اہم خبریں

سیکولر فکر و سوچ کے لیے ایک مہلت اور وقفہ

مہاراشٹر کے انتخابی نتائج اُن روایتوں پر ایک ضرب کاری ہے جو یہاں کے ووٹرس نے اُن پر لگائی ہے۔ لیکن اُن لوگوں کے لیے جو ہندوتوا مخالفت کی سیاست کرتے ہیں اُنہیں ایک طویل جنگ آگے لڑنی ہے
جیوتی پنوانی (انڈین ایکسپریس 28 اکتوبر 2019ء)

مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابی نتائج کا اعلان یقینا اُن لوگوں کے لیے خوشی کا باعث ہے جو سمجھ رہے تھے کہ نفرت کی جو سرنگ لگی ہے اُس کا شاید خاتمہ کبھی نہ ہوگا۔ اس طرح کا تذکرہ ایک ہیومن رائٹس جہدکار نے بمبئی میں کیا کہ اب آخر مسکرانے کی وجہ ہے۔
بی جے پی کے بڑے ہارنے والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جن کے لیے وزیر اعظم نے پرچار کیا۔ جس میں انہوں نے آرٹیکل 370 کا اظہار بھی کیا۔ جس کے بارے میں انہوں نے کانگریس کی حقارت اس طرح کی کہ وہ اس بارے میں اینٹی نیشنل تھی۔ اسی طرح مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی تمام کوششیں پرچار کے باوجود بارآور نہ ہوسکیں۔ نہ ہی وزیر اعظم کی لاثانی تقاریر کی مہارت اور نہ ہی بی جے پی کے صدر کے مخاصمانہ تقاریر ووٹرس کو متاثر کرسکیں۔
نتائج اس بات کے لیے کافی ہے کہ عوام نے حکمراں پارٹی کے فرقہ وارانہ تسلط و اقتدار سے جو اکثریت کے بل بوتے پر کرنا چاہتے تھے اسے انہوں نے مسترد کردیا اور اس طرح مہاراشٹر کے رائے دہندگان نے جو کچھ ظاہر کرتے تھے اُس سے زیادہ ہی کردکھایا۔ بعض مرتبہ ان امور کی وجہ سے انہوں نے اُن روایتی طلسمات کو توڑ ڈالا جو 2014ء سے پائی جاتی تھیں۔
یہ روایت تھی کہ ہندو مسلم امیدوار کے لیے ووٹ نہیں دیتے، جیسا کہ کانگریس مہاراشٹر میں پچھلے دو دہوں سے کہا کرتی تھی اور وہ اُس کمیونٹی کے لوگوں کو ٹکٹ دینے سے انکار کرتی تھی۔ لیکن اس روایت کے بارے میں موجودہ حالات کے پیش نظر تازی سوچ بنانی ہوگی۔ اس لیے کہ بی جے پی نے کامیابی کے ساتھ صرف ہندو ووٹ بینک ہی بنایا ہے۔ جس کی وجہ سے دیگر جماعتیں جیسے کہ اے آئی ایم آئی ایم نے بھی اسی روایت کے ذریعہ سے کہا کہ مسلم ہی اکیلے ووٹ دیتے ہیں اور وہی اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انتخابات میں کامیاب ہونے والے جیسے کہ این سی پی کے نواب ملک اور حسن مشرف، دونوں سابق وزراء ہیں، اسلم شیخ جنہوں نے تیسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اور اس طرح کامیابی کے قریب تر پہنچنے والے امیدوار عارف نسیم خاں بھی ہیں جو صرف 409 ووٹوں سے ہارے ہیں۔ یعنی اس طرح یہاں پائی جانے والی روایتوں کو ان نتائج نے مسترد کردیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ ان روایات کو منسوخ کرنے والی بات شیوسینا کے عبدالستار کی سلوڑ سے کامیابی ہے جن کے الیکشن میں 52 فیصد ووٹرس نے حصہ لیا۔ جو کہ دو معیادوں سے چن کر آنے والے یہ ایم ایل اے سابق چیف منسٹر اشوک چوہان کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔ جنہوں نے اس لیے اُن کے ساتھ کو چھوڑا کہ کانگریس پارٹی نے لوک سبھا کے انتخابات کے موقع پر انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ اس لیے انہیں حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اپنے قریبی ساتھی راؤ صاحب دانوے کے لیے کام کیا، جو ریاستی بی جے پی کے صدر تھے، چونکہ انہیں کانگریس پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا اس لیے انہوں نے شیوسینا میں شرکت کی۔
گوکہ چند دَل بدلو لوگوں نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن ستار کی موقع پرست سیاست نے ایک مثبت پہلو یہ دیا کہ کس طرح پانچ مرتبہ چن کر آنے والے ایم ایل اے کالی داس کولمبھکر کو انہوں نے آسانی نہیں فراہم کی۔ سابقہ شیوسینک جن کا نام شری کرشنا کی رپورٹ جو 1992-93ء کے فسادات سے متعلق تھی اس میں اس طرح آیا تھا کہ انہوں نے ایک مورچہ کی قیادت کی تھی جو تین مسلمانوں کو زندہ جلانے کے سلسلہ میں گرفتار شدہ کو رہائی کے لئے کیا گیا تھا۔ اب انہوں نے 2005ء میں کانگریس میں شرکت کی تھی لیکن بعد ازاں 2017ء میں چھوڑ دیا۔ اور اب وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔
کولمبھکر کی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے بی جے پی، شیوسینا کی جو کارگزاری ہے جس کی وجہ سے سیکولر سیاست اُبھر کر آئی ہے۔ ایک واحد ایم ایل اے جسے فرقہ وارانہ تقریر کے ضمن میں الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کی وہ بی جے پی کے شہر صدر منگل پربھات بورڈا ہیں جنہوں نے اپنی نشست کو بھاری اکثریت سے برقرار رکھا۔ ان کے بارے میں یہی توقع بھی تھی، لیکن جو بیانات پرائم منسٹر نے بمبئی کے دورہ کے موقع پر دیئے تھے وہ سازگار ثابت نہ ہوسکے۔ منموہن سنگھ نے اس بات کو کیونکر یاد دلایا کہ اندرا گاندھی نے وی ڈی ساورکر کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ کیا یہ ڈاک ٹکٹ ہندوتوا کے لیے جاری کیا گیا تھا؟ اُن کو یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ اُن کی جماعت صرف اس طریقہ کار کی مخالفت میں ہے جس کے ذریعہ آرٹیکل 370 رد کیا گیا۔ نہ کہ بادی النظر میں آرٹیکل 370 کے رد کرنے سے؟
اسی طریقہ سے کانگریس کے سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان کی فوٹو ہندوتوا لیڈر سنبھاجی بھڈے کے ساتھ تھی۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھیما۔ کورے گاؤں کے تشدد کو بھڑکایا تھا۔ لیکن بعد ازاں چیف منسٹر نے اسمبلی میں اُن کے بارے میں کلین چٹ دے دی۔ کیا کانگریس کے لوگ پرچار سے اس لیے غائب تھے یہ سمجھتے ہوئے کہ کیا ہندوتوا ووٹ کی بناء پر انہیں کامیابی ملے گی۔ کسی نے اس بات کی یاد دہانی بھی کرائی کہ راجیو گاندھی نے کس طرح نامصلحت پسندی سے 1989ء میں الیکشن کی مہم میں یہ کارڈ کھیلا تھا۔ جس کی وجہ سے ہندو ووٹ انہیں نہ مل سکے۔ باوجود اس کے کہ کانگریس ریاست میں غنودگی کی حالت میں تھی۔ اس لیے لوگ سمجھتے تھے کہ امبیڈکر کا اتحاد جو اسدالدین اویسی کے ساتھ ہوا تھا جس میں انہوں نے 14 فیصد ووٹ لینے کے باوجود لوک سبھا کا الیکشن جیتا تھا۔ اسی طرح اس کے خواب میں ایک سیکولر اتحاد بھی اس کے تابع ہوگیا۔ افسوس کہ اتحاد انتخابی مہم کے آغاز سے قبل ہی ٹوٹ گیا تھا۔
کیا اس اتحاد سے کوئی نتیجہ برآمد ہوگا؟ اس طرح سوچنا یا توقع رکھنا عقلمندی تھی؟ اے ایم آئی ایم کا اصل مقصد جب سے وہ مہاراشٹر میں داخل ہوئی وہ کانگریس اور این سی پی کا متبادل بننا چاہتی ہے کہ کس طرح وہ واحد اکیلی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ امبیڈکر جس نے کانگریس اور این سی پی سے پارلیمانی الیکشن سے قبل اتحاد نہ کرکے ایم آئی ایم کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں لوک سبھا کی کئی نشستوں میں ناکامی ہوئی۔ اس مرتبہ بھی اگر انتخابی نتائج پر ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ ونچت اگھاڑی کی وجہ سے کانگریس اور این سی پی کو مواقع کم ہوگئے۔ یعنی کم سے کم 25 سیٹوں پر ان کا نقصان ہوا۔ اس طریقہ سے ان کا سیکولر فرنٹ جو انہوں نے ہندوتوا کے خلاف قائم کیا تھا اُس کا نتیجہ ملا۔

اے آئی ایم آئی ایم کا بمبئی سے صفایا ہوگیا۔ لیکن وارث پٹھان جنہیں شکست ہوئی اُن کے ووٹرس کا فیصد بڑھ گیا۔ مفتی اسماعیل جو ایم آئی ایم کے دو منتخبہ ایم ایل اے میں سے ایک ہیں جو مالیگاؤں سے سابق میں این سی پی کے ٹکٹ سے نمائندگی کرچکے ہیں۔ ہر معاملہ میں یہ ایم ایل اے حضرات کچھ زیادہ کر نہیں دکھا سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگ حیدرآباد کے ایم پی اسدالدین اویسی کی تقاریر کی وجہ سے جن کی تقریر آر ایس ایس کے مشن کو پھیلانے کی سہولت کا باعث بن گئی۔
اس طرح اب مستقبل میں بی جے پی کے منقسمانہ اور مخالفانہ پروگرام کے مقابلہ کے لئے طویل جدوجہد کرنی ہوگی۔ ان تمام کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے مہاراشٹر کے رائے دہندگان نے اُن کے لیے دم لینے کی خاطر کچھ موقع فراہم کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: