مضامین

شادی میں غیر اسلامی رسم و رواج سے پرہیز کریں ! :

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

انسانی نسل کے تسلسل کے لئے مختلف ادوار میں مرد و عورتوں کے باہمی تعلق کی مختلف جائز و ناجائز شکلیں رائج رہی ہیں، اسلام نے ایک اجنبی مرد اور عورت کے رشتے کو میاں بیوی کے بندھن میں جوڑنے کے لئے نکاح کو مشروع کیا جو ایک مخصوص اور مبارک عمل ہے اور اس کے بعد دو اجنبی انسان ایک دوسرے کے تا زندگی ساتھی بن جاتے ہیں اور ان دونوں کو قرآن کریم میں ایک دوسرے کے لئے لباس قرار دیا گیا ہے، مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی نے ضلع غازی آباد کے شہرِ لونی، انصار وہار میں ایک نکاح کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ نکاح بسا اوقات نکاح واجب ہوتا ہے جبکہ بسا اوقات مستحب اور کبھی کبھی مکروہ بھی ہوتا ہے، اس تعلق سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ یہ حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” اے نوجوانوں تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نظر کو جھکاتا ہے اور شرم گاہ کو محفوظ رکھتا ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ اس سے خواہش نفس مرتی ہے” اس سے معلوم ہوا کہ اگر انسان اپنا گھر چلانے اور بیوی کے نان نفقہ کا انتظام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تبھی اسے نکاح کرنا چاہیئے لیکن اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو پھر شریعت کی ھدایت یہ ہےکہ وہ نوجوان روزہ رکھے کیونکہ اس سے انسان کی بہیمی و نفسانی خواہشات کنٹرول میں رہتی ہیں، مزید مولانا نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کی شادی میں دینداری کو وجہ ترجیح قرار دینا چاہیئے تاکہ دونوں خاندان میں محبت و تعلق اور خوشگوار رشتہ قائم ہو اور شریعت کی جانب سے دی گئی ہدایت ملحوظ ہونی چاہیئے جس میں دینداری کو خاص اہمیت دی گئی ہے.
ــــــــــعــــــــ
رواج بے حجابی خوشنما کانٹوں کی مالا ہے
نئی تہذیب سے ہو شیار یہ تاریک اجالا ہے…

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: