مضامین

شاعراسلام حضرت مولاناعبدالحمیدصاحب بربلپوری

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 30دسمبر1947ء……فاضل دیوبند1970ء

حضرت مولاناعبدالحمیدصاحب بربلپوری عربی اول سے لیکردورہ حدیث تک کے میرے کلاس فیلوہیں،مدرسہ امدادالعلوم اٹکی رانچی،مدرسہ اعزازیہ پتنھہ بھاگلپور، اور دارالعلوم دیوبندمیں ساتھ رہے ہیں یہ ہمارے درجے میں ذہین وفہیم طالب علم شمارکئے جاتے تھے۔انکاعلم پختہ اورمطالعہ وسیع تھااس لئے فراغت کے بعدہی مدرسہ گلزارحسینہ اجراڑہ ضلع میرٹھ یو۔پی۔میں استاذعربی کے لئے منتخب ہوئے منتخب ہوگئے اورچندہیں دنوں میں مولانانے شگفتہ بیانی،نکتہ سنجی اورنکتہ آفرینی میں نام پیداکرلیااورایک مؤقراستاذ کی حیثیت سے جانے پہچانے جانے لگے۔
آپ نے تقریباًچھ سال تک اس گلشن کی ابیاری کی ۷۷۹۱ء میں مدرسہ شمسیہ گورگاواں کی جانب سے استادحدیث کی پیشکش کی گئی،اسمیں بلنددرجات اورتنخواں کی فراوانی کے ساتھ اہل وطن کی خدمت کاشرف عظیم تھا،اسلئے آپ نے اس دعوت کوقبولیت سے نوازاورشمسیہ کے لئے وقف عام ہوگئے۔
آپ اس وقت پورے علاقے میں اونچے علماء میں سے شمارکئے جاتے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ سینپورسے آپکوقلبی لگاؤہے،خوش قسمتی سے مولاناادریس صاحب کیواں مہتمم مدرسہ ھٰذاآپکاشاگرداورپروردہ ہیں اسلئے مدرسے کاتعلیمی ڈھانچہ آپ ہی کے مشورے سے تیارکیاجاتاہے،رات میں آپ مدرسہ اسلامیہ سینپورمیں قیام فرماتے ہیں اوراونچے درجے کی مشکل کتابیں طلبہ کوپڑھاتے ہیں۔
آپ قادرالکلام شاعربھی ہیں،نعت،غزل،نظم اورقصیدوں کاایک بڑامجموعہ آپکاتخلیقی شاہکارہے،آپ وجدمیں آدرزمزمہ سنج ہوتے ہیں تومحفل میں ایک سماں بندھ جاتاہے،پوربی زبان میں آپکی نعت رسول توزبان زدعوام ہوگیا،اورہربزم میں الکے پڑھنے کی فرمائش کی جاتی ہے،علاقے میں آپکے ورودسے قبل مجلس مشاعرہ کاکوئی تصورنہیں تھالیکن جب آپ علاقے میں رہنے لگے،تواس انجمن میں ایک نئی روح پھونک دی اورہرجگہ بلبلان خوش نواچہکنے اورگنگنانے لگے،آپکی سرپرستی میں علاقے میں کئی مقتدرشعراء تیارہوئے جنکامجموعہ کلام شائع ہوکرمقبول عام ہوا۔
یک چرا غیست دریں بزم کہ از پر تو آں
ہر کجامی نگری انجمنے ساختہ اند

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: