مضامین

سچ کے نام پر بھاجپا جھوٹ کو مسلط کررہی ہے

ترجمہ و تلخیص: محمد بہاء الدین ایڈوکیٹ، ناندیڑ

CAA,NRC کی ملک بھر میں مخالفت ہورہی ہے جس میں چند باتوں کا خلاصہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اختلاف خود کی سیاسی روٹی سینکنے کے لیے ہے جس کے تحت منظم مشنری کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لوگوں کے سامنے سچ کہنے کے بجائے اس پرچار کے ذریعے سے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ تاکہ سچ کو چھپایا جاسکے۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن کو سچائی لوگوں تک پہنچائیں۔جس کی وجہ سے لوگوں میں تذبذب پیدا نہیں ہوگا اور پھر اس ایکٹ کو دستوری اقدار کے تناظر میں جانچ لے سکتے ہیں۔
یہ قانون کا مطلب ہندو بنام مسلم سمجھنا نہیں چاہیے۔ مسلم سماج CAA,NRC کی مخالفت کررہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے پہلے انہیں اس کے نتائج کو سمجھنا چاہیے۔ این آر سی نے شخصی شہریت کو ثابت کرنے کی ذمہ داری ہر شہری پر ڈال دی گئی ہے۔ یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے۔ آسام میں این آر سی کا تجربہ کرتے وقت دونوں یعنی ہندو، مسلم سماج کو اس کا تجربہ ہوا۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن میں آسام کے 19 لاکھ لوگوں کا اندراج نہیں ہوسکا۔ جس میں ہندو، مسلم ان دونوں سماج کا تناسب ہمیں نظر آتا ہے۔
جس میں خود کی شہریت کو ثابت کرنے کے لیے غریبوں کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور بالخصوص عورتوں کو۔ جن میں مسلمان بھی ہیں ہندو بھی ہیں۔ ہر طرح کی سہولتیں ہونے کے باوجود اس قانون کی تکلیف ہر شخص کو جھیلنی پڑتی ہے۔ اس سے لوگوں میں تقسیم ہندو مسلم یا ذات، دھرم کرنے کے لیے CAA اور NRC کا مقصد صاف نظر آتاہے۔ CAA قانون سے مسلمانوں کو شہریت دینے سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ یہ سیدھے سیدھے دستورِ ہند کے اصولوں کے مغائر ہے۔ این آر سی کی وجہ سے مسلم سماج نے اگر شہریت ثابت نہ کرسکیں تو ان کا قبضہ مرکز کو دے دیا جائے گا۔ لیکن سی اے اے میں دیئے گئے ترجیحات کے مطابق فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوؤں کے لیے حاصل ہے۔ اس لیے ہندو، مسلم سماج کا کہنا ہے کہ عوام میں تقسیم کرکے بھاجپا اقتدار میں رہنے کی کوشش میں ہے۔ لوگوں کو سیکولرازم، راج نہ ملے اُن کی ترقیات مشروط ہوجائے۔ ان کی اظہار خیال کی آزادی اور پینے کے پینے، بجلی، دواخانے، نوکری، روٹی روزگار، کپڑا، مکان انہیں چاہیے۔ اس وقت سرکار کو تیزی سے عمل آوری کرنی چاہیے۔ بیمار معیشت زرعی سہولتیں بہم پہنچانا، اضافی قیمتوں کے خلاف سرکار کا انتظام کرنا، بے روزگار دور کرنا، ان تمام محاذ پر حکومت کو پہل کرنی چاہیے۔ اس قانون کی مخالفت کرنے والے لوگ کون ہیں، یہ اُن کے کپڑوں سے کیا نظر آسکتاہے۔ اس طرح کا اظہار جو نریندر مودی صاحب نے کیا ہے اُس کی مذمت کرنی چاہیے۔ مخالفت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ سیاسی لوگوں کے اشارے پر ہم کوئی ناچنے والی کٹھ پتلی نہیں ہے۔ ایسا کہنے سے ہم کیا شرمندہ ہوجائیں گے۔
اس قانون کی مخالفت کرنے والے تمام لوگ کیا پُرتشدد ہیں؟ اور اس قسم کا الزام لگانا یہ اُن کی غلطی ہے۔ مختلف مقامات پر طلبہ نے موم بتی لگاکر شانتی سے مورچے نکالے ہیں۔ نئی دہلی کے انڈیا گیٹ میں یہ واقعہ جس مقصد سے کیا گیا ہے وہ دستور کی حدود میں ہے۔ بمبئی کے احتجاجی مورچے میں بھی امن و سکون کا اظہار کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض مقامات پر لڑکوں نے پولیس کو بلاکر گلاب کے پھول دے کر اپنی گاندھی گری کا اظہار کیا ہے۔ کچھ مقامات پر تشدد بھڑک اُٹھا، اُس کی مذمت کرنی چاہیے۔ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں ہے اور نہ ہی عوامی جائیداد کو نقصان پہنچانے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے۔ تمام طلبہ نے عوامی جائیداد کو نقصان پہنچایا ایسا کہنا جھوٹ ہے۔ ایسا کہنے پر لڑکوں پر نا انصافی ہوگی۔ گناہ گاروں کے ہاتھوں یہ بچے کھلونا بن گئے تھے۔ ایسا کہنا بھی طلبہ کی آزاد خیالی کا انہیں حق حاصل نہیں ہے۔ یہ اسی کے مترادف ہے۔
قانون کی عمل آوری کرنے والی مشنری نچلی سطح پر آکر بھاجپا نے اس وقت چلائی ہے۔ سیاسی اختلاف کا اظہار کرنا ایک زمانے میں بھاجپا اس خصوص میں اگھاڑی پر تھی۔ لیکن اب احتجاج، لوٹ مار اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ اب ملزم ہیں۔ ایسا ہمیں نظر آتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں پر پولیس والوں نے زیادہ کارروائیاں کرنا یہ اس کی مثال ہے۔ ہمیں پولیس کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن وہ اکثر مقامات پر طاقت کا استعمال کی ہے۔ اس سے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس خصوص میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ یہاں پولیس بغیر اجازت کے کیمپس میں داخل ہوئی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہاسٹل کے کمروں میں گھس کر لڑکیوں سے مارپیٹ بھی کی ہے۔ اترپردیش کی پولیس نے کی ہوئی گولی باری سے مرنے والوں کی تعداد یہ دہائی تعداد میں ہے۔ وہاں کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے اُ ن کا یہ سیاسی کیریئر ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف آگ اُگلنے کا کام کرتے ہیں۔ اُن کی ریاست میں گزرے ہوئے واقعات نے اگر پولیس کی ظلم و زیادتی کی تفصیلات دیکھی جائے اتنا ہی نہیں بلکہ فوجی سربراہ جو اپنے عہدہ پر غیر سیاسی بنیاد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالکل قابل اعتراض ایسے جانبدار انہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔
جب ملک میں سنگھرش چل رہا ہے اُس وقت حالات موہوم ہوجاتے ہیں اور جھوٹ کو ہی سچ کہہ کر اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور سچائی کو جھوٹ کہہ کر اُسے جھٹلایا جارہا ہے۔ اس وقت حالاتِ حاضرہ کیا ہے اسے تمام عوام کو سمجھ لینا چاہیے۔ اور سچائی کی تائید میں اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ کیونکہ سچائی کی ہی جیت ہوتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: