مضامین

سیمینار کو ویبینار بنائیں

محمد یاسین جہازی 9891737350

دیگر مخلوقات الہی میں انسان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ اپنے خیالات وتجربات کا تبادلہ کرکے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاکراور فائدہ حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔تبادلہ خیالات کے طریق عمل زمانے کے اعتبارسے بدلتا رہا ہے۔ کاغذ اور تحریر کی ایجاد سے پہلے تبادلہ خیال کا طریقہ زبانی روایات پر مبنی تھا، جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوا کرتی تھیں۔ تحریر کا طریقہ دریافت ہونے کے بعد زبانی روایات کا سلسلہ کمزور ہوتا گیا اور اس کی جگہ کاغذ قلم نے لے لی۔
عصر حاضر میں ڈیجیٹل طریقہ ایجاد ہوجانے کی وجہ سے کاغذقلم کی اہمیت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔ کاپی پیسٹ کی زبردست طاقت کے وجود میں آجانے کے بعد ماضی کے دور کی بہت سے پریشانیوں کا تصور تک مٹتا جارہاہے۔کاغذ قلم کے دور کی ایک سب سے بڑی دشواری یہ تھی کہ کاپی تیار کرنے میں بھی اصل کے برابر ہی محنت اور وقت درکار ہوا کرتا تھا، لیکن سوشل میڈیا اور کاپی پیسٹ کے آسان طریقہ وجود میں آجانے کی وجہ سے تعلیم و تعلیم اور تجربات کے تبادلہ میں زبردست انقلاب پیدا ہوگیا ہے۔ اب نہ تو اصل بنانے میں مہینوں اور سالوں کا وقت درکار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کاپی بنانے میں لمبی چوڑی محنت صرف کی جاتی ہے؛ بلکہ سب کچھ ایک کلک اور چند کلک سے ہوجاتا ہے۔ بالخصوص یونی کوڈ فارمیٹ کی سہولت ایجاد ہونے کے بعد ایک شخص کی محنت سے سبھی لوگ یکساں فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ آج لوگ گوگلنگ مزاج کے حامل ہوچکے ہیں، سب کچھ چند لمحوں میں حاصل کرکے،اس کی کاپی بناکر پیش کردینا چاہتے ہیں اور جدید ذرائع میں یہ سب آپشن موجود ہے؛ اس لیے ان سہولیات سے فائدہ نہ اٹھانا،اور ماضی کے فرسودہ طریقہ پر ہی قائم رہنا، راقم کے عندیہ میں وقت ضائع کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ کچھ مہینے پہلے ایک موقرشیخ الحدیث صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ راقم نے اصلاح کی نیت سے ایک مضمون پیش کیا، تو انھوں نے فرمایا کہ اسے لکھنے میں کتنا وقت لگا؟ میں نے کہا کہ دیگر مصروفیات کے ساتھ تقریبا ایک ہفتہ میں مکمل ہوا۔ یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ اتنے حوالوں کے ساتھ ایک ہفتہ میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ تو میں نے بتایا کہ قرآن اور احادیث کمپوزشدہ انٹرنیٹ سے مل جاتی ہیں۔ حوالے بھی اسی ذریعہ سے تلاش کرلیتا ہوں۔ باقی دیگر ہزاروں کتابیں مختلف سائٹوں پر موجود ہیں، جہاں سے پڑھ لیا جاتا ہے، کاپی کا آپشن ہوتا ہے، تو کاپی اور پیسٹ کرلیتے ہیں۔ اور اس طرح کم وقت میں مستند و محقق مضمون تیار ہوجاتا ہے۔ پھر میں نے حضرت سے پوچھا کہ آپ کا کیا طریقہ ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ پہلے کاغذ پر قرآن کی آیتیں لکھتا ہوں، پھر رنگین قلم سے اعراب لگاتا ہوں، پھر کمپوزر کو دیتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر اس میں مہینوں لگ جاتا ہے۔
بہرحال جدید ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے ماضی کے طریقے کو بدل کر جہاں ہم اپنا وقت اورمحنت بچاسکتے ہیں، وہیں خرچ ہونے والے کثیر صرفے سے بھی بچ سکتے ہیں؛ کیوں کہ ہر شخص سیکڑوں کتابیں نہیں خرید سکتا، البتہ ایک لیپ ٹاپ خرید کر سائٹوں سیمفت میں یا پھر معمولی ممبرشپ پر ہزاروں کتابوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
عصر حاضر میں تبادلہ خیال کا ایک طریقہ سیمینار بھی ہے، لیکن جدید ایجادات سے فائدہ اٹھایا جائے، تو ہم سیمینار کو ویبینار بناسکتے ہیں۔ سیمینار کے مقابلہ میں ویبینار جہاں کم خرچ میں ہوجاتا ہے، وہیں وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ریکارڈ اور کاپی کی سہولیات بھی میسر آجاتی ہیں۔ اسی طرح اس میں مجمع اور سامعین و ناظرین کو لامحدود سعت دے سکتے ہیں۔
ویسے تو ویبینار کرنے کے لیے کئی طریقے اور ایپس ہیں؛ لیکن ہم ذیل میں تین آسان طریقوں کا تعارف پیش کرتے ہیں۔
(۱) زوم(Zoom cloud meeting): اس کورونا لاک ڈاون میں اس ایپ کا سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایپ دوسرے ایپ کے مقابلہ میں قدرے آسان ہے اور زیادہ آپشن سے لیس ہے۔ اس کے استعمال کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لیپ ٹیپ میں انٹرنیٹ سے یا موبائل میں پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے ڈاون لوڈ کریں اور پھر میل آئی ڈی کی طرح آئی ڈی بناکر استعمال کرنا شروع کردیں۔ اگر کوئی آپشن سمجھ میں نہیں آرہا ہے، تو سیکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ سیکھنا ہے وہ یوٹیوب میں سرچ کرکے سیکھ سکتے ہیں۔
(۲) لارک(Lark): یہ ایپ بھی زوم ہی کی طرح ہے۔ البتہ اس میں ایک اضافی آپشن یہ ہے کہ آپ جو کچھ بولتے ہیں، اسے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ میں بھی بدل سکتے ہیں۔ تاکہ جو کوئی آپ کی زبان نہیں سمجھتا ہے، وہ اس کا ٹیکسٹ ترجمہ کی شکل میں پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔
(۳) میٹ (Meet): یہ گوگل کا ایپ ہے، جو ہر جی میل کے ساتھ اٹیچ ہے۔ اگر آپ اپنا جی میل لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں استعمال کر رہے ہیں، تو کوئی ایپ لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی آئی ڈی بنانے کی ضرورت ہے۔ جی میل کی آئی ڈی ہی کافی ہے۔ لیکن اگر موبائل میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو پھر پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے میٹ نامی ایپ لوڈ کرنا ہوگا اور اپنی جی میل آئی ڈی استعمال کرکے اس سے ویڈیو کانفرنسنگ کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک خامی یہ ہے کہ اس میں ریکارڈ اور لائیو کا آپشن نہیں ہے، جب کہ زوم میں ریکارڈ اور اسے لائیو کرنے کا بھی آپشن موجود ہے۔
اس کورونا لاک ڈاون میں جب کہ اجتماع سے بیمار ہونے کا خطرہ ہے، ایک دوسرے کے تجربات و خیالات سے فائدہ اٹھانے کا ویبینار ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس میں جہاں آمدو رفت اور قیام و طعام کے اخراجات سے بچ سکتے ہیں، وہیں وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ریکارڈ، کاپی اور لائیو کے آپشن سے فائدہ اٹھاکر افادے کے دائرے کو لامحدود وسعت دے سکتے ہیں۔ تو راقم کا یہی مشورہ ہے کہ اب سیمینار نہیں؛ بلکہ ویبینار کو فروغ دیں اور جدید ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افادے و استفادے کے حلقہ اثر کو عالمی بنانے میں ایک موثر کردار ادا کریں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: