اہم خبریںمضامین

سیکولر پارٹیوں کی طرف سے خنجر گھونپے جانے کے بعد اب ہم کیا کریں؟

محمد سفیان قاسمی گڈا جھارکھنڈ

سیکولر کہلانے والی سیاسی پارٹیوں نے جس طرح ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، اس کی وجہ سے اب ہمارے لیے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا لازمی ہو گیا ہے. کیا اب بھی ہم سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دیتے رہیں گے یا ان سے بالکلیہ قطع تعلق کریں گے؟ اور اگر ان پارٹیوں سے دوری بنائیں گے تو پھر کس پارٹی کی حمایت کریں گے جو ہماری امیدوں پر پورا اترے؟ کوئی پہلے سے قائم شدہ پارٹی ہمارے مسائل کو حل کرنے کی قابلیت رکھتی ہے یا کوئی نئی سیاسی پارٹی بنانی پڑے گی اور اگر نئی پارٹی بنے گی تو اس کا دستور و منشور کس طرح کا ہوگا؟ اس بارے میں مکمّل طور پر اور ہر پہلو سے غور کرنا ضروری ہے، ورنہ محض جذبات میں آ کر کوئی قدم اٹھانے سے صرف اپنا ہی نقصان ہوگا کسی اور کا نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا مسئلہ صرف بابری مسجد اور رام مندر کا نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے مسائل ہیں ان کا حل کیسے ہوگا اس بارے میں ہمیں پورے غور و خوض کے بعد ہی لائحۂ عمل طے کرنا اور کوئی اقدام کرنا درست ہوگا

ان سارے موضوعات پر غور کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں کتنا فی صد ہے تاکہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ ہم تنہا کامیاب ہو سکتے ہیں یا اوروں کو بھی ساتھ لینا ہوگا؟ چنانچہ دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں مسلمان چودہ فیصد ہیں جبکہ ہندو اسّی فیصد ہیں اور بقیہ چھ فیصد میں سکھ عیسائی اور بودھ وغیرہ ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے دم پر کوئی سرکار نہیں بنا سکتے ہیں کیونکہ چودہ فیصد مسلمان زیادہ سے زیادہ بالفرض چودہ فیصد ممبر پارلیمنٹ یا چودہ فیصد ممبر اسمبلی منتخب کر سکتے ہیں جبکہ سرکار بنانے کے لئے پچاس فیصد سے زائد ممبر اسمبلی و ممبر پارلیمنٹ کی ضرورت ہے یا کم از کم اکثریتی اکثریتی اعداد کی ضرورت ہے اور بالفرض اس لیے کہا کہ ہندوستان میں جتنے بھی اسمبلی حلقے اور پارلیمانی حلقے ہیں، ان میں سے چند ہی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد پچاس فیصد سے زائد ہے یا وہاں مسلمان اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے دم پر کسی امیدوار کو فتح یاب کر سکیں ، ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے دم پر چند ہی ممبران کو منتخب کر سکتے ہیں اور وہ بھی متحد ہونے کی صورت میں جو کہ ناممکن ہے یا محتاط لفظوں میں کہا جائے تو انتہائی مشکل ہے. جب یہ چند ممبران سرکار نہیں بنا سکیں گے تو اپوزیشن میں رہ کر کیا کر سکیں گے سوائے اس کے کہ وہ چلاتے رہیں، بس فرق یہ ہوگا کہ ابھی باہر چلاتے ہیں اور آئندہ دو تین ممبر اسمبلی یا ممبر پارلیمنٹ ہوجانے سے ایوان میں بھی چلائیں گے مگر دو چار لوگوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہاں تو سو دو سو اپوزیشن ممبران سے بھی فرق نہیں پڑ رہا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اپنی قیادت اور اپنی سیاسی پارٹی کا فارمولا ہو سکتا ہے ایک دو ریاستوں میں کامیاب ہو جہاں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہے بقیہ ریاستوں کے لئے اور بالخصوص مرکزی حکومت سازی کے لئے یہ یہ فارمولا کامیاب نہیں ہے، اس سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا. زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ فارمولا اس پارٹی کے حق میں بہت فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے اس پارٹی کا ووٹ شِیَر بڑھ جائے گا اس کے دو چار ممبر اسمبلی اور دو چار ممبر پارلیمنٹ ہو جائیں گے مگر ایسی اپوزیشن پارٹی کس کام کی ہوگی؟ وہ اپوزیشن پارٹی مسلمانوں کے کون سے مسائل کرے گی ایسی اپوزیشن پارٹی کی سیاسی حیثیت کا اندازہ موجودہ اپوزیشن پارٹیوں سے لگا سکتے ہیں جن کا حشر ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں لہذا اپنی قیادت سے مراد مسلم سیاسی پارٹی والا فارمولا مسلمانوں کے حق میں کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے

بعض لوگ یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم دلتوں کو بھی ساتھ لیں گے، مگر یہ محض اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے، آپ دلتوں کی قیادت قبول نہ کریں اور وہ اپنی جاتی و برادری کے لوگوں کو چھوڑ کر آپ کی قیادت تسلیم کریں ، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، ہم نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے جس بنیاد پر نالاں ہیں کیا کوئی سیکولر ہندو یا دلت ان سے الگ ذہنیت والا ہوگا؟ اگر ایسا ہے تو اسی وقت امتحان لے کر دیکھا جائے، کسی دلت سے پوچھ لیا جایے کہ رام مندر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ مسلمانوں کا جو موقف ہے آپ اس کے ساتھ ہیں یا آپ رام مندر کے حق میں ہیں؟ تو میرے خیال سے سو فیصد دلت رام مندر کی حمایت کریں گے اس سے یہ معلوم ہوا کہ جب کبھی ایسا متنازعہ مسئلہ ہوگا تو وہ ہمیشہ اپنے مذہب کے لوگوں اور اپنے رہنماؤں کی حمایت کریں گے نہ کہ آپ کی،اس لئے دلتوں کو ساتھ کرنے کا فارمولا کامیاب نظر نہیں آتا اور بالکل بدیہی بات ہے کہ جب بات مذہب کی ہو تو ایک مذہب والے آپس میں متحد ہو جاتے ہیں بھلے وہ مختلف برادریوں کے ہوں.

خلاصہ یہ ہے کہ اپنی قیادت سے مراد اگر اپنی مسلم سیاسی پارٹی ہے تو اس سے مسلمانوں کا فائدہ ہونے کی توقع نہیں ہے اور اگر اپنی قیادت سے مراد اپنی قائم کردہ سیکولر پارٹی ہے تو اس سے مسلم پارٹی کے مقابلہ میں کچھ زیادہ کامیابی کے امکانات ہیں مگر یہ اس صورت میں ہے جبکہ یہ پارٹی حقیقت میں کوئی سیکولر پارٹی ہو، یہ نہیں کہ صرف زبانی دعویٰ کیا جائے کہ ہماری پارٹی سیکولر ہے چنانچہ پارٹی کے اندر ہر مذہب اور ہر طبقہ کی نمائندگی اور پارٹی کے عہدوں کی تقسیم سے لگے کہ یہ حقیقت میں سیکولر پارٹی ہے، وہ بلا امتیاز مذہب و ملت ہر ایک کے لیے کام کرے اور فرقہ وارانہ باتوں سے پرہیز کرے، مسلمانوں کی طرف سے قائم کردہ ایسی سیکولر سیاسی پارٹی اگر پوری جد و جہد کرے تو دوسری نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا متبادل بن سکتی ہے، اور پھر آگے چل کر اس کی سرکار بھی بن سکتی ہے یا کم از کم فیصلہ کن پوزیشن میں ہو سکتی ہے

مگر ایسی سیکولر سیاسی پارٹی کا قیام اور اس کے لیے جد و جہد بہت مشکل کام ہے، آسان کام یہ ہے کہ مسلم مسلم کا نعرہ لگایا جائے اور یہ کہا جائے کہ سب مسلمان متحد ہوکر مسلم پارٹی کو ووٹ دیں. مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سے ہوگا کیا؟ اگر تھوڑی دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ یہ مسلمان جو چودہ فیصد ہیں سب کے سب متحد ہوگئے تو کیا جو اسی فیصد ہیں وہ متحد نہیں ہوں گے بلکہ اگر 80 میں سے آدھے یعنی چالیس فیصد بھی متحد ہو گئے تب بھی چودہ فیصد کے مقابلے میں یہ کئی گنا زیادہ ہوا، ایسے میں تو ان کی سرکار بن سکتی ہے مگر چودہ فیصد والوں کا چلانے کے علاوہ کیا راستہ ہوگا؟ پھر ایسے اتحاد سے مسائل کا حل کہاں سے ہوگا؟ بعض لوگوں کی یہ خام خیالی ہے کہ ان لوگوں میں بہت سی برادریاں ہیں اس لئے وہ متحد نہیں ہو سکتے؟ کیا مسلمانوں میں برادریاں نہیں ہیں اور بہت سارے مسلک نہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کافر مانتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کھلا کافر بہتر ہے فلاں فلاں مسلکی کافر سے. اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ فلاں مسلک کے لوگوں کی نہ ہمیں امامت قبول ہے نہ قیادت قبول ہے، نیز مسلم سیاسی پارٹیاں بھی کئی ایک ہیں جو باہم متحد ہو کر الیکشن نہیں لڑنا نہیں چاہتے پھر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کتنے اسمبلی و پارلیمانی حلقے ہیں جہاں مسلمان اکیاون فیصد ہیں یا اپنے دم پر کسی کو فتح یاب کرنے کی پوزیشن میں ہیں ، جن کی بنیاد پر مسلمان بڑی تعداد میں منتخب ہو کر اپنی ریاستی یا مرکزی سرکار بنا سکتے ہیں، کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے، یہاں جنگ بدر وغیرہ کی مثال دینا قطعاً غلط ہے، کیوں میدان جنگ اور میدان ووٹ میں کافی فرق ہے، جنگ میں دس آدمی سو آدمیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہزاروں کے لئے بھی کافی ہو سکتے ہیں مگر میدان ووٹ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اکیاون فیصد ایک طرف ہو، یا اکثریت کا عدد ہو. یہ اکثریت کا عدد کہاں سے اور کس بنیاد پر آءے گا اس پر اصل غور کرنا ضروری ہے

ان ساری باتوں کو رکھنے کا مقصد نہ کسی پارٹی کی حمایت ہے نہ کسی پارٹی کی مخالفت بلکہ مقصد یہ ہے کہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تاکہ جذباتی انداز میں سوچنے کے بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر غور و فکر کیا جائے اور جو بھی لائحۂ عمل بنے وہ قابل عمل اور ملک و ملت کے حق میں مفید ہو، وہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے جیسا نہ ہو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: