ہے، اسی طرح شروع کرو۔
آپ ﷺ کا وضو بھی اسی ترتیب سے ہوتا تھا۔
(۱۴) پے درپے وضو کو دھونا مسنون ہے، یعنی ایک عضو دھونے کے بعد دوسرا عضو دھونے لگ جائے ۔ دونوں کے درمیان اتنی تاخیر نہ کرے کہ پہلا عضو خشک ہوجائے۔
عن حمران قال: رأیت عثمان توضا فافرغ علیٰ یدیہ ثلاثا فغسلھا ثم مضمض ثلاثا واستنثر ثلاثا ثم غسل وجھہ ثلاثا، ثم غسل یدہ الیمنیٰ ثلاثا ثم الیسریٰ ثلاثا مثل ذالک ثم مسح رأسہ ثم غسل قدمیہ الیمنیٰ ثلاثا ثم الیسریٰ ثلاثا، ثم قال: رأیتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ یتوضاء من نحو وضوئی ھٰذا، ثم قال: من توضاء نحو وضوئی ھٰذا، و فی روایۃ مثل وضوئی ھٰذا ثم صلیّٰ رکعتین لایُحَدِّثُ فیھا نفسُہُ غُفِر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ (رواہ البخاری ومسلم و ابو داؤد والنسائی و احمد والدار قطنی وبن حبان وابن خزیمۃ، زجاجہ ص۱۰۷)
حضرت عثمانؓ کے غلام حضرت حمران کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان غنیؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپؓ نے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور اس کو دھویا۔ (کلائی تک) پھر تین بار کلی کی۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا۔ پھر تین بار منھ دھویا۔ پھر تین بار داہنا ہاتھ دھویا۔ پھربایاں اسی طرح تین بار دھویا۔ پھر سر کا مسح کیا۔ پھر تین بار دایاں پاؤں دھویا۔ پھر تین بار بایاں دھویا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: جو کوئی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ۔ پھر دو رکعت نماز پڑھے، جن میں اپنے دل سے کچھ بات نہ کرے، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
اس حدیث سے حسب ذیل باتوں کا ثبوت ہوا:
(۱) تین بار دونوں ہاتھوں کا کلائی تک دھونا۔
(۲) تین بار کلی کرنا۔
(۳) تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔
(۴) تین بار ہر عضو کو دھونا۔
(۵) ایک مرتبہ سر کا مسح کرنا۔
(۶) قرآنی ترتیب سے وضو کرنا۔
(۷) پے درپے دھونا۔
(۸) ہر عضو کو دائیں طرف سے دھونا۔
(۹) تحیۃ الوضو کا پڑھنا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: