اہم خبریں

سورج گرہن : حقیقت ، اعمال اور احکام

مفتی مبین الرحمٰن

فلکیاتی رو سے سورج گرہن ظاہری طور پر اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آجائے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے ، جبکہ دین اسلام کی رو سے سورج گرہن کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی اہم نشانیوں میں سے ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کا اظہار فرماتے ہیں ، اپنے بندوں کے دلوں میں خوف خشیت پیدا فرماتے ہیں اور اپنے عذاب سے ڈراتے ہیں ۔ ایک مؤمن کا یہی عقیدہ ہے کہ سورج اور چاند سمیت کائنات کا یہ سارا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکم کے تحت جاری وساری ہے ، اس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ کے تحت ہوتی ہیں ، یہی حال سورج گرہن کا بھی ہے ۔ اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بندے نماز ادا کرکے ، توبہ واستغفار اور ذکر کرکے اور صدقہ دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ، اس کی عظمت وجلال کا اعتراف کریں ، دلوں میں اس کی خشیت پیدا کریں اور عذابِ الہٰی سے پناہ مانگیں ۔

☀️ *سورج گرہن کی حقیقت اور اعمال سے متعلق احادیث مبارکہ :*
متعدد احادیث مبارکہ میں سورج گرہن کی حقیقت اور اس وقت کیے جانے والے اعمال کا ذکر موجود ہے ۔ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں :
1⃣ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن لوگوں میں سے کسی کی موت ہوجانے پر نہیں ہوتا ، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اس لیے جب تم سورج اور چاند گرہن ہوتا ہوا دیکھو تو اُٹھ کر نماز ادا کرو ۔ (صحیح بخاری ابواب الکسوف)
2⃣ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) حضرت ابراہیمؓ کے فوت ہونے کے دن سورج گرہن ہوگیا ، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے ، تو حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا ، اس لیے جب تم گرہن ہوتا ہوا دیکھو تو تم نماز ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔
(صحیح بخاری ابواب الکسوف)
3⃣ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سورج اور چاند گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو ، تکبیرات پڑھو ، نماز ادا کرو اور صدقہ کرو ۔
(صحیح بخاری ابواب الکسوف)
4⃣ حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ کی ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر ، دعا اور استغفار کی طرف متوجہ ہوجاؤ ۔ (صحیح بخاری ابواب الکسوف)
5⃣ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ، تکبیر اور تسبیح کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ سورج یا چاند گرہن ختم ہوجائے ۔
(صحیح ابن خزیمہ حدیث 1372)

☀️ *سورج گرہن کے وقت احادیث سے ثابت ہونے والے اعمال :*
سورج گرہن کے وقت احادیث مبارکہ سے متعدد اعمال ثابت ہیں جیسے :
1⃣ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا اہتمام کرنا ۔
2⃣ سورج گرہن کی نماز ادا کرنا جس کو نمازِ کُسُوف کہتے ہیں ۔
3⃣ دعاؤں کا اہتمام کرنا ، توبہ واستغفار کرنا اور عذابِ خداوندی سے پناہ مانگنا ۔
4⃣ ذکر وتسبیحات کا اہتمام کرنا ۔
5⃣ حسبِ وسعت صدقہ دینا ۔

☀️ *سورج گرہن سے متعلق تَوَہُّمات کی حقیقت :*
سورج گرہن کی حقیقت اور اعمال سے متعلق شریعت کی تعلیمات ماقبل میں بیان ہوچکیں ، ان کے علاوہ عوام میں رائج توہمات کا قرآن و سنت سے کوئی ثبوت نہیں ، اس حوالے سے جامعہ اشرف المدارس کراچی کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :
سورج اور چاند گرہن کے موقع پر عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ حاملہ عورت اگر کمرہ سے باہر نکل جائے تو اس کے حمل کی جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے یا اگر کوئی شخص اس حالت میں سورج کی طرف دیکھے تواس کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے یا بالکل چلی جاتی ہے ، ایسی کوئی بات شرعی دلیل سے ثابت نہیں اور ایسا اعتقاد رکھنا بھی درست نہیں ، البتہ اس معاملہ کا تعلق چونکہ جسمانی صحت سے ہے اس لیے سورج گرہن کے مؤثر ہونے کا عقیدہ رکھے بغیر اگر کوئی احتیاط کرے تو کوئی مضائقہ بھی نہیں ، اسی طرح سورج گرہن کے موقع پر تجربہ یا تحقیق سے کسی اور امر کا نقصان دہ ہونا ثابت ہو جائے تو شرعًا کوئی عقیدہ رکھے بغیر اس سے احتیاط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
(فتویٰ نمبر : 148\ 28 ، مؤرخہ: 26 ربیع الثانی 1440ھ)

☀️ *سورج گرہن سے متعلق بنیادی مسائل :*
1⃣ سورج گرہن کے وقت دو رکعات نماز ادا کرنا سنت ہے جس کی احادیث میں تاکید آئی ہے ۔ اس نماز کا وہی طریقہ ہے جو عام دو رکعات نفل نماز کا ہے ، اس لیے ہر مسلمان مرد اور عورت کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ البتہ اگر کسی کو نماز کی ادائیگی کا موقع نہ ملے تو اسے دعاؤں ، استغفار اور ذکر و تسبیحات میں مشغول رہنا چاہیے ۔ (رد المحتار)
2⃣ نمازِ کسوف باجماعت ادا کرنا سنت ہے ، اس لیے مرد حضرات مساجد ، عیدگاہ یا کھلے میدان میں باجماعت نماز کرنے کا اہتمام کریں ، البتہ اگر کہیں جماعت کا انتظام نہ ہو تو انفرادی طور پر نمازِ کسوف ادا کرلی جائے ۔ البتہ خواتین کو یہ نماز گھروں میں انفرادی طور پر ہی ادا کرنی چاہیے ، جو خواتین حیض و نفاس کی وجہ سے نماز ادا نہیں کرسکتیں تو وہ دعاؤں ، استغفار اور ذکر و تسبیحات میں مشغول رہیں ۔
3⃣ نمازِ کسوف کے لیے اَذان واقامت سنت سے ثابت نہیں ، اس لیے یہ نماز اذان واقامت کے بغیر ادا کی جائے گی ، البتہ لوگوں کو جمع کرنے کے لیے مناسب الفاظ میں اعلان کرنے میں حرج نہیں ۔ (رد المحتار)
4⃣ نمازِ کسوف صرف انھی اوقات میں ادا کرنا جائز ہے جن میں نفل نماز ادا کرنا جائز ہے ، اس لیے یہ نماز مکروہ اوقات میں ادا کرنا جائز نہیں ۔
(رد المحتار)
5⃣ نمازِ کسوف طویل ادا کرنی چاہیے ، جس میں قیام ، رکوع ، سجدے دعائیں ، تسبیحات واَذکار وغیرہ طویل ہونے چاہیے ۔ (رد المحتار)
6⃣ نمازِ کسوف ادا کرنے کے بعد سورج گرہن ختم ہونے تک دعاؤں ، توبہ و استغفار اور ذکر وتسبیحات میں مشغول رہنا چاہیے ۔ ایسے میں اگر امام اور مقتدی مل کر دعا کرلیں اور مقتدی آمین کہتے جائیں تو یہ بھی درست ہے ۔ (رد المحتار)
7⃣ نمازِ کسوف میں قرأت آہستہ آواز سے کہی جائے گی یا بلند آواز سے ؛ تو روایات سے دونوں طریقے ثابت ہیں ، اس لیے دونوں ہی درست ہیں، البتہ چوں کہ یہ نماز طویل ہوتی ہے اس لیے اگر لوگوں کی نشاط اور توجہ برقرار رکھنے کے لیے آواز سے قرأت کرلی جائے تو بہتر ہے ۔
اس حوالے سے جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ہے کہ :
نمازِ کسوف میں امام قرأت آہستہ آواز سے کرے گا یا جہری قرأت کرے گا ؛ اس میں ائمہ کرام کے درمیان اختلاف ہے ، امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس میں قرأت سرّی ہے جبکہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے ایک قول کے مطابق اس میں قرأت جہر ی ہے ، اور کتب احادیث میں دونوں قول کے مطابق روایات ملتی ہیں ، اس لیے دونوں طرح قرأت کرنا جائز ہے اور ہر طرح قرأت کرنے سے نماز درست ہو جائے گی ، البتہ ابن عربی رحمہ اللہ نے جہرًا قرأت کو اولیٰ قرار دیا ہے اور صاحبِ "اعلاء السنن” علامہ ظفراحمد عثمانی کار جحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے ۔ (فتویٰ نمبر: ۲۰۰/ ۳۸)

✍۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
27؍ ربیع الثانی 1441ھ/ 25؍ دسمبر 2019ء

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: