اہم خبریں

سی اے اے ،این آرسی اور این پی آر سیکولر اورجمہوری ملک کے لئے خطرناک قدم ہے

کیج ،دھارورضلع بیڑ میںمنعقدہ احتجاجی اجلاس سے مولانا ندیم صدیقی کا خطاب

بیڑ ۔28؍ فر وری( پریس ریلیز ) شہریت قانون ،این آرسی ،این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج و مذمت کا سلسلہ جاری ہے ،عوام بیداری اور سمجھداری کے ساتھ ان کالے قوانین کے خلاف بھرپور مظاہرہ کر رہی ہے جس میں نہ صرف یہ کہ مسلم عوام بلکہ غیر مسلموں کے مختلف فرقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے خواص وعوام بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں ،اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے جمعیۃعلماء مہا راشٹر صوبے بھر میں اس کالے قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اورمختلف مقامات پر احتجاجوں اور پرو گراموں کے ذریعہ عوام کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لئے بیداری کا اہم فریضہ انجام دے رہی ہے۔ان خیا لات کا اظہار جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے کل گذشتہ جمعیۃ علماء کے زیر انتظام تعلقہ کیج ،دھارورضلع بیڑمیں منعقدہ سی اےاے این آرسی اور این پی آرمخالف احتجاجی پرو گرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا صدیقی نے مزید کہا کہ جو لوگ ان کالے قوانین کی تفصیلات سے آگاہ ہیں انہیں کوئی شبہ نہیں کہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق اورملک کے دستوروآئین پر حملہ ہے اوریہ سیکولر اور جمہوری ملک کے لئے خطرناک قدم ہے،جونہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے لئے پریشانیوں کا باعث ہے بلکہ ملک کے ہرشہری کے لئے خطرے کا الارم ہے ۔
مولانا صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے فر مایا کہ اس وقت ہمارا ملک جن ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہا ہے ان حالات میں سی اے اے اور دیگر غیر ضروری قوانین کے خلا ف سماج کے ہر ایک طبقہ کو مل جل کر لڑنا ہوگا ، این آرسی کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے انہوںنےکہا کہ ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیںہے اس کی زد میں ہم اکیلے نہیں آئیں گے بلکہ ملک میں بسنے والی بے شمار برادریاںخاص کر دلتوں کو ان حالات سے گذرنا ہوگا ۔ان قوانین کے خلاف ہماری لڑائی جاری ہے اور انشا اللہ آئندہ بھی جاری رہے گی ۔ انہوں نے ملک کی تحریک آزادی میں جمعیۃ علما ہند کی طویل جدو جہد اور قر بانیوں کا تذکرہ ہوئے فر مایا کہ جمعیۃ علما ہند نے آسام میں کئی لاکھ لوگوں کو شہریت دلانے کے لئے نچلی عدالتوں سے لےکر سپریم کورٹ تک لڑائی لڑی،تب جاکر کامیابی ملی ۔ملک کے موجودہ حالات میں سی اے اے این آر سی اور این پی آرکے نفاذ کا مقصد عوام کو پریشان کرنا ہے اور انہیں ان کے بنیادی حقو ق سے محروم کر نا ہے ۔
جمعیۃ علماء ہندنے آسام کے لوگوں کے لئے خطیر رقم خرچ کرکے بلا تفریق مذہب و ملت کیس لڑا اور این آرسی کے زمرہ میں شامل کرایا۔ سی اے اے کا اصل مقصد آسام کے این آر سی کی فہرست سے خارج شدہ ساڑھے چودہ لاکھ لوگوں کو شہریت دینا ہے اس کی اصل بنیاد ملک کے قانون سے کھلواڑ ہے کیونکہ یہ قانون مذہبی بنیاد پر تفریق کرنے والا ہے یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ ہر ہندوستانی شہری کی لڑائی ہے ۔اجلاس کا آغازقاری محمدسعد صاحب کی تلاوت اور نعتیہ کلام سے ہوا ،مولانا صابر رشیدی جنرل سکریٹری جمعیۃ علما ء ضلع بیڑنے پروگرام کی کاروائی چلائی ۔اس موقع پر مفتی عبد اللہ صاحب صدر جمعیۃ علما ء ضلع بیڑ ،مولانا رمضان ناظم دارالیتامی ،حافظ شبیر صاحب صدرجمعیۃ علماء کیج ،شیخ لیاقت صاحب جنرل سکریٹری ،حافظ عبد الرحیم صاحب نائب صدر مولانا محبوب صاحب نائب جنرل سکریٹری ،مفتی طلحہ صاحب نائب صدر،حافظ عبد القدیر صاحب رکن ،حافظ اظہر فاروقی ابو عیان فاروقی ،شاداب بھائی ،زبیر شاہ ،افسر پٹھان ،صدام شیخ ،مبین شیخ ،اکرم جرگر و دیگر شریک تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: