مضامین

سوویں یوم وفات پر حضرت شیخ الہند کی کچھ یادیں

سوویں یوم وفات پر حضرت شیخ الہند کی کچھ یادیں
===============
صدیوں تک ہندوستان پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار وغلبہ رہا ہے،
پھر قدرتی ذرائع، تاریخی آثار و نشانات اور دیرینہ تہذیب وتمدن سے مالامال ان زمینوں پر رفتہ رفتہ غیر ملکی افواج کے تسلط کے نتیجے میں (مسلمانوں کی حکومت) کا خاتمہ ہوگیا۔
چناں چہ ملک کی اکثریت برطانوی سامراج کی زنجیروں میں قید ہوگئی ؛ جس کے نتیجہ میں باشندگان ہند کے چنیدہ حضرات اس بات مجبور ہوئے کہ : سامراجیوں سے اس ملک کی باز یافتگی کے لیے سرگرم عمل ہوجائیں۔
جن میں( ایک کلیدی شخصیت) حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ہیں ، آئندہ نومبر میں آپ کی وفات پر ایک صدی مکمل ہو نے کو ہے۔
اس یادگار موقع پر ہندوستان آپ کی سرفروشانہ تحریک کے دوران آپ کی کامیابیوں کو زندہ کرنے پر جشن مناتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ : حضرت شیخ الہند ان مخلص ترین وفاداروں میں ہیں ، جن کی فطرت میں وطن کی خدمت اور اس پر قربان ہونے کا جذبہ تھا ۔
آپ کی زندگی مذہبی اور قومی شراکت سے بھری پڑی تھی
جسے مختصراً دو مرحلوں میں بیان کیا جاسکتا ہے:
پہلا : آپ کی زندگی احاطۂ دارالعلوم میں فکر اسلامی کی حامل نسلوں کو مہذب بنانے میں ممتاز تھی
دوسرا: (ہندوستان پر) ناجائز قبضے کے خلاف شدید مزاحمت میں آپ کی زندگی نمایاں تھی۔

یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ: دارالعلوم دیوبند کو ایسی سوچی سمجھی کوششوں کے تناظر میں قائم کیا گیا جس کا مقصد معتدل اسلامی عربی فکر کو سبز وشاداب نخلستان کی فراہمی اور جنوب ایشیا کے خطے میں اس کی پیداوار کی نشو و نما ہے،

حضرت شیخ الہند ، دارالعلوم سے سند فضیلت حاصل کر نے والی پہلی جماعت کے سربراہ تھے۔

آپ اپنی علمی زندگی کے دوران اسلامی علوم کا مطالعہ
انتہائی گہرائی و گیرائی سے کرتے تھے
یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت ایک مضبوط مذہبی اور پختہ رہنما کی حیثیت سے ممتاز تھی،
آپ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور افکار ونظریات کو صاف وشفاف کرنے میں حضرت نانوتوی کی تربیت کا اثر ہے۔
حضرت شیخ الہند ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے جس میں ہندوستان سامراج کی وجہ سے چینخ رہا تھا ،
جب کہ ہندوستان میں 1857م کا زبردست انقلاب ناکام ہوگیا تھا
جس کو مسلم مجاہدین کی بڑی تعداد نے اپنے خونوں کو بہا کر انجام دیا تھا؛

چناں چہ آپ اس بات کی طرف راہ یاب ہوئے کہ: آپ نے عربی تعلیم وتربیت اور اسلامی دعوت کا جال بنایا،
اس سلسلے کو ہندوستان اور بیرون ہندوستان میں پھیلایا، اور اس کو عظیم اسلامی درس گاہ دارالعلوم دیوبند سے مربوط کردیا۔

آپ کی خلوص نیت اور بلند مقاصد کے نتیجے میں خدا نے اپنی مدد اور اسلامی افکار کے حامل ماہرین کی ایک جماعت کے ذریعے آپ کی تایید کی، جنہوں نے ہر مشن میں اپنے قائد کو تقویت پہنچائی ،

چناں چہ آپ کی سربراہی میں ان کی زبان وقلم کو اس نظریہ کی تشکیل میں ایک قائدانہ کردار ملا، جس کے ذریعے ، آزادی کی جد و جہد کے دوران، فکری بحران سے نمٹنے میں ہندوستانیوں کو مدد ملی،

آپ تربیتی اور انتظامی سرگرمیوں کو انجام دینے میں لگے تھے ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی بقیہ زندگی کو ہندوستانی عوام کے مفادات کے تحفظ کی خاطر سیاسی ماحول کی تدبیر کے لیے خاص کر لیا ، اور آپ نے سامراج کے ڈھانچے کو اتنی شدت کے ساتھ جھٹکا دیا کہ وہ دوبارہ ٹھہر نہ سکا،
آزادی کی تحریک اس فتویٰ کے ذریعے اٹھی ، جسے شاہ عبد العزیز دہلوی نے 1803م صادر فرمایا، جس کو سامراج سے مقابلہ کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے،

جب حضرت شیخ الہند، انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اپنے متبعین کی ایک بہادر جماعت کے ساتھ اس تحریک سے جڑے، تو آپ نے اس میں نئی روح پھونک دی،
کیوں کہ سامراجیوں کے خلاف مشتعل کرنے کے لیے ، ہندوستان کے مغربی علاقے میں بکھرے ہوئے قبائل کے شیرازے کو متحد کرنے میں آپ کا ایک نمایاں کردار تھا،

آپ پوری زندگی، وطن اور عوام کی خدمت کی خاطر فیصلہ کن چیلنجوں کے آگے، اخلاص و قربانی کی علامت بن کر جمے رہے، یہاں تک کہ آپ کو گرفتاری اور مالٹا جانے کی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا ؛ چناں چہ آپ کے مقدر میں نہیں تھا کہ آپ اپنے لگائے ہوئے بلند وبالا درختوں کے پھلوں کو توڑ سکیں؛ کیوں کہ قبل اس کے کہ ہندوستان، عالمی نقشہ میں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے سامنے آتا ، آپ کے پاس وقت مقرر آپہونچا، ( اور آپ راہی ملک عدم ہوگئے)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ : آپ کے روشن عظیم کارنامے زندہ ہیں، آپ کی عظمت کے گواہ ہیں، جس سے آپ کی خوش بو مہکتی ہے ، اگر چہ آپ کا جسم مٹی میں فنا ہوگیا،

آپ کی قائدانہ صلاحیت، حضرت نانوتوی کے نظریہ کو نافذ کرنے کے لیے، اسٹریٹیجک منصوبہ کو وضع کرنے اور دوبارہ تشکیل دینے کے سلسلے میں ، کھلے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔

آپ علیہ الرحمہ کا امتیاز ہے کہ آپ نے سیاسی اور تعلیمی آزادی کے دوران چند تحریکیں چلائیں، جن کے نام درج ذیل ہیں: "ثمرة التربية ” ، "جمعية الأنصار ” ، ” نظارة المعارف القرآنية ” ، "رسائل الحرير”، "جمعية علماء الهند”، ” جامعہ ملیہ اسلامیہ ”
جن میں سے ہر ایک آپ کی بلند خیالی، روشن دور نگاہی، جد وجہد میں ثابت قدمی، سیاسی بصیرت، نشانات کی بقا اور عمدہ جاں بازی کا پتہ دیتے ہیں۔

آپ کے علم ،جہاد ، تحریکوں اور دیگر علماء ومزاحمین کے ذریعے ، ہندوستانی عوام ، غاصبین کے خلاف جہاد کرنے لگ گئی،
نتیجتاً ملک کی آزادی کا راستہ ہموار ہوگیا،
آپ کی وفات پر مکمل ایک صدی گزر جانے کے باوجود ، آج تک، جد وجہد کے میدانوں میں جانشین اپنے اسلاف کے مقابلے کی باز گشت سنتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: