اسلامیات

سچا نوجوان

مورخ ملت مولانا سید محمد میاں صاحب

ایک نوجوان کو علم حا صل کر نے کاشوق پیدا ہوا۔جہاں وہ رہتے تھے،وہاں کوئی بڑا مدرسہ، یا کوئی بڑا عالم نہیں تھا۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا۔والدہ زندہ تھیں۔انھوں نے والدہ سے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں بغداد جاؤں اور وہاں مدرسہ میں داخل ہوکر علم حا صل کروں۔
بغداد ایک بہت بڑا شہرہے۔وہاں بڑے بڑے مدرسے تھے اور وہاں بہت سے عالم اور بڑے بڑے ولی اللہ گزرے ہیں۔
نوجوان نے اپنی وا لدہ سے عرض کیا:اچھی اماں!مجھے اجا زت دیجیے،میں علم حا صل کروں۔
اماّں جان!بے پڑھا لکھا آدمی جا ہل کہلاتا ہے۔جا ہل کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔جاہل اندھوں کی طرح ہو تاہے۔ اس کو نہ دنیاکی خبر ہوتی ہے، نہ دین کی۔ اماّں جان! جہالت ایک طرح کی موت ہے۔ایک طرح کی اندھیری ہے۔
علم روشنی ہے۔علم زندگی ہے۔ علم والے کا نام دنیا میں بھی ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اللہ میاں کے یہاں بھی اس کی عزّت ہو تی ہے۔ علم کے بغیر عبادت بھی ٹھیک نہیں ہو تی۔
والدہ بہت نیک بی بی تھیں۔ اللہ کو یا د کرنے والی۔رات دن قرآن شریف پڑھناان کا مشغلہ تھا۔انھوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہونہار لڑکے کو علم کا شوق ہے،خدا کا شکر اداکیا کہ علم جیسی قیمتی چیز کا شوق ان کے بچہ کو ہوا،کسی بری بات کی لت نہیں لگی۔
اس نیک بی بی کے پاس چالیس اشر فیا ں تھیں۔یہی ان کی کل پونجی تھی۔والدہ صاحبہ نے اپنے ہونہار نور چشم کے سفر کے لیے توشہ تیا ر کیا، اور یہ چالیس اشرفیا ں اَچکن کی آستین میں بغل کے پاس اس طرح سی دیں کہ بغل میں چھپ گئیں۔
جب سفر کا سا مان تیار ہو گیا۔والدہ نے لخت جگر کوخدا کے سپر د کیا اور رخصت کرتے ہوئے فر ما یا:بیٹا!تمھیں ایک نصیحت کر تی ہوں،اس کو گرہ سے باند ھ لو،ہمیشہ اس کو یا د رکھنا،ہمیشہ اس پر عمل کر نا۔نصیحت یہ ہے:جب بھی بولو، سچ بو لو۔دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ہے: سچ نجات دلاتا ہے، سچ سے انسان مصیبت سے بچ جا تا ہے، سچ انسان کی جان بچاتا ہے۔
اس زمانہ میں ریل نہیں تھی، موٹریں اور بسیں بھی نہ تھی، لوگ اونٹ اور گھوڑوں پر یا پیدل سفر کیا کر تے تھے۔اور چوں کہ چوروں اور ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا تھا، اس لیے بہت سے آدمی ساتھ سفر کیا کر تے تھے، اس کو قافلہ کہا جا تا ہے۔ایک قافلہ بغداد جا رہا تھا۔یہ نوجوان بھی اس قافلہ کے ساتھ ہو لیے۔ قافلہ چلتا رہا۔ایک روز ایک پہاڑی کے پاس سے قافلہ گزر رہا تھا کہ اس پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا۔سارے قافلہ کا مال وسامان لوٹ لیا۔ایک ڈاکو نے اس نوجوان کو بھی گھیر لیا۔سارا سا مان چھین لیا۔
تیرے پاس اور کیا ہے؟ ڈاکو نے کہا۔
میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں۔
نوجوان نے بڑے اطمینا ن سے جواب دیا۔
ڈاکو ………………مذاق کر تا ہے؟
نوجوان ………………نہیں۔
نوجوان کو با ربار اپنی ماں کی نصیحت یا د آرہی تھی۔پیاری اماّں نے کہاتھا:ہمیشہ سچ بولنا۔ نوجوان سوچ رہا تھا: میں ایک نیک کام کے لیے جارہا ہوں، میں علم حاصل کر نے جا رہا ہوں۔جو لڑکا علم حا صل کرنے جاتا ہے،وہ گو یا جنت کی طر ف جا رہا ہے۔علم حا صل کرنے کے لیے جانا ثواب کا کام ہے۔ فرشتے اس کے لیے پر بچھا تے ہیں۔نوجوان دل میں کہہ رہا تھا:میں عالم بننے جا رہا ہوں۔عالم نبیوں کے وارث ہوتے ہیں۔میں نبیوں کا وارث بننے جا رہا ہوں۔
نوجوان خیال کر رہا تھا: میں سیّد ہوں۔میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی اولاد میں ہوں۔ مجھے جھوٹ بولنا کسی طرح زیبا نہیں۔چالیس اشرفیاں تو کیا؛جان بھی جاتی رہے، میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔
ایک مسلمان جھوٹ نہیں بول سکتا۔ چاہے اس کو کوئی خوف ہو، پھر بھی وہ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔تعریف کی بات یہی ہے کہ خوف اور خطرہ کے وقت سچ بولے۔ نوجوان دل دل میں یہ با تیں سوچ رہا تھا اور اپنے ارادہ میں مضبوط ہورہا تھا۔
اتنی دیر میں ایک دوسرا ڈاکو اس کے پا س پہنچا۔اس نے نوجوان کا ہاتھ جھٹک کر کہا:
تیرے پاس کیا ہے؟
نوجوان ……………… چالیس اشرفیاں۔
نوجوان نے ایسی لا پرواہی اور اطمینان سے جواب دیا کہ ڈاکو حیران رہ گیا۔ وہ اوّل سمجھا کہ مذاق کر رہا ہے۔ پھر خیال کیا کہ مذاق کا یہ کیا موقع ہے؛جب بڑے بڑے آدمی بد حواس ہیں؛ تو اس نوجوان کی کیا ہمت ہوسکتی تھی کہ مذاق کرے۔اس نے حیران ہوکر یہی سوچاکہ اس نوجوان کو سردار کے پاس لے چلو۔یہ کوئی معمولی لڑکا نہیں ہے۔
وہ ڈاکو نوجوان کو سردار کے پاس لے گیا اور سارا واقعہ اس کو سنایا۔سر دار کو حیر ت ہو ئی۔ اس نے غور سے نوجوان کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔سادا نوجوان،چہرے سے شرافت ٹپکتی تھی،معلوم ہوتا تھا کہ سمجھ اور نیکی کا پتلا ہے۔ سر دار نے تہذیت اور شرافت سے پوچھا:صاحبزادے!تم کون ہو؟ کہاں کے رہنے ولے ہو؟
نوجوان ……میرانام عبدالقادر ہے۔جیلان کا رہنے والا ہوں۔
سردار ………………کہاں جارہے ہو؟
نوجوان ………………بغداد شریف۔
سردار ………………بغداد جا کر کیا کرو گے؟
نوجوان ………………علم حا صل کرنے جا رہا ہوں۔
سردار ………………اچھا تمھارے پاس کچھ دام ہیں؟
نوجوان ………………
جی ہاں،میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں۔
سردار …………………………کہاں ہیں؟
نوجوان: یہ ہیں بغل کے نیچے۔اچکن کی آستین میں، میری والدہ نے سی دی تھیں۔
سر دار: تم بہت سیدھے ہو،ایسی چھپی ہوئی چیز کو یوں بتادیا کرتے ہیں؟
نوجوان: کہیں مسلمان جھوٹ بولا کر تے ہیں!۔
اس گفتگو نے ڈاکوؤں کے سردار کے دل پر بہت اثر کیا،جیسے و ہ خواب غفلت میں سورہاتھا،اب اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ بہت شرمندہ ہوا۔ وہ دل دل میں کہنے لگا:یہ نوجوان بچہّ اسلام کے حکم کا کتنا پابند ہے۔اور ہم مسلمان ہوکر اسلام کو بد نام کررہے ہیں۔یہ بچہّ ایک دفعہ جھوٹ بولنے کو تیا ر نہیں۔ اور ہم اپنے بچوں کو جھوٹ کی مشق کراتے ہیں۔ خود بھی رات دن جھوٹ بولتے ہیں۔خدا کی مخلوق کو تباہ کر تے ہیں۔اپنے بھائی بہنوں کو ستاتے ہیں۔ان کی گاڑھی کمائی برباد کرتے ہیں۔تُف ہے ایسی زندگی پر۔ندامت سے اس کا سر نیچا ہو گیا۔آنکھوں سے آنسو جا ری ہو گئے۔وہ کھڑا ہوا۔شریف نوجوان کو اس نے سینہ سے لگایا اور معافی مانگنے لگا۔
اب شریف نوجوان کو بھی جوش آگیا۔اس نے درد بھرے انداز میں کہا: مجھ سے معافی مانگنا کوئی چیز نہیں، خدا سے معافی مانگو۔جس کی مخلوق کو آپ پریشان کر تے ہیں،اس سے توبہ کرو۔ڈاکوؤں کے سردار نے اس شریف نوجوان کے ہاتھ پر اپنے تمام گنا ہوں سے توبہ کی اور آئندہ ایک نیک آدمی کی طرح رہنے کا عہد کیا۔اس کے تمام ساتھیوں نے بھی توبہ کی۔تمام قافلہ والوں سے معافی مانگی اور جو کچھ لوٹا تھا، سب واپس کر دیا۔یہ سب اللہ کے نیک بندے ہو گئے۔
دیکھو بچو!
اگر یہ نوجوان سچ نہ بولتے، جھوٹ بولتے؛تو ان میں یہ ہمت نہ ہوتی۔ ان کے چہرہ پر گھبراہٹ ہوتی۔ڈاکو ان کی گھبرہٹ دیکھ کر سمجھ جاتے کہ اس کے پاس کچھ اور بھی ہے۔وہ نوجوان کو مارتے پیٹتے۔ممکن تھا جان سے مار ڈالتے اور تلاشی لے کر رقم بھی لے لیتے۔رقم بھی ختم ہو تی اور جان بھی جاتی؛ مگر سچائی نے نوجوان کو نجات دلادی۔
اس شریف نوجوان کی جان محفوظ رہی، عزت محفوظ رہی؛بلکہ بہت بڑھ گئی۔ اشرفیاں محفو ظ رہیں۔قافلہ والوں کا مال واسباب واپس ملا۔عمر بھر کے چوروں اور ڈاکوؤں نے تو بہ کی۔ وہ سچے اور نیک مسلمان بن گئے۔یہ تمام باتیں سچائی کی برکت سے ہوئیں۔
اس لیے تمھارا بھی فرض ہے کہ ہمیشہ سچ بولو، جوبات دل میں ہو، وہی ٹھیک ٹھیک زبان سے کہو۔جو بات بیان کرو، ٹھیک اسی طرح بیان کرو، جیسا کہ تم نے اسے دیکھا، یا سنا ہو۔
یہ پڑھ چکے ہو کہ اس فرشتہ صفت شریف نوجوان کا نام نامی سیّد عبد القادر جیلانی تھا۔یہ بہت بڑے ولی اللہ ہوئے ہیں۔اولیاء اللہ کے سر تا ج ہوئے ہیں۔سارے مسلمان ان کی عزت کر تے ہیں۔ان کو پیران پیر، (پیروں کے پیر) بڑے پیر صاحب اور پیر دست گیرکہتے ہیں۔
د عاکرو،اللہ تعالی ٰ سر تاج اولیا، حضرت مولانا سید عبد القادر ؒ جیلانی کے طفیل میں ہم سب کو سچائی کی توفیق بخشے،سچا مسلمان بنائے (اٰمین)۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: