اہم خبریں

سیلاب سے بدحال سیمانچل صوبائی ومرکزی حکومت مہانندا بیسن پروجیکٹ پر کام جلد شروع کرے۔ مفتی مناظر نعمانی

کشن گنج:
سیلاب کانام اور اس کا وقت آتے ہی سیمانچل بالخصوص کشن گنج کے بہت سے لوگوں کی رات کی نیند اور دن کا چین وسکون سب چھن جاتا ہے، کئی گاؤںوالے ایسے ہیں جو ہرسال اپنا آشیانہ بناتے ہیں اور سیلاب کا قہر اسے اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے، اور لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گذار نے پر مجبور ہوتے ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، ہزاروں ایکڑ زمین پر لگی فصلیں ہر سال ندیوں کی طغیانی کی نذر ہوجاتی ہیں، کسی کو دکھ نہیں ہوتا، کتنے ہی گاؤں اور محلے کے محلے سیلاب کی زد میں آکر خالص ریگستان میں تبدیل ہوجاتے ہیں، مگر کسی کوفکر نہیں، ہزاروں لوگوں کی زندگیاںہر سال اجیرن ہوجاتی ہیں اور لاکھوں لوگ وہ ہیں جو اس وقت بھی ندی اور سیلاب کی وجہ سے خانہ بدوش کی زندگی گذار نے پر مجبور ہیں، ہر سال کی طرح امسال بھی کشن گنج کے مختلف علاقے سیلاب سے بدحال ہیں، ان میں مٹیاری، مہیش بھتنہ، تیلی بھٹہ اور مؤمن ٹولہ وغیرہ سر فہرست ہے، مٹیاری میں ۶۰؍ زائد گھروں پر مشتمل پورا گاؤں ندی میں اس طرح بہ گیا ہے کہ آج اس کو دیکھ کر کسی کو یہ یقین کرنا ممکن نہیں کہ یہاں کبھی گاؤں بھی تھا، اسی طرح تیلی بھٹہ میں ندی کہیں سے کہیں آگئی ہے، ہزاروں بیگھہ زمین لہلہاتے دھان کی فصل کے ساتھ ندی کا حصہ چکی ہے، اور مؤمن ٹولہ پواخالی جو گدشتہ ۲۰۱۷ء کے تاریخی سیلاب کے وقت سے ہی ندی کی زد میں تھا اس سال وہاں کے کئی مکانات ندی میں گھر چکے ، پوری مسلم آبادی والا گاؤں ہے، جہاں ایک ہی مسجد ہے، وہ مسجد اس سال ندی کا حصہ بنتے بنتے فی الوقت تک بچی ہے خدا کرے کہ بچ جائے، گذشتہ کئی روز سے مسلسل بارش کی وجہ سے ندیوں میں طغانی آئی ہوئی ہے اور سیلاب کی سی صورت حال ہے، اسی مختصر سیلاب میں ندی کا کٹاؤں مسجد کی جانب کچھ زیادہ ہوگیا اور مسجد زد میں آگئی اور سامنے کی دیوار محراب سمیت ندی میں گرنے کو ہوگئی، مقامی لوگوں نے کشن گنج کے سیاسی ذمہ داران کو متوجہ کیا مگر ان پر سے بے حسی کی چادر آخر کون اتار سکتا ہے، ایسے مشکل وقت میں جمعیۃ علماء کشن گنج کے ایک وفد نے فوری طور پر اس جگہ کا معائنہ کیا اور معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسی وقت کچھ مزدور لگا کر مسجد بچانے کی فکر شروع کی گئی اور ساتھ ہی جمعیۃ علماء کشن گنج کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد خالد انور صاحب نے ضـلع انتظامیہ سے بات کی، ہم شکر گذار ہیں ڈی ایم صاحب کے کہ انہوں نے فوراً ہی اپنے لوگوں کو بھیج کر اس کی رپورٹ طلب کی اور اس وقت ضلع انتظامیہ کی طرف وہاں ندی کٹاؤ سے بچاؤ کی تدبیریں کی جارہی ہیں، اس سیلاب زدہ علاقہ کا جمعیۃ علماء بہار کے صدر محترم حضرت مولانا ومفتی محمد جاوید اقبال صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے ہمراہ جمعیۃ علماء کشن گنج کے ایک وفد نے دورہ کیا جس میں احقر راقم محمد مناظر نعمانی قاسمی ترجمان وسکریٹری جمعیۃ علماء کشن گنج، مولانا مرشد صاحب رکن جمعیۃ علماء کشن گنج ، مولانا اخلاق صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء ٹھاکر گنج بلاک، ماسٹر طہ صاحب اور دیگر شامل تھے، جمعیۃ علماء بہار کے صدر محترم نے بھی ضلع انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور ہمت ہار رہے لوگوں کی ڈھارس باندھتے ہوئے صدر محترم نے سیاسی لیڈران بالخصوص ایم ایل اے اور ایم پی صاحب سے اس جانب توجہ دینے کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ علاقہ کی خبرگیری کریں اور جہاں جس قدر ممکن ہوسکے تعاؤن کریں اور سیلاب سے ضلع کو بچانے کی مستقل فکرکریں۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء کشن گنج کے ترجمان وسکریٹری مفتی مناظر نعمانی صاحب نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مہانندا بیسن کا کام ایک زمانہ سے رکا ہوا ہے اس پر صوبائی ومرکزی سرکاری جلد کام شروع کرے تاکہ ہر سال ہونے نقصانا ت سے یہاں کے لوگ بچ سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: