مضامین

شادیوں میں تاخیرکیوں؟

ڈاکٹرراحت مظاہری،قاسمی

میں یوپی کےاِٹاوہ شہرکی باشندہ ہو ں،میرانام۔۔۔۔۔۔خان ہے،میرے پاپابریلی(اترپردیش) کے ایک بڑے پولیس افسرکے دفترمیں تعینات ہیں،وہ میری شادی میرے تایاکے بیٹے کے ساتھ کرناچاہتے تھے، جوکہ مجھ کوپسند نہیں، اس طرح میرا دھارمک شوشن(استحصال) ہورہاتھا، اسی طرح کےمیرے اوپر اوربھی کئی مذہبی فیصلے میری مرضی کے خلاف تھوپے جارہے تھے میں ان کونہ ماننے کی وجہ سے اپنے گھرسے بھاگ کر ہری دُوار جو (ہندودھرم استھل ہونے کی وجہ سے) دیونگری کے نام سے مشہورہے، یہاں پناہ لینے آئی ہوں، جہاںکی پولیس بھی مجھ کواپناپوراتعاون دے رہی ہے جبکہ اترپردیش پولیس مجھ پر اپنے اہل خانہ کے پاس واپسی کے لئے دباؤبنا رہی اورمجھے انکاؤنٹرکی دھونس بھی دے رہی ہے۔
یہ کہانی کسی ایک لڑکی کی نہیں بلکہ ہندومسلمانوںدونوںہی فرقوںمیں بہت ساری نوجوان اور کنواری دوشیزاؤںکی ہوسکتی ہے کہ ان کی شادی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے وہ خودمختار، منھ پھٹ اوراپنےخاندان سے باغی ہیں۔جس طرح آ ج بھی ایک خبراترپردیش کے اورائیا ضلع کے بدھوناقصبہ سے ہے جہاںکے ایک گاؤں کا باشندہ امن(ہندو) دہلی میں کام کرنے آیاتھا، اس کا معاشقہ ایک مسلم لڑکی ریشمہ سے چلا،ریشمہ اس کےساتھ بھاگ کراورئیاگئی اوروہاںجاکر اس نے ہندودھرم کے ریت رواج پر سات پھیرے لئے۔اس پراب یوگی بھی خاموش ہیں اوراترپردیش پولیس بھی کیونکہ مال اپنے گھرمیںآیاہے۔
بہرحالآپ خودہی یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ گھراوراہل خانہ سے ناراض ایک مرد اورلڑکابھی اپناقدم گھرسے نکالنے سے پہلے ہزاربارسوچتاہے کہ وہ بھاگ کرکہاںجائے گا؟
اوریہاں ایک لڑکی ضع اٹاوہ سے بھاگ کرسیدھی دیونگری پہنچ گئی، میڈیاکے سامنے اس کی بیچ کی کسی کہانی اور اوراپنے دکھ بھرے سفرکاکوئی ذکر نہیں کرتی، کیاآپ کو اس کہانی میں کوئی جھول اورگہری سازش یا اس کے سفرمیں کسی غیرکاہاتھ نظرنہیںآتا؟ کہ اٹاوہ سے وہ اپنے رشتہ داروں، اوراپنے پیدائشی اسٹیٹ یوپی سے بھاگ کر سیدھی ہری دُوارہی کیوں اورکیسے پہنچ گئی، جبکہ وہ اپنے شوشن کے مدعاپر اپنے قریبی رشتہ داروںماما، نانا، اوربھی کسی سہیلی یا پڑوسی کو بھی بیچ میںڈال سکتی تھی ۔
نیز اسی ویڈیوں میں ایک جنونی دَل کے نوجوانوں کے اپنے دھرم کے نعرے لگاکراس دوشیزہ کواپنی چھترچھایا مہیاکرانے اوہرممکن یقین دہانی کااعلان بھی کرتے نظرآتے ہیں ان سب باتوں سے مشتبہ کہانی کی حقیقت پرت درپرت کھل جاتی ہے، کہ وہ کسی غیرمسلم لڑکے کاجال میں پھنس کرہری دوارپہنچی ہے۔
ظاہربات ہے کہ یہ سب لڑکی کی شادی بروقت نہ کرنےاورلڑکی کی عمرزیادہ(کم ازکم اٹھائیس ، تیس اورپینتیس) ہونے کانتیجہ ہے،عمرزیادہ ہونے ہی کے نتیجہ میں ان چند برسوںمیں کئی ہزار ہندو، مسلم لڑکیاں ادھرسے اُدھر اوراُدھرسے اِدھرہوچکی ہیں، جیساکہ2017-2018میںبھونیشورکی خوشنماپروین(32)حیدرآباد کی ناظمہ(28)وجے واڑہ کی عشرت، لکھنؤکی عالیہ وغیرہ مسلم رسم ورواجوںکو چھوڑکرہندومیرج ایکٹ کے تحت ہندولڑکوںسے اپنی شادیاں کرچکی ہیں۔
اسی طرح کی دیگرمتعدد مسلم لڑکیاں بھی ہندولڑکوں سے شادی کرچکی ہیں….
اور یہ سب صرف مسلم سماج ہی کادرد نہیں دوسری جانب بھی یہی وِڈمبنا ہےجس طرح ایک ویوڈیو میں ایک جَین مُنی سے ان کے پرووچن کے پروگرام میں دوجینی بہنیں اپنے دھارمک پیشواسے سوال کرتی ہیں
گروجی! نوجوانوںکی شادی کی عمر کیاہونی چاہیئے؟
منی جی نے : کہ ہمارے دھارمک گرنتھوںکے مطابق لڑکے کی عمر 21اورکنیاکی18ہونی چاہیئے کہ مگر شکشااوردوسرے کارنوںسے آج بچوںکی شادی ان کی صحیح عمر پر نہیں ہوپارہی ہے جوکہ چِنتاکا وِشے ہے۔
اتناہی نہیں موصوف نے پروگرام میں شامل دونوجوان لڑکیوں سے بات کرکے سماج کوآئینہ بھی دکھادیا۔
گروجی نے ایک لڑکی سے اس کا نام معلوم کیا، پھراس کی تعلیم پوچھی،اس نے اپنے نام کے بعد بتایا: میں بی اے تھرڈایئر کی طالبہ ہوں۔
پھرانھوں نے اس سے سوال کیا:اچھایہ بتاؤ کہ تم اپنی سہیلیوںمیں سے کتنی لڑکیوںکو سلامت(پاک دان، بے داغ) مانتی ہو؟
اس نے جواب میں کہا ایک فی صد(ایک سومیں سے صرف ایک)۔
گروجی نے اس پر ایک ایساجملہ کہا جس کامطلب تھا کہ تم نے خود کوبچالیا،اس پر وہ لڑکی شرماکےرہ گئی۔
پھرگروجی نے ایک اورلڑکی سے بھی یہی سوال کیا جوکہ سی اے کا کورس کرہی تھی،جس نے صحیح سلامت لڑکیوںکی تعداد کھینچ تان کر دو، تین فی صدتک بتائی ،جس پر گروجی نے بھرے مجمع میں کہا: شادی کے علاوہ باقی سارے کام ہورہے ہیں۔
دوستو! یہ تین تصویریں ہیں جن سے ہمارامقصد یہ ہے کہ اس موضوع کو لے کر صرف مسلم دانشورا ور علماہی پریشان نہیں بلکہ دوسرے بھی از حد متفکرہیں،
لہٰذا اسباب وعلل پر غورکیجئے جو شادی کی تاخیرکاسبب ہیں اورپھراس کا علاج ومداواتلاش کریں
شادیوں میں بڑھتی عمرکارجحان اوراس کے اسباب پرایک خاتو ن قلم کارمحترمہ ام ذکیہ حنفی کاخیال ہے
ّّْْٓٓ آج سے تقریباً پندرہ سال پہلے معاشرے کا جو رجحان تھا،اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی 25 سال کی عمر سے پہلے پہلے کر دی جاتی،تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا، 25 کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتاتھا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ہوگئی ہے.اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ دیری کا یہ پیمانہ3 یا4 سال پہلے تصور کیا جاتا ہو…پھر 7،8 پہلے یہ صورتحال ہوئی کہ30 سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دی جانے لگی۔یعنی محض سات آٹھ سال میں پانچ سال کا فرق آگیا۔ اب بھی ایسے معاملات ہیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں30-40 کے درمیان ہوچکی ہیں لیکن رشتہ ندارد۔
رشتوں میں دیری کا رجحان ہمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔لیکن حیف کہ اس کاعملی ادراک معاشرے کے چند لوگوں کو بھی نہیں۔
ممبئی کی سیدہ تبسم منظورجوایک سوشل میڈیاچینل کی ایڈیٹرہیں ان کاکہناتویہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں شادی کے لئے ڈھلتی عمرکاتصورہی
نہیںتھا۔پاکستانی ادیبہ سیدہ ماہین کاخیال ہے کہ ہمیںاپنے معاشرہ میںسادہ نکاح کارواج پیداکرناہوگاجوسب کے لئے قابل برداشت ہو، جس شادی میں نمائش ہواورلوگوںمیںاحساس کمتری پیداہووہ شادی معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہے۔
آئیں!اس دیری کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں،ام ذکیہ حنفی نے تفصیل سے اس کی دس سے زیادہ وجوہات گنائی ہیں مگرمختصراََ ہماری سوچ کے مطابق بڑے اسباب میں،(1)بھاری جہیز،(2)اعلیٰ تعلیم(3)لڑکیوںمیںقدکاچھوٹاہونا، ،(4)،موٹاپا،(5)ذات ، برادری کاکفواہم وجوہات ہوسکتے ہیںاسی لئے اسی پرغورکریں۔
جہیز:جہیزکے بغیرہمارے معاشے میں شادی کاتصورہی نہیں ہے جوکہ ہندستانی سماج کی ایک بڑی مشکل ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہندوبھائیوںمیں دھارمک روسے جب کنیادان کردیاجاتاہے توگویاس کو باپ کی دہلیزسے ہمیشہ کے لئے جدکردیاگیااورجس سے اس کی شادی ہوئی ہے مکمل اس کے رحم وکرکم پر چھوڑدیاجاتاہے ، وہ مارے، پیٹے ، پائوں کی جوتی بناکے رکھے یاپھرسرپربٹھائے، کیونکہ ان کے دھرم کے مطابق سات جنموںکا ساتھ ہے اسی لئے ہندودھرم میں شوہرکی طرف سے لاکھ یاتنائیں بھگتنے کے بعد بھی اب سے چند برس پہلے تک طلاق اورجدائی کاکوئی تصورنہیں تھا، اسی لئے جب بہو یہ دیکھتی کہ جلنے، خود کشی کرنے کے سواا ظالم کے چنگل سے چھوٹنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تووہ خود کشی کرلیاکرتی، پھرایک دورایسابھی آیا کہ سسرالیوںنے بہوؤںکوان کامن ماناجہیز اورپیسہ نہ ملنے پربہوؤںکوخودہی جلاناشروع کردیا۔ شوہرکی موت پر عورت کوبھی شوہرکی چتامیںشوہرکے ساتھ ہی جلادیاجاتاتھا، کیونکہ اسکو سماج میں اب زندہ رہنے کاکوئی حق نہیںتھا۔جبکہ اسلام مذہب میں بیٹی کے لئے باقاعدہ اس کے باپ کی وفات پر باپ کے مال میں وراثت کاحصہ متعین ہے، اسی لئے قرآن نے اپنی بہن بیٹیوں اوروارثین کی وراثت ہڑپنے والوںکے لئے بہت سخت لہجہ اختیارکیاہے
کلّا بل تاکلون التراث اکلالما(سورہ الفجر:21-24)خبردار! تم پوری پوری وراثت ہڑپ کرجاتے ہوں،اورمال کوجان سے زیادہ عزیز رکھتے ہو،یقیناََجس وقت زمین کوٹ کوٹ کوٹ کربرابرکردی جائے گی،اورتمہاراراب ـخود) آجائے گا، اورفرشتے(اللہ کے ڈر ، یالوگوںکاحال دیکھنے کے لئے باادب، خاموش) صفیں باندھ کرکھڑے ہوںگے، اورجس دن جہنم بھی لائی جائے گی،اس دن انسان کو سمجھ آئے گی ، مگرآج اس کے سمجھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
بھارت میں1961 کے بعد سے جہیزکا لین،دین غیرقانونی ہے، لیکن پھربھی اس کے خلاف بڑے زورشورسے عمل کیاجاتاہے، یعنی عملاََ قانون غیرموثرہے۔
2015 میں خواتین وبچوںکے پارلیمانی وزیرنے ہائوس کوبتایاتھا کہ جہیزتنازع پرگذشتہ تین برسوں میںہرسال 80 ہزارسے زیادہ ہلاکتوںکاریکارڈہے۔(بی بی سی)
اعلیٰ تعلیم:ہرسال دہلی کی ایک غیرسرکاری این جی او دھنک کے واسطہ سے لگ بھگ ایک ہزارایسے لڑکے، لڑکیاں شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں جن کامذہب ایک دوسرے سے مختلف ہوتاہے، سوسائٹی کے مطابق اس میں ایک اہم فیکٹر اعلیٰ تعلیم اوربڑھتی عمرکاہوتاہے،ان جوڑوںمیں52 فی صدہندولڑکیاںمسلم لڑکوںسے اور42 فی صد مسلم لڑکیاںہندولڑکوںسے شادی کرتی ہیں۔

اسی طرح کی شادیوںپرقدغن لگانے کے بھارت میں حکمراں طبقے کے زیراثر آرا یس ایس، بجرنگ دل اوربی جے پی لیڈروںنے پورے ملک میں لوجہادکے خلاف پورے زورشورسے اپنے سنگھرش کادروازہ کھول دیاہے، جس کے لئے ابتدایوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک الیکشن سبھامیں یہ بکھانتے ہوئے کی ہےتھی۔
اگررُوپ بدل کوبہن، بیٹیوںکی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے نہیں سدھرے تو ان کی رام نام ستیہ کی یاترانکلنے والی ہے۔
یادرہے کہ یوگی جی کے اس خیال میں نہ ملک کے ہندؤں اورصوبے کے لئے کوئی خلوص ہے اورنہ ہی نیک نیتی، بلکہ ان کاتو وہی ایک اورسوتری کاری کرم ہے کہ مسلم نوجوانوںکو ستانا اوران کی دھرپکڑ اوراستحصال ہے نہ کہ ہندولڑکیوںکی عزت وعصمت کی حفاظت۔ اب تک کے توثبوت یہی ہیں کہ اگرمسلم لڑکاکسی ہندولڑکی سے شادی کرلے تولوجہادہے ، مگرجب اس کاالٹاہوتورومانی تعلق اور اس کی تشہیر۔جبکہ بقول کیرالہ کے سابق ڈائریکٹرآف پولیس این سی استھانا:جبری شادیوںکے لئےلوجہاد کے نام سے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ جبری شادیوںکے خلاف بھارت میں پہلے ہی سے قانون موجودہے۔
نیز اب یوگی کی پہل پر لوجہاد کے خلاف بھارت کے چارصوبوں اترپردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش اورکرناٹکامیں بھی یہ قانون بن چکاہے نیز جلد ہی مزیدچاراورصوبوںمیں بھی پاس ہونے والاہے۔ اللہ حفاظت کرے۔
واضح ہوکہ لوجہاد کی اصطلاح 2018 میںہادیہ(اکھیلااشوکن)اورشافعین کی شادی سے عام ہوئی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں یہ تسلیم کیاہے کہ اکھیلااشوکن(ہادیہ) شافعین کے ٹچ میں ٓنے سے قبل ہی اسلام قبول کرچکی تھی اوریہ شادی ہادیہ کے اسلام قبول کرنے اوراپنے اہل خانہ سے جدائی کے بعد بلکہ ایک مسلم فیملی کے واسطہ سےہوئی تھی۔
یوگی نےاپنے اس ارادے کے پیچھے الٰہ آباد ہوئی کورٹ کے اس فیصلہ کو دلیل بنایاہے :صرف شادی کے لئے مذہب کی تبدیلی غیرقانونی ہے، ہم بھی اس فیصلہ سے متفق ہیں کہ اگرکوئی لڑکا، لڑکی اسلام قبول کرے تو اس کوخالص نیت سے ہی مسلمان بنناچاہیئے جیساکہ مشکاۃ شریف کی پہلی ہی(اخلاص نیت والی) حدیث میں ایک صاحب کااپنی محبوبہ سے نکاح کے لئے اسلام قبول کرکے مدینہ حاضری کاذکرہے۔یہ بھی واضح ہوکہ انٹرکاسٹ اور مابین المذاہب شادی کے لئے سپرم کورٹ کے چیف سابق چیف جسٹس شری دیپک مشرا کی تین رکنی بینچ کایہ فیصلہ ہے کہ :بالغ لڑکا، لڑکی جواپنی شادی کے لئے آپس میں رضامندہوںان کی شادی کوردنہیں کیاجاسکتا۔
اعلیٰ تعلیم:پاکستانی صحافی سعدیہ ودود: شادی سے قبل میں نے اپنے رشتہ داروں اورعزیزوںکے یہاں فنکشنس میں جاناچھوڑدیاتھاکہ میری شادی کی تاخیر پر مجھ سے طرح طرح کے سوال کئے جاتے تھے کیونکہ میں عمر ، صحت اورشباب کے رخصت کی منزل کی طرف چل پڑی تھی،سعدیہ ودودکے مطابق25 سال کے بعد لڑکی کی عمرکی ایکس پائری ڈیٹ( )شروع ہوجاتی ہے۔

ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ بروقت اورکم عمری کی شادی کو لڑکپن پرظلم ،ترقی کے منافی اور پرانے زمانے کی جہالت خیال کیاجاتاہے۔
جبکہ بروقت شادی کے دوسرے فائدوںکے ساتھ یہ بھی ایک خوش آئند پہلوہے کہ اس وقت بغیرکسی الجھن کے بچہ پیداہونے کی سہولت ہوتی ہے پاکستان قائداعظم یونیورسٹی کی سابق سربراہ فرزانہ باری کامانناہے :شادی کی کوئی خاص عمر تومتعین نہیں کہ اتنی ہی عمر میں ہومگرقدرتی طورپرہر انسان اپنس گھر، باربسانے اوراپنی نسل کی بڑھوتری چاہتاہے اس لئے باقی تمام ترباتیں چھوڑکویہ توقع کی جاتی ہے کہ بروقت اپنی نسلیں پیداکریں۔
گائناکولوجسٹ ڈاکٹرثمرینہ:20-22 عمرسبھی لحاظ سے بچہ پیداکرنے کے لئے بہترعمر سمجھی جاتی ہے۔
یہ وہ تجربات تھے جوکہ ہم اورآ پ جیسے انسانوںکی رایوںپر مشتمل تھے اب اللہ کے پیغمبر اورجوامع الکلم کے دربارعالی میں بھی دیکھئے کہ بچوںکے شادی میں تاخیرکاکیابدانجام ہے جس کی طرف سے قطعاََ ہماری آنکھیں بندہیں
موٹاپا:ظاہرہے کہ اس میں آج کے عیش وعشرت، کھان، پان، جنک فوڈ، پیپسی، کولڈڈرنک، پزّا اوربرگرکاہم رول ہے،
قدچھوٹاہونا:اس میں ظاہرہے کہ انسان کوکوئی دخل نہیں ، یہ ایک قدرتی معاملہ ہے، پھرآپ پہلے کے مقابلہ مردحضرات میںبھی پستہ قدی سے واقف ہیں،
لڑکے کی شادی:حضرت ابوسعیدخدری اورحضرت عبداللہ بن عبّاسؓ دونوںراوی ہیں ،کہ فرمایا رسول ﷺ نے: جس شخص کے لڑکا(بچہ)پیداہوتواس کوچاہیئے کہ(1) اس کا اچھانام رکھے(2)اس کی اچھی تعلیم وتربیت کرے(3)اورجب وہ بالغ ہوجائے تواس کانکاح کرے۔
اوربطورخاص لڑکی کے بارے میں ارشادہے:توراۃ میں یہ لکھاتھا:جس کے یہاں لڑکی ہوتوجب وہ لڑکی 12 سال کی ہوجائے تواس کی شادی کردے، اورخدانہ کرے اس نے کوئی گناہ کیا توا کس وبال اس (باپ، وارثین)آدمی پر بھی ہوگا۔
کفوکے بارے میں ہم بالکل ہندستانی طرزپرہیں ، کہ بعض علاقوں اوربرادریوںمیں توآج بھی یہ رسم ورواج ہے کہ فلاں گاؤں سے ہم بیٹے کے لئے دلہن نہیں لاسکتے کیونکہ وہ ہمارااپنا گوتّر اوراپناخاندان ہے، اورہماری بیٹیوںکی شادی بھی اس گاؤںمیں نہیں ہوسکتی جہاں سے ہم دلہن لاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: