مضامین

سیاسی ”یاترائیں“

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

راہل گاندھی کی ”بھارت جوڑو یاترا“ کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے، نفرت کے بازار میں ”محبت کی دوکان سجانے“ کے نام پر نکلی اس ”یاترا“ کا چرچا پرنٹ میڈیا ، الکٹرونک میڈیا پر خوب ہوتا رہا ہے، ملک میں اس کی وجہ سے کانگریس کی مقبولیت اور راہل گاندھی کی محبوبیت میں اضافہ ہوا ہے، راہل گاندھی نے اپنی اور اپنی پارٹی کی سیاسی بقا کے لیے اس ”یاترا“ کی شروعات کی تھی ، شاہزادہ کا ہزاروں میل پیدل چلنا آسان کام نہیں تھا، اور اس پر سخت ٹھنڈ میں صرف ایک شرٹ پہن کر ، زندگی کو خطرات بھی بہت تھے، کیوں کہ ان کا سفر نفرت کے بازار ہو کر ہوتا رہا ہے، ان کے تحفظ پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں، کانگریس ان کے حفاظتی حصار میں چوک کا چرچا کرتی رہی ہے، جب کہ پولیس والوں کو ان کے ذریعہ حفاظتی حصار خود توڑنے کا شکوہ ہے، وزارت داخلہ کو محکمہ پولیس کے ذریعہ یہی رپورٹ سونپی گئی ہے۔
راہل گاندھی کی یہ ”یاترا“ گذشتہ سال 7 ستمبر 2022ءکو کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی، اب تک وہ نو ریاست کے چھیالیس (46)اضلاع کی ”پد یاترا“ کر چکے ہیں،مختلف ریاستوں سے گذر کر ایک سو پچاس دن میں یہ ”یاترا“ کشمیر پہونچے گی، اور تقریبا تین ہزار پانچ سو ستر(3570) کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرے گی۔
راہل گاندھی کی یہ سیاسی یاتر اپہلی یاترا نہیں ہے، اس سے قبل بھارت کے سابق وزیر اعظم سماجوادی قائد چندر شیکھر نے 6 جنوری سے 25جون 1983تک کنیا کماری سے راج گھاٹ نئی دہلی تک کا پیدل سفر کیا اور 4200کلو میٹر کی دوری پیدل طے کی تھی، یہ سفر کنیا کماری سے اس دن شروع ہوا، جس دن ان کی جنتا پارٹی نے کرناٹک میں شاندار جیت درج کی تھی، اس سفر کا اختتام ایمرجنسی کی آٹھویں سالگرہ پر کیا گیا ، اسی دن بھارت نے پہلی بار کرکٹ کا ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔
اس سفر نے چندر شیکھر کو سیاست میں نیا مقام دیا، پہلے وہ ایک جوان لیڈر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، جن کی ہندوستانی سیاست میں کوئی پکڑ نہیں تھی، اس سفرکے بعد سیاست میں ان کی اہمیت محسوس کی جانے لگی، راجیو گاندھی کی حکومت کے اختتام کے بعد 1989ءمیں وہ وزیر اعظم کے دعویدار بنے اور بالآخر وی پی سنگھ کی حکومت کے بعد وہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گیے، ایک ایسے وزیر اعظم جو اس سے قبل کبھی کسی حکومت میں وزیر بھی نہیں رہ چکے تھے۔
سیاسی یاتراوں میں لال کرشن اڈوانی کی ”رام رتھ یاترا“ بھی تھی، یہ یاترا پیدل نہیں ایک بس کے ذریعہ 25 ستمبر سے 23 اکتوبر 1990ءتک چلی، مذہبی رنگ کی یہ یاترا منڈل کمیشن کی رپورٹ کے لاگو ہونے سے بھاجپا کو ہونے والے نقصان کی تلافی اور رام مندرتحریک تک کو تیزتر کے لیے سومناتھ مندر سے شروع ہوئی تھی، اسے اجودھیا پہونچنا تھا، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ کی ہدایت پر بہار کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو نے اڈوانی کو سمستی پور میں گرفتار کر کے تاریخ رقم کر دی ، اس سفر کا فائدہ بھاجپا اور اڈوانی دونوں کو پہونچا، بھاجپا پہلی بار قومی پارٹی بننے کی پوزیشن میں آئی، پارلیامنٹ میں اس کی سیٹیں بڑھیں، وہ سیدھے ایک سو بیس(120)سے ایک سو پچپن(155)پر پہونچ گئی، اور اڈوانی اس سفر سے ملک گیر لیڈر بن گیے، وہ اٹل بہاری باجپائی سے آگے تو نہیں بڑھ سکے، لیکن نائب وزیر اعظم کے عہدے تک پہونچنے میں کامیاب ہو گیے، اس درمیان آر ایس ایس نے گجرات فساد کے بعد نریندر مودی کو وزیر اعظم کی حیثیت سے پیش کیا، وزیر اعظم کی کرسی تک پہونچنے کی لالچ نے اڈوانی کو ان کی مخالفت پر آمادہ کیا، یوں بھی نریندر مودی اڈوانی کی رتھ یاترا میں تقریر کرتے وقت ان کا مائیک پکڑے ہوتے تھے، مودی نے اس مخالفت کے نتیجے میں ان کو ”مارگ درشک منڈل“ میں داخل کر کے سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا، ان کوانتخاب میں ٹکٹ بھی نہیں دیا، اڈوانی صدر جمہوریہ بننے کے خواہش مند تھے، وہ آرزو بھی ان کی پوری نہیں ہوئی، لالو پرساد یادو نے اپنی ایک تقریر میں اڈوانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے بابری مسجد توڑوائی ہے آپ کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے، لالو پر ساد کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی، آج اڈوانی زندہ تو ہیں،لیکن ہندوستانی سیاست میں ان کا وجود اور عدم برابر ہے۔
”سیاسی یاترائیں“ صوبائی بھی ہوتی رہی ہیں، صوبائی ”یاتراوں“ میں راجستھان میں وسندھرا راجے کی ”پربو رتن یاترا“ غیر منقسم آندھرا پردیش میں راج شیکھر ریڈی کی ”پرجا پرستھانم یاترا“ اور چندر ا بابو نائیڈو کی ”واستو نامی کی ہیم پدیاترا“ (میں آپ کے لیے آ رہا ہوں) کو خاص اہمیت حاصل ہے، ان یاتراوں کے ذریعہ ان لیڈروں کاوزیر اعلی کی کرسی تک پہونچنا آسان ہو گیا۔
راجستھان میں وسندھرا راج نے اس وقت کے بھاجپا کے جنرل سکریٹری پرمود مہاجن کی ہدایت اور تحریک پر 2003میں گاڑی کے ذریعہ ”پریورتن یاترا“ کے نام سے تقریبا تیرہ ہزار (1300)کلو میٹر کا سفر کیا، اس سفر سے وسندھرا کی ریاست میں سیاسی لیڈر کے طور پر شناخت بنی ، اس سفر کے ذریعہ وسندھرا عوام کے قریب ہوئیں اور راجستھان کی دوسو اسمبلی سیٹوں میں سے ایک سوبیس (120)سیٹیں لے کر ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔
غیر منقسم آندھرا پردیش میں سیاسی طور پر کانگریس کا زوال ہوا، اور تیلگو دیشم پارٹی حکومت پر دس سال تک قابض رہی ، ایسے میں کانگریس کے لیڈر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے 2003ءمیں ”پر جا پرستھانم یاترا“ شروع کی، دو ماہ تک سخت گرمی کے موسم میں انہوں نے پندرہ سو کلو میٹر سے زیادہ کا سفر کیا، عوام سے جُڑے ، عوام کی محبت انہیں ملی اور 2004ءاور 2009ءکے اسمبلی انتخاب میں انہوں نے تیلگو دیشم پارٹی پر بڑی فتح حاصل کی اور دوبارہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہونچے، حالاں کہ جلدمیں ہی وہ ایک حادثہ میں آنجہانی ہو گیے تھے۔
راج شیکھر ریڈی کی پدیاترا نے کانگریس کو اقتدار تک پہونچا دیا تھا، اور چندر ا بابو نائیڈو اقتدار سے بے دخل ہو گیے تھے، اس لیے نائیڈو نے راج شیکھر ریڈی والا نسخہ اقتدار میں پہونچنے کے لیے استعمال کیا اور 2013ءمیں ”واستو نامی کوسم“ کے نام سے ”پد یاترا “ شروع کی، دو سو آٹھ (208)دنوں میں انہوں نے دو ہزار آٹھ سو (2800)کلو میٹر کا پیدل سفر کیا، نو سال تک اقتدار سے باہر رہنے کے بعد اس ”پدیاترا“ کی برکت سے 2014ءکے اسمبلی انتخاب میں ایک دو سو (102)سیٹیں حاصل کرکے ان کی پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور چندرا بابو نائیڈو وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہونچ گیے۔
ہمارے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی ”سیاسی یاترا“ کرنے میں ماہر ہیں، وہ اب تک بہت ساری ”یاترائیں“ کر چکے ہیں، ان میں ادھیکار یاترا، سیوا یاترا، نیائے یاترا، پرواس یاترا، دھنواد یاترا، وشواش یاترا، سماج سدھار یاترا اور سمادھان یاترا خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ان یاتراوں سے ان کی پارٹی کو مضبوطی ملی، حکومت کو استحکام عطا ہوا، ترقیاتی کاموں کا زمینی جائزہ ممکن ہوا، اور کام میں کوتاہی برتنے والے کی تادیبی کارروائی کی گئی، پدیاتراووں کا ذکر مکمل نہیں ہوگا اگر 2 اکتوبر 2022ءسے جاری پرشانت کشور کی سوراج پدیاترا کا ذکر نہ کیا جائے، جو تمام سیاسی پارٹیوں کے خلاف ہو رہی ہے۔
راہل گاندھی ان سیاسی یاتراوں کو تسلسل عطا کر رہے ہیں، ان کے ذہن میں ہے کہ یہ نسخہ ہندوستانی سیاست میں کم از کم پارٹی کو اقتدار تک پہونچانے میں کبھی فیل نہیں ہوا، ہے، اس لیے ”پد یاترا“ میں راہل گاندھی سخت اصول وضابطہ ہونے کے باوجود بڑی بھیڑ جمع کر پا رہے ہیں، جس سے کانگریس پارٹی کو اچھی توقعات ہیں، لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بھیڑ جمع کرنا بڑی بات ہے،لیکن اس بھیڑ کو ووٹ میں تبدیل کرالینا بالکل دوسری بات۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: