مضامین

شاہین باغ اور دہشتگردوں کا حملہ

شاکر حسین عابدی قاسمی

ابھی تک تین تین دہشتگرد شاہین باغ میں جاکر دہشت پھیلانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ گوڈسے وادی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح سے گاندھی وادیوں کو ڈرا دیں گے تو یہ ان کی بھول۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سب واقعے اتفاقی ہوں مگر پھر بھی چند پہلووں پہ غور کرنے کی ضرورت ہے

۱) دہشتگرد شاہین باغ جارہے ہیں یا بھیجے جارہے ہیں؟؟ اور اگر بھیجے جارہے ہیں تو اس کے پیچھے کون کام کر رہا ہے۔ اس کی بھی تحقیق ہونی چاہئے۔
۲) سب کے پاس غیر قانونی ہتھیار برآمد ہورہے ہیں۔ آخر ان کے پاس یہ ہتھیار کہاں سے آتے ہیں، کون ہے جو ان کو ہتھیار مہیا کراتا ہے؟؟

۳) پوری دنیا میں شاہین باغ سے زیادہ شریف لوگ (مظاہرین) نہیں رہتے۔ یہ ان کی شرافت ہے کہ آتنکوادیوں کو پکڑ کر شرافت سے پولس کے حوالے کردیتے ہیں۔ ورنہ تو اسی دیش نے دیکھا ہے کہ کبھی گائے کے نام پہ کبھی گوشت کے نام پہ ایک بناوٹی بھیڑ نے بے قصوروں کر مار مار کر جان تک لے لی۔ اور وہاں موجود تماشائیوں نے اس ڈر سے زبان نہیں کھولی کہ کہیں ہم بھی اس کی لپیٹ میں نہ آجائیں۔ جب کہ شاہین باغ مظاہرین کی شرافت کی داد دینی پڑے گی کہ وہ آتنکوادیوں کی خاطر تواضع بھی نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ دہشت گرد یہ سوچتے ہوں کہ وہاں فائرنگ کروں گا، شریف لوگ پکڑ کر پولس کے حوالے کردیں گے، پولس داماد بناکر لے جائے گی۔ دو چار سال بعد بی جے پی ٹکٹ دے دے گی۔

میرے ایک جاننے والے کو بخار ہے۔ جس کی بنیاد پہ تین ہفتوں سے غسل نہیں کیا۔ جبکہ کہ میرے ایک حکیم دوست کا کہنا ہے کہ ہر بخار کا علاج دوائی نہیں بلکہ کچھ بخار کا علاج دُھلائی (نہلانا) بھی ہوتا ہے۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: