اہم خبریں

سی اے اے…… بہت دیر سے جاگے ہم

محمد یاسین جہازی

CAB، 12دسمبر 2019کو صدر جمہوریہ کے دستخط سے CAAبن گیا، جس میں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کی اقلیتوں یعنی ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور کرسچن،جو مذہبی ظلم و ستم یا مذہبی ظلم و ستم کے خوف کی وجہ سے بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہوئے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے بھارت میں داخل ہوگئے ہیں،انھیں شہریت دی جائے گی؛ ان کے علاوہ اگر کوئی مسلمان اسی وجہ سے بھارت آتا ہے، تو اسے شہریت نہیں دی جائے گی۔
باہر ملک سے کون آرہا ہے، یا نہیں آرہا ہے دراصل یہ مدعی ہی نہیں ہے؛ بلکہ سرکارکا اصل مقصد NRC کی لسٹ سے باہر رہ جانے والے غیر مسلموں کو بچانے کے لیے CAAکو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے، تاکہ اس میں مذہبی تفریق کی وجہ سے ہندو مسلم مسئلہ بن جائے اور مسلمانوں اور چھوٹی ذات کے غیر مسلموں کو بھی ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جائے؛ لیکن چوں کہ بھارت کی تہذیب میں ہی ہندو مسلم اتحاد شامل ہے، اس لیے اس قانون کے خلاف سبھی بھارتی مذہب کی تفریق کیے بغیر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے اور اس قانون کی شدید مخالفت شروع کردی۔ علاوہ ازیں دستور ہند کی دفعہ 14کی روح کے منافی ہونے کی وجہ سے آئین ہند کے تحفظ کے لیے سبھی ہندستانی متحد ہوگئے، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔
تمام بھارتیوں کا یہ اتحاد قابل قدر بھی ہے اور قابل تقلید بھی، لیکن موجودہ سرکار کے مذہبی خطوط پر نفرت انگیزی پر مبنی دستور میں ترمیم کا یہ سلسلہ کافی پرانا ہے۔
چنانچہ اس سرکار نے 7/ ستمبر 2015کو فورنر آڈر1948 کے پیراگراف 3کے بعد درج ذیل ترمیم کی، جو سراسر مذہبی تفریق پر مبنی ہے:
”3 A۔ غیر ملکیوں کے مخصوص طبقے کو چھوٹ(I) بنگلہ دیش اور پاکستان کی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، یعنی ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور کرسچن جو مذہبی ظلم و ستم یا مذہبی ظلم و سمت کے خِوف کی وجہ سے بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہوئے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے بھارت میں داخل ہوگئے ہیں، جن کے پاس (a)والڈ ڈاکیومنٹ جیسے پاسپورٹ یا ٹراول دستاویز ہو یا …………(b)نہ ہو۔ اورجنھیں پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1950کے ضابطہ 3 کی دفعہ 4کے تحت پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1920 (1920کا 34) کے سیکشن 3 کے تحت ترمیم کرکے چھوٹ (شہریت) دی گئی ہے۔
پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1950کے ضابطہ 3 کا خلاصہ یہ ہے کہ بھارت کا غیر شہری کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ سے بحری، بری یا ہوائی راستہ سے بھارت میں داخل نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے پاس والڈ پاسپورٹ …… وغیرہ نہ ہو۔
اس میں 7ستمبر 2015کو پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1920 (1920کا 34) کے سیکشن 3 کے تحت جو ترمیم کی گئی ہے، اسے بھی ملاحظہ کریں:
4(1) ضابطہ3 سے درج ذیل حضرات مستثنی رہیں گے:
(ha) افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے اقلیتی افراد، یعنی ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور کرسچن جو مذہبی ظلم و ستم یا مذہبی ظلم و ستم کے خوف کی وجہ سے بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہوئے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے بھارت میں داخل ہوگئے ہیں، جن کے پاس (a)والڈ ڈاکیومنٹ جیسے پاسپورٹ یا ٹراول دستاویز ہو یا (b)نہ ہو۔
اسی طرح زیادہ مدت رہنے یا ویزا کی خلاف ورزی کرنے پر لگائے گئے چارجز میں مذہبی تفریق کی گئی ہے۔چنانچہ اس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے اقلیتی افراد کے لیے دو سال سے زیادہ ٹھہرنے پر 500، نوے دن سے دو سال تک کے لیے 200روپیے اور نوے دن کے لیے 100 روپیے چارج لگیں گے، جب کہ ان کے علاوہ دوسرے شخص کے لیے علی الترتیب 500 ڈالر(36ہزار روپیے)، 400ڈالر(28900روپیے) اور 300ڈالر (21000روپے) کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔
چنانچہ 10 دسمبر 2019کے the Hinduمیں چھپی ایک خبر کے مطابق بنگلہ دیشی کرکیٹر سیف حسن کو ایک دن زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے 21000روپے کا جرمانہ لگایا گیا، جب کہ اس کی جگہ اگر کوئی لاتن داس ہندو ہوتا تو اسے صرف 100روپے ہی جرمانہ لگایا جاتا۔
فورنر ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ دونوں میں یہی کہا گیا ہے کہreligious persecution or fear of religious persecution یعنی مذہب کے نام پر ستائے گئے افراد کے لیے یہ قانون لاگو ہوگا۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ کرکیٹر اگر دوسرے ملک میں کھیلنے کے لیے جاتے ہیں، تو وہ کوئی مذہبی مظلوم نہیں ہوتا۔
راقم کا ماننا ہے کہ بی جے پی سرکار نے مذہبی خطوط پر یہ ترمیم کرکے عوام کے رد عمل کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ جب یہ دیکھا کہ پوری قوم بے شعوری کی نیند میں خراٹے لے رہی ہے، تو کیوں نہ CAAلاگو کردیا جائے؛ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہو اکہ جنتا نے حکومت کے غلط ارادے کو بھانپ لیا اور جس مذہبی خطوط پر فرقہ وارانہ نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہی تھی، اس میں سراسر ناکام ہوگئی۔
راقم کا شکوہ یہ ہے کہ جنتا میں اور؛بالخصص مسلمانوں میں بھی وکیلوں کی کمی نہیں ہے؛ بالآخر ان خاص لوگوں نے بھی فورنر ایکٹ اور پاسپورٹ وویزا قانون میں ترمیم کے وقت ہی کیوں نہ آواز اٹھائی اور قوم کو جگانے کا فریضہ کیوں نہیں انجام دیا۔ راقم نے جب اس موضوع پر ایک صاحب سے تذکرہ کیا، تو انھوں نے بتایا کہ میں نے کئی وکیلوں سے اس پر استفسار کیا تو وکیلوں نے جواب دیا کہ ہمیں ایسی ترمیم کا علم ہی نہیں ہے۔ جب اہل دانش و بینش طبقے کی بے خبری کا یہ عالم ہوگا، تو اس کا نتیجہ کیا نکلنا چاہیے…… وہ سب کے سامنے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ خوشی کی خبر یہ بھی ہے کہ خواہ 2019 میں ہی سہی؛ بالآخر جنتا بیدار ہوئی اور اس مذہبی نفرت انگیزی کے خلاف نیشنل سطح پر جو جنگ لڑ رہی ہے، وہ ان شاء اللہ انصاف ملنے تک جاری رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close