اہم خبریں

سید ذبیح الدین دہشت گردانہ معاملہ میں این آئی اے کا جھوٹ بے نقاب

عدالت کے رو بروگواہان کا اقرار، کہ عدالت سے حقائق چھپائے گئے

ممبئی ۔ 24فروری ( پریس ریلیز ) 26/11 ممبئی حملہ اور دہلی سازشی کیس ملزم سید ذبیح الدین دہشت گردانہ معاملہ 04/2012 جوکہ خصوصی این آئی اے عدالت ،پٹیالہ ہائوس دہلی میںزیر سماعت ہے ،آج عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ این آئی اے کا جھوٹ اس وقت بے نقاب ہو گیا جب استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ سرکاری گواہ نمبر 12 ایس ایچ دھتاترےمنڈالک آئی جی پولیس، سی آئی ڈی پونے مہاراشٹر نے جرح کے دوران واضح طور پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ یہ بیان این آئی اے کے خصوصی سر کاری وکیل کے کہنے پر دے رہا ہے اور 2013میں ذبیح الدین کے خلاف جن مقدمات کی فہرست بھیجی تھی اس میں یہ نہیں بتایا کہ ملزم 2004 میں ہی اس مقدمے سے باعزت بری ہوچکا تھا۔ گواہ کے اس اعترافی بیان سے این آئی اے کےَ طریقہ کار پر ہی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو گئے ہیں ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سید ذبیح الدین کے تمام بڑے میٹرس جن میں ناسک دھماکہ خیز بر آمدگی معاملہ ،26/11 ممبئی حملہ کیس ،دہلی سازشی معاملہ 04/2012 جوکہ خصوصی این آئی اے عدالت ،پٹیالہ ہائوس دہلی میں زور و شور سے جاری ہے ،آج عدالت میں سماعت کے دوران اس وقت کھلبلی مچ گئی جب سرکاری گواہ نے عدالت کے رو برو حقیقت کو واشگاف کر دیا۔ جب کہ دیگر دو مقدمات میں پولیس نے نہ تو کوئی انکوائری کی اور نہ عدالت سے گرفتاری کی کوئی کوشش۔ جس کا صاف صاف یہی مطلب ہے کہ پولیس اور این آئی اے عدلیہ کا غلط استعمال کرکے بے گناہوں کو انصاف سے جان بوجھ کر محروم کررہی ہے۔
مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے مرکزی ایجنسی این آئی اے کے طریقہ کار اور موقف پر سنگین سوالات ملک کے ہر حصہ سے اٹھ رہے ہیں جوکہ عدل و انصاف کے لئے کافی مضر ہے اس

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: