اہم خبریں

سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل تقسیم ھند کی سازش ۔

شاہد اقبال قاسمی جہازی

یہ صدی ٹیکنالوجی کا ہے ہر ملک اپنے اپنے ایجادات کے ذریعہ اپنا لوہا منوارہاہے اور اپنی معیشت کو تیزی سے آگے بڑھانے کے تگ و دو میں ہے پر ھمارا ملک ھندوستان ابھی تک اپنے باشندوں کے شناخت کویقینی بنانے کے لئے سٹیزن شپ امنڈ منٹ بل میں ترمیم کررہا ہے اورعوام کی تہذیب ،تمدن، کلچر، اداب و معاشرات داو پر ہے وہ صبح و شام سراپا احتجاج میں اپنی انرجی اور علمی لیاقت اس کو بچانے کے تئیں روڈ پر ہیں، کہیں گاڑی کو نذر آتش کر کہیں ملکی بغاوت کا خمار لئے،ہاتھ میں کالا جھنڈا اٹھائے ملک کو شرپسند عناصرکے شیطنت سوچ سےپاک کرنے کے لئے مظاہرے کررہے ہیں،دنیا کو انقلابی مین پاور دینے والا ملک احتجاج ومظاہرہ کا سامنا کررہاہے ایسا اس تک ہوتارہے گا جب تک ملک میں نااہلوں کی حکومت ہے ۔
سب سے پہلے ھم جانتے ہیں کہ سٹیزن شپ امنڈ منٹ بل کیا ہے ۔جب ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اس کے ساتھ ہی تقسیم وطن نے اس کو کھوکھلا کردیا۔ پاکستان اور ہندوستان میں لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری تھا ایسے حالات میں ملک کی حفاظت کے خاطر شہریت قانون بنانا ضروری تھا تو اسی کے پش۔ نظر آزادی کے 8 سال بعد 1955 میں قانون بنایا گیاجوہندوستانی شہریت ایکٹ کی بنیاد ہے جس کے ذریعہ تمام ریاستوں کے ہندوستانیوں کو شہریت فراہم کی گئی تھی۔ جس سے ہندوستانی عوام کو ایک شہریت کی چھتری کے نیچے لایا گیا۔مودی حکومت نے ایک نیا بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس کرالیا ہے اس نئے ترمیم شدہ بل کےذریعہ بھارت کےموجودہ شہریت قانون سن 1955میں ترمیم کیاگیا ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سےآنےوالےہندوؤں، سکھوں، بودھ، جین، پارسی اور مسیحی مذہب کےلوگوں کوشہریت دی جائےگی۔ ایسے افراد کو اب بھارت میں صرف چھ برس رہنےکے بعد ہی شہریت مل جائےگی۔ اب تک اس کےلیےانہیں کم از کم گیارہ برس انتظار کرناپڑتاتھا۔اس بل میں کہاگیاہےکہ یہ قانون صرف ہندوؤں، سکھوں، بودھ، جین، پارسی اور مسیحی مذہب کے لوگوں کےلئےہے مسلمان اس سے خارج ہیں۔
اس بل کا ذکرسب سے پہلےبی جے پی نے 2014کے منی فیسٹو میں کیااور اس بل میں ترمیم کے تعلق سے بات مودی حکومت کے پہلے دورمیں پارلیامنٹ میں بل کی تجویز پہلی بار پیش کی گئی تھی۔ اس وقت ایوان بالا مںل بل کی حمایت حاصل کرنے مںس ناکام رہنے کی وجہ سے بات وہی ختم ہوگئی تھی ۔پھر دوبارہ اس بل کو پورے زورو شور کے ساتھ ایون زریں میں رکھا جس میں بی جےپی کی اکثریت حاصل ہے تمام تر مضبوط دلائل کے باوجود کہ یہ بل نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کےلئے زہر قاتل ہے، آئین ھند کے خلاف اور ھمارے دستور کے منافی ہے ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو پاس کرادیاگیا۔لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد تمام کی نظریں ایوان بالاپر تھی پر یہ ستم ظریفی تودیکھئے کہ جس پرکروڑوں لوگوں کا بھروسہ تھا امیدیں وابستہ تھیں ان کےارمانوں کا خون ہوا اور بالآخر وہ راجیہ سبھا میں بھی پاس ہوگیا، ایک بارپھر سے ھمارا ملک تقسیم ہوگیا یہ الگ بات ہے پہلے زمینی تقسیم ہوا اور اب مذہبی اورفکری ۔۹ دیسمبر تقریبا شام آٹھ بجے کا وقت ھمارے لئے منحوس اور وہ رات ہزار اماوس کی رات سے زیادہ ڈراونا اور اگلا دن تاریخ ھندوستان کا سیاح دن ثابت ہوا ۔اس بل کا پاس ہونا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے ھم پھر اس سمت جانے والےہیں جہاں خون کی ندیاں بہیں گی،خانہ جنگی کے سبب حالات ابترہونگے ،بھائی بھائی کا دشمن اور ظلم و ستم کا راج اور ھمارا سوپر پاور بننے کا سپنا شرمندہ تعبیر ہونے سے پہلے ملک کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا ۔یہ بات یاد رہے کہ ھمارا ملک دو بار تقسیم ہوچکاہے ایک مذھب کے نام اور دوسرا سنسکرتی کے نام پر اب ھم اس کو مزید تقسیم نہ ہونے دیں ورنہ ھم اور ھمارا خواب تقسیم ہوکر اپنے وجود کو بھسم کردینگے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: