مضامین

سیٹیزن شپ رولز2003ء

مولانا نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند و ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا

شہریت ایکٹ 1955 (1955 کا 57) کی دفعہ 18 کی ذیلی دفعات (1) اور (3) کے ذریعے دیئے گئے اختیارات کے استعمال میں،مرکزی حکومت مندرجہ ذیل اصول بناتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ مختصر عنوان اور آغاز –
(1) ان رولز کو شہریت (شہریوں کی رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے قواعد 2003) کا نام دیا جاتا ہے۔
(۲) یہ قوانین سرکاری گزٹ میں ان کی اشاعت کی تاریخ سے نافذ ہوں گے۔
۲۔ تعریفات – ان اصولوں میں جب تک کہ سیاق و سباق دوسرے معنی نہ بتاتے ہوں —
(اے) "ایکٹ” کا مطلب ہے شہریت ایکٹ، 1955 (1955 کا 57)
(بی) "پیدائش اور اموات کے چیف رجسٹرار” سے مراد سال 1969 (1969 کی شق 18) کے تحت مقرر کردہ پیدائش اور اموات کے چیف رجسٹرار ہیں۔
(سی) "شہری” کا مطلب دستور ہند اور ایکٹ کی دفعات کے مطابق بھارت کے شہری ہیں۔
(ڈی) ”شہری رجسٹریشن کے ڈائریکٹر“ کا مطلب ہے مردم شماری ایکٹ 1948 (1948 کی شق 37) کے تحت مرکزی حکومت کے ذریعہ مقرر کردہ ریاست یا مرکزی علاقہ میں مردم شماری کا ڈائریکٹر، جو اس ریاست یا یونین خطہ میں شہری رجسٹریشن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی کام کرے گا۔
(ای) "ہندوستانی شہریوں کا ضلع رجسٹر” کا مطلب ہے وہ رجسٹر جس میں عام طور پر ضلع میں رہائش پذیر ہندوستانی شہریوں کی تفصیلات شامل ہوں۔
(ایف) "شہری رجسٹریشن کا ضلعی رجسٹرار” سے مراد ہر محصول والے ضلع کا ضلعی مجسٹریٹ چاہے اس کا نام کچھ دیا جاتا ہو۔۔ وہ شہری رجسٹریشن کے ضلعی رجسٹرار کی حیثیت سے کام کرے گا۔
(جی) "ہندوستانی شہریوں کا مقامی رجسٹر” کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی تفصیلات پر مشتمل رجسٹر جس میں کسی دیہات یا دیہی علاقے یا قصبے یا وارڈ میں یا کسی مخصوص علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کے نام شامل ہوں۔
(ایچ) "شہری رجسٹریشن کے مقامی رجسٹرار” کا مطلب ہے ایک مقامی افسر، یا ایک محصول والا افسر جس کو ریاستی حکومت نے سب سے کم جغرافیائی دائرہ اختیار میں مقرر کیا ہے، جسے آپ گاؤں یا دیہی علاقے یا قصبہ یا حد بندکیا ہو ا علاقہ کہہ سکتے ہیں (جس کی حد بندی سیٹیزن رجسٹریشن کے رجسٹرار نے کی ہو) جو ہندوستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر کی تیاری کے مقصد کے لئے مقامی رجسٹرار کی حیثیت سے کام کرے گا۔
(آئی) "قومی شناختی کارڈ” سے مراد ضابطہ 13 کے تحت جاری کردہ شناختی کارڈ ہے۔
(جے) "قومی شناختی نمبر” کا مطلب یہ ہے ہندوستانی شہری کو عطا کردہ ایک منفرد شناختی نمبر جو انڈین جسٹرارجنرل نے دی ہو۔
(کے) "ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر” کا مطلب ہے وہ رجسٹر جس میں ہندوستانی اور ہندوستان سے باہر مقیم ہندوستانی شہریوں کی تفصیلات شامل ہوں۔
(ایل) "پاپولیشن رجسٹر” کا مطلب ہے ایسا رجسٹر جس میں عام طور پر کسی دیہات یا دیہی علاقے یا قصبے یا وارڈ میں یا کسی مخصوص شہر میں یا (شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار کے ذریعہ متعین کر دہ)خطہ میں رہائش پذیر افراد کی تفصیلات مندرج ہو۔
(ایم) "شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل” کا مطلب رجسٹرار جنرل آف انڈیا ہے جو پیدائش اور اموات کے اندراج کے ایکٹ، 1969 (1969 کی شق 18) کے تحت مقرر کیا گیا ہو۔ وہ شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرے گا۔
(این) "ہندوستانی شہریوں کا اسٹیٹ رجسٹر” کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر ریاست میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی تفصیلات پر مشتمل رجسٹر۔
(او) "سب ڈسٹرکٹ یا تعلقہ رجسٹرار آف سٹیزن رجسٹریشن” سے مراد ہر سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا تعلقہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ ہے، جس کو کسی بھی نام سے پکارا جاتا ہو۔ وہ سٹیزن رجسٹریشن آف تعلقہ رجسٹراریا سب ڈسٹرکٹ کے طور پر کام کرے گا۔
(پی) "ہندوستانی شہریوں کے سب ڈسٹرکٹ رجسٹر” کا مطلب ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی تفصیلات پر مشتمل رجسٹر جو کہ عام طور پر کسی سب ڈسٹرکٹ کے تعلقہ یا اور نام کے والے علاقہ میں رہتے ہیں۔
۳۔ ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر
(۱) رجسٹرار جنرل آف شہری رجسٹریشن، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو قائم اور برقرار رکھے گا۔
(۲) ہندستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو ہندوستانی شہریوں کے اسٹیٹ رجسٹر، ہندوستانی شہریوں کے ضلعی رجسٹر، ہندستانی شہریوں کے سب ڈسٹرکٹ رجسٹر اور ہندستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر میں اس طرح کی تفصیلات شامل ہوں گی جیسا کہ مرکزی حکومت، شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل کے مشورے سے آرڈر کے ذریعے سے طے کرے گی۔

 (۳) ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر میں ہر شہری کے سلسلے میں درج ذیل تفصیلات ہوں گی:
(i) نام:
(ii) والد کا نام:
(iii) ماں کا نام؛
(iv) جنس؛
(v) تاریخ پیدائش؛
(vi) پیدائش کی جگہ؛
(vii) رہائشی پتہ (موجودہ اور مستقل)
(viii) ازدواجی حیثیت – اگر شادی شدہ ہے تو شریک حیات کا نام؛
(ix) مرئی شناختی نشان؛
(x) شہری کی رجسٹریشن کی تاریخ۔
(xi) رجسٹریشن کا سیریل نمبر؛ اور
(xii) قومی شناختی نمبر۔
(۴)مرکزی حکومت، اس سلسلے میں جاری کردہ حکم کے ذریعہ، ایک تاریخ طے کر سکتی ہے جس کے ذریعہ ان تمام افراد سے متعلق معلومات اکٹھا کرکے آبادی کا رجسٹر تیار کیا جائے جو عام طور پر مقامی رجسٹرار کے دائرہ عمل میں رہتے ہیں۔
(۵) ہندوستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر میں پاپولیشن رجسٹر سے تصدیق شد افراد کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
۴۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری۔
(۱) مرکزی حکومت، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کے مقصد سے ملک بھر میں گھر گھر جا کر ہر کنبہ اور فرد سے متعلق مخصوص تفصیلات و اعداد وشمار گنتی کا کام کرے گی جس میں شہریت کی حیثیت بھی شامل ہو گی۔
(۲) شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل سرکاری گزٹ میں اعداد شماری کی مدت سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کریں گے۔
(۳)ہندوستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر میں شمولیت کے مقصد کے لئے، پاپولیشن رجسٹر میں ہر خاندان اور فرد کی جمع کردہ تفصیلات کی تصدیق اور جانچ پڑتال مقامی رجسٹرار کے ذریعہ کی جائے گی۔ اس عمل میں تعاون کے لیے ایک یا ایک سے زائد افراد کی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں فیصلہ شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل کریں گے۔
(۴) تصدیق کے عمل کے دوران، ایسے افراد جن کی شہریت مشکوک ہو، ان کی تفصیلات کے ساتھ مناسب ریمارکس لگایا جائے تاکہ مزید انکوائری کی جا سکے۔اور مشکوک ہونے کی صورت میں فرد یا خاندان کو تصدیق کے عمل کے ختم ہونے کے فورا بعد ایک مخصوص پرفارما میں آگاہ کیا جائے۔
(۵) (اے) ذیلی قاعدہ (۴) میں ذکرکردہ (مشکوک) فرد یا کنبہ کو تعلقہ یا سب ڈسٹرکٹ کے رجسٹرار کے ذریعہ اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا اس سے پہلے کہ ان کا نام شامل کرنے یا نہ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ کو کیا جائے۔
(بی) سب ڈسٹرکٹ یا تعلقہ رجسٹرار اندراج کے نوے دن کی مدت کے اند یا توسیع کردہ ایک معقول مدت میں جس میں وہ تحریر ی طورسے وجوہات ریکارڈ کرے گا، اس مدت میں اپنے نتائج کو حتمی شکل دے گا۔
(۶) (اے)مقامی شہریوں کے مقامی رجسٹر کا مسودہ سب ضلع یا تعلقہ کے رجسٹرار کے ذریعہ شائع کیا جائے گا تا کہ کسی بھی قسم کا اعتراض کرنے کی لوگوں کو دعوت دی جائے یا کسی بھی نام کو شامل کرنے یا خاندان یا انفرادی تفصیلات میں اصلاحات کی تجویز پیش کی جائے جو حتمی رجسٹر میں شامل کی جائے۔
(بی) ہندوستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر میں کسی خاص اندراج کے خلاف شکایت یا نام شامل کرنے یا کوئی اصلاح، مقامی رجسٹر آف ڈرافٹ کی اشاعت کی تاریخ سے تیس دن کے اندر اندر کیا جاسکتا ہے جس میں رجسٹرار جنرل آف سیٹرن کے ذریعہ تیارکردہ فارم میں اعتراضات کی نوعیت اور قسم کی وضاحت کی جائے گی۔
(سی) ذیلی ضابطہ کی شق (اے) میں شامل دفعات کے بموجب سب ڈسٹرکٹ یا تعلقہ رجسٹرار اس طرح کے اعتراضات پر غور کریں گے اور اسے نوے دن کی مدت میں مختصر طور پر نمٹا دیں گے، اور اس کے بعد ضلعی رجسٹرار آف سیٹزن کو پیش کریں گے تا کہ شہریوں کے اندراج کے ضلعی رجسٹر میں شامل کیا جائے جسے پھر بعد میں نیشنل رجسٹر آف انڈین سیٹزن میں شامل کیا جائے گا۔
(۷)(اے) ذیلی ضابطہ (۵)یا ذیلی ضابطہ (۶)کے تحت سب ضلع یا تعلقہ رجسٹرار کے حکم سے شاکی کوئی بھی شخص اس طرح کے حکم کی تاریخ سے تیس دن کے اندر اندر ا ضلع رجسٹرار سے پیل کرسکتا ہے۔
(بی) شہری رجسٹریشن کا ضلعی رجسٹرار اپیل کی تاریخ سے نوے دن کی مدت میں شاکی شخص کو سننے کا موقع دینے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گا۔
(سی) اگر اپیل کی اجازت دی جائے تو تفصیلات ہندوستانی شہریوں کے نیشنل رجسٹر میں درج کی جائیں گی۔
4A۔ریاست آسام میں ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کے بارے میں خصوصی دفعات۔
(۱) اصول 4 میں سے کچھ بھی، شہریت کے آغاز کے دن ور اس کے بعد (شہریوں کے رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے ترمیمی قواعد 2009) ریاست آسام پر لاگو نہیں ہوگا۔
(۲) مرکزی حکومت،ریاست آسام میں ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری کے لئے ریاست آسام بھر میں تمام شہریوں سے درخواست طلب کرے گی تاکہ ریاست کے کسی ایک مقامی علاقے میں رہائش پذیر ہر شہری اور فرد سے متعلق مخصوص تفصیلات جمع کیا جائے۔ اس میں شہریوں کی حیثیت بھی شا مل ہے جو1951 سے قبل شہریوں کے قومی رجسٹر اور ۴۲/مارچ ۱۷۹۱ء کی درمیانی شب تک کی انتخابی فہرستوں پر مبنی ہوگی۔
(۳)) شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار جنرل، سرکاری گزٹ میں اعداد شماری سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کریں گے۔
(۴)ریاست آسام میں ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری کا طریقہ اس طرح کا ہوگا جیسا کہ ان قواعد سے منسلک شیڈول میں بیان کیا گیا ہے۔[
۵۔شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار جنرل کی مدد کے لئے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے افسران۔ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، بلدیاتی اداروں یا ان کے ذریعہ طے کردہ ہر عہدیدارشہریوں کے رجسٹریشن کے عمل میں معاون ہو گا یا کوئی بھی ایسا شخص جن کو ان کے ذریعہ اختیار دیا گیا ہو وہ ہر خاندان یا شخص سے متعلق ڈیٹا بیس کی تیاری میں مدد کرے گا ساتھ ہی ان قوانین کے نفاذ کے لیے کام کرے گا۔
 ۶۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کا آغاز۔
(1) شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل، حکم کے ذریعے، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو ملک بھر میں شروع کرنے کی تاریخ سے مطلع کریں گے۔
(۲) ذیلی قاعدہ (1) کے تحت جاری کیے جانے والے آرڈر میں شہریوں کے قومی رجسٹر کے لئے رجسٹرار کے ذریعہ متعین کردہ عمل کی مدت کی معلومات دی جائے گی۔
(۳) ہر فرد کو خود کو مقامی رجسٹر آف سٹیزن رجسٹریشن میں عمل کی مدت کے دوران رجسٹریشن کروانا ہو گا جیسا کہ ذیلی قاعدہ (2) کے تحت بتایا گیا ہے
۷۔ خاندان یا فر د کا سردار اطلاع دہندہ کے طور پر۔
(۱) ہندوستان کے ہر شہری کے لئے یہ لازم ہوگا کہ وہ ضابطہ 4 کے تحت ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری کے ذمہ دار عہدیداروں کی مدد کرے اور عمل کی مدت کے دوران ہندستانی شہریوں کے مقامی ر جسٹر میں اپنا نام درج کرائے۔
(۲) آبادی کے اندراج کی تیاری کے لئے مخصوص مدت کے دوران، ہر خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہوگی کہ نام اور ممبروں کی تعداد اور دیگر احوال کی صحیح تفصیلات دیں، جیسا کہ قاعدہ (3) کے ذیلی قاعدہ (3)میں درج ہے،جس خاندان کا وہ سربراہ ہے۔
(۳) ہر شہری کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایک بار شہری رجسٹریشن کے مقامی رجسٹرار کے ساتھ اندراج کروائے اور اس اتھارٹی کو درست انفرادی تفصیلات فراہم کرے۔
(۴) ماتحت کی صورت میں جیسے کہ نابالغ بچہ جو اٹھارہ سا ل کی عمر کو نہیں پہنچا ہے، یا وہ معذور ہے، اس صورت میں تفصیلات فراہم کرنے کی ذمہ داری اس خاندان کے سربراہ کی ہوگی۔
جہاں تک ایسے یتیم خانوں، اولڈ ایج ہوم، ذہنی طور پناہ گزینوں کا تعلق ہے،ان سے متعلق ضروری تفصیلات فراہم کرنے کی ذمہ داری ادارہ کے سربراہ پر عائد ہوگی۔
۸۔معلومات حاصل کرنے سے متعلق ضلع رجسٹرار، سب ڈسٹرکٹ یا تعلقہ رجسٹرار یا شہری رجسٹریشن کے مقامی رجسٹرار کے اختیارات۔ -ضلع کے رجسٹرار، سب ضلع یا تعلقہ رجسٹرار یا مقامی رجسٹرار، حکم کے ذریعہ کسی بھی شخص سے اس کی شہریت کی حیثیت کے تعین کے سلسلے جانکاری فراہم کرنے کا حکم دے سکتے ہیں، اس سلسلے میں متعلقہ شخص کے لیے اس حکم کی تعمیل ضروری ہوگی۔
 ۹۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر میں اندراج کرنے کا طریقہ کار۔
شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار جنرل، حکم کے ذریعہ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری سے متعلق طریقہ کار کی وضاحت کرسکتے ہیں، ساتھ ہی کسی خاندان یا فرد کی تفصیلات سے متعلق دعووں اور اعتراضات کے تصفیے کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کرسکتے ہیں۔
۰۱۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر سے نام اور تفصیلات کا حذف کرنے کا عمل۔
(۱) شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل کے ذریعہ یا اس کی طرف سے طے کردہ کسی بھی افسر کے ذریعہ ایک حکم نامہ کے تحت کسی شہری کے نام اور تفصیلات قومی رجسٹر سے درج ذیل صورتوں میں خارج کیا جاسکتا ہے –
(i) اس شخص کی موت۔ یا
(ii) ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت ہندوستانی شہریت سے محروم شخص۔یا
(iii) ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت ہندوستانی شہریت کی منسوخی کے ذریعہ؛ یا
(iv) فرد یا کنبہ کے ذریعہ فراہم کردہ تفصیلات غلط پائی گئیں اس طور پر کہ اس شخص کی شہریت کی حیثیت کو متاثر ہوتی ہو۔
(۲) یہ متعلقہ ہندوستانی شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ 30 دن کی مدت کے اندر، ضلعی رجسٹرار آف سٹیزن رجسٹریشن کو ذیلی قاعدہ (1) کی شق (ii) کے تحت اپنی ہندوستانی شہریت کی منسوخی کے بارے میں مطلع کرے۔
(۳)ذیلی قانون (1) کے تحت کسی آرڈر کی صورت میں متعلقہ شخص کو یا اس کی موت کی صورت میں اس کے قریبی رشتہ دار کو، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر سے کسی بھی اندراج کی منسوخی کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے گا۔ یہ ملحوظ خاطر رہے کہ کسی بھی مجاز افسر کے حکم سے شاکی شخص اس طرح کے حکم کے بعد تیس دن کی مدت اندر اتھارٹی سے شکایت کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔
(۴) ذیلی قاعدہ (۳)کے تحت اپیل کو نمٹایا جائے گا، اپیل کنندہ کو سننے کا موقع اور اس کے دعوے کی حمایت میں کوئی دستاویز یا زبانی شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
۱۱۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی دیکھ ریکھ اور اپڈیٹ کرنے کاعمل۔(۱) رجسٹرار جنرل آف شہری رجسٹریشن ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو الیکٹرانک یا کسی اور شکل میں برقرار رکھنے کا کام کریں گے جس میں پیدائش اور اموات کے اندراج ایکٹ 1969 (1869 کی دفعہ 18) کے تحت درج مختلف رجسٹروں سے حاصل کردہ اقتباسات کی بنیاد پرمستقل طور پر ایڈیٹ کی ضرورت ہوگی۔
(۲) ہر ایک خاندان کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ اس کنبہ میں ہونے والی پیدائش یا موت کے واقعات کو ہندوستانی شہریوں کے مقامی رجسٹر میں درج کرائے۔
(۳) پیدائش اور اموات کے چیف رجسٹرار اور دیگر تمام عہدیدار جوپیدائش اور اموات کے رجسٹریشن کے ذمہ دار ہیں،وہ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے میں رجسٹرار کے معاون ہوں گے، جیسا کہ ذیلی قاعدہ (1) کے تحت ضروری ہے۔
۲۱۔ ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر میں اندراجات میں ترمیم – سب ڈسٹرکٹ یا تعلقہ رجسٹرار، متعلقہ شخص کی طرف سے کی جانے والی درخواست پر ضروری تصدیق کے بعد، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر میں درج ذیل تفصیلات سے متعلق کسی بھی اندراج میں ترمیم کی اجازت دے سکتے ہیں:
(اے) نام کی تبدیلی۔ یا(ب) درخواست دہندگان کے والدین کے نام کی تبدیلی اس صورت میں جب کہ متعلقہ قوانین کے تحت اس کی حیثیت میں تبدیلی کی گئی ہو۔ یا
(سی) رہائشی پتے میں تبدیلی۔ یا
(ڈی) ازدواجی حیثیت میں تبدیلی۔ یا(ای) جنس کی تبدیلی
۳۱۔قومی شناختی کارڈ کا اجراء۔ – شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار، یا اس کے ذریعہ طے کردہ کوئی بھی افسر، ہر شہری کو قومی شناختی کارڈ جاری کرے گا جس کی تفصیلات قاعدہ 3 کے ذیلی قاعدہ (۳)کے تحت ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر میں درج ہیں۔
۴۱۔ قومی شناختی کارڈ سرکاری ملکیت ہے، اس کے بارے میں شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں صحیح طریقے سے رکھیں۔ – (۱) قومی شناختی کارڈ مرکزی حکومت کی ملکیت ہوگی۔
(۲) کوئی بھی شخص شناختی کارڈکو کسی بھی شکل میں جان بوجھ کر تباہ، تبدیل یا منتقل نہیں کرسکتا، صرف قانونی مقاصد کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے۔
(۳) ضابطہ 10 کے ذیلی قاعدہ (1) کے تحت درج کردہ کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے پر،متعلقہ شہری یا اس کے قریبی رشتہ دار جو بھی ہو، ؎قومی شناختی کار، رجسٹرار جنرل یا اس کے مجاز افسرکے حوالے کرے گا۔
(۴) قومی شناختی کارڈ کھو جانے کی صورت میں، متعلقہ شخص یا اس کے قریبی رشتے دار کا فرض ہوگا کہ معاملے کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن اور متعلقہ اتھارٹی کو دے۔
۵۱۔ قومی رجسٹریشن اتھارٹی اور افسران کا عہدہ۔ – (۱) ان قواعد کے شروع ہونے کی تاریخ پر یا اس تاریخ سے، رجسٹرار جنرل آف انڈیا کورجسٹرار جنرل آف سٹیزن جسٹریشن نامزد کیا جائے گا جو ان قواعد کے مقاصد کے لئے کام کریں گے۔
(۲) مرکزی حکومت نامزد کرسکتی ہے۔
(اے) شہری رجسٹریشن کے ایڈیشنل یا جوائنٹ یا ڈپٹی رجسٹرار جنرل کے طور پر ایک یا ایک سے زائد افسران اور اسی طرحسب ضرورت دوسرے ددسرے افسران اور عملے۔
(ب) بحیثیت ایک افسر، اور ایک یا ایک سے زیادہ افسران جوائنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف سٹیزن رجسٹریشن کے ہر ایک ریاست اور مرکز کے علاقوں کے لئے لازمی معاون عملہ کے ساتھ، شہریوں کے اندراج کے رجسٹرار جنرل کی مدد کریں۔ ان اصولوں کے تحت فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھانا۔
(سی) ریاستی حکومت قومی رجسٹریشن کے ایک ریاستی کوآرڈینیٹر کو مطلع کرے گی جو ریاستی حکومت یا اس کے مساوی سیکریٹری کے عہدے سے نیچے نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: