اہم خبریں

شاہین باغ…… واقعی شاہینوں کا باغ ہے

محمد یاسین جہازی…… 9891737350

سی اے بی،سی اے اے بننے سے لے کر اب تک پورے بھارت میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی و اطراف میں منعقد ہونے والے مختلف احتجاجوں میں شرکت کی کوشش رہتی ہے۔ گذشتہ رات (12-01-2020) بھی حسب معمول شاہین باغ پہنچا اور اس احتجاج میں معمولی ہی سہی، اپنا ایک کردار ادا کیا۔یہ احتجاج کثرت تعداد کی بنیاد پر عام دنوں سے مختلف تھا، مختلف نیوز ایجنسی کی اعداد وشمار کے مطابق تقریبا آٹھ دس لاکھ کا مجمع تھا۔ یہ تعداد اقرب الیٰ الصواب اس لیے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ناچیز آئی ٹی اوسے شام سوا سات بجے نکلا تو جام کی وجہ سے دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں رات ساڑھے گیارہبج گیا۔ ہمارے قافلہ میں جمعیت علمائے ہند کے کئی ساتھی بشمول مولانا ضیاء اللہ صاحب قاسمی، ڈاکٹر ابو مسعود صاحب، قاری فاروق صاحب اور دیگر ساتھی شریک رہے۔ مختلف مقامات کے احتجاجوں کو دیکھنے، پرکھنے اور اس کا حصہ بننے کے بعد تجربے سے یہی معلوم ہوا کہ جو جوش، جذبہ،حوصلہ، تسلسل اور پروٹیسٹ کے نت نئے انداز شاہین باغ میں نظر آئے، اس کی نظیر کسی دوسری جگہ ملنی مشکل ہے؛ بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے عزم مسلسل اور جہد پیہم ناقابل فراموش ہے۔ دہلی میں ان دنوں سردیوں نے ایک سوبیس سال کا ریکارڈ توڑ رکھا ہے، لیکن ان کے محکم ارادے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ شاہین باغ میں کہیں پر پینٹ کاری احتجاج کر رہی ہے، کہیں پر کالے قانون کے نام لکھے کاغذات کی کشتیاں بناکردل کی کشتیاں بنائی گئی ہیں، ایک دوسری جگہ ڈیٹینشن کیمپ بنے ہوئے ہیں، جب کہ اسی سے متصل انڈیا گیٹ اور اس کا مشعل جلوہ نما ہے، جس کی دیوار پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہم لے کے رہیں گے آزادی۔ کسی جگہ ہاتھوں میں موم بتیوں کا ہجوم ہے، کہیں پر فلک شگاف نعرے لگائے جارہے ہیں۔ اسی جگہ آس پاس فضاؤں میں ترنگے لہرا رہے رہیں، وہیں پر کھڑے کھمبے اپنے پوسٹروں سے سرکار کے منھ چڑھا رہے رہیں۔ ذرا اور آگے بڑھیں گے، تو پرجوش آواز آپ کو کہہ رہی ہوتی ہے کہ آوآآآز دو …… ہم ای ی یک ہیں۔ ہم کو چاہیے …… آزادی۔ این آر سی سے آزادی۔ سی اے اے سے آزادی۔ این پی آر سے آزادی۔ ہم لے رہیں گے آزادی۔
11/ دسمبر 2019 کو راجیہ سبھا سے بھی سی اے اے کو پاس کردیا۔ پھر 12/دسمبر کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے اپنے دستخط کرکے اسے منظوری دے دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔ اس قانون کے بھیانک نتائج کو محسوس کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے 10 / دسمبر2019کو ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے ریاستی صدور ونظما کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ
”ملک کے دستور اور اس کی روایت کے معارض شہریت ترمیمی بل 2019 (CAB) کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی تمام صوبائی/ ضلعی اور مقامی یونٹوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ 13/ دسمبر 2019 بروز جمعہ اپنے اپنے علاقوں میں خاموش اور پر امن احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کریں۔ اس کی رپورٹ دفتر جمعیت علمائے ہند کو بذریعہ ڈاک یا ای میل ارسال کریں۔ نوٹ: اس موقع پر ہاتھ میں پلے کارڈ اور بازو میں کالی پٹی ضرور باندھیں۔“
گرچہ اس سرکلر پر کچھ دانشوروں نے یہ اعتراض جتایا کہ جب 11/ دسمبر2019کو بل پاس ہی ہوجائے گا، تو 13/دسمبر2019کو احتجاج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا؛ لیکن دانشوروں کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔
11/ دسمبر 2019کو جب سی اے بی، سی اے اے بن گیا، یعنی قانون بن گیا، تو بھی جمعیت نے اپنے مظاہرہ کے ارادے کو ملتوی نہیں کیا؛ بلکہ اسے کرنے کے لیے 11/ دسمبر کو پریس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ 13/ دسمبر2019بروز جمعہ مزید عزم و حوصلہ اور توانائی کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں پر امن احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کریں اور کلکٹریٹ اور دیگر ذرائع سے صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم ارسال کریں۔“
چنانچہ پلان کے مطابق 13/ دسمبر 2019کو ملک گیر سطح پر احتجاج ہوا اور دفتری و اخباری رپورٹ کے مطابق دوہزار سے زائد شہروں میں ایک ساتھ احتجاج کیا گیا۔ جنتر منتر دہلی میں منعقد احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ”یہ قانون ملک کے دستور کو پامال کرنے والا ہے، ہم اس کو مسلمانوں کے خلاف نہیں؛ ملک کے خلاف سمجھتے ہیں۔“
سی اے اے کے بھیانک نتائج سے شعوری آگاہی یا جمعیت کے عملی اقدام یا اپیل سے حوصلہ پاکر اسی دن یعنی 13/ دسمبر2019 کی شام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے طلبہ و طالبات نے جامعہ نگر میں اس کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ یہ پرامن احتجاج تھا اور مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ جانا چاہتے تھے، لیکن پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپ ہوگئی، جس کی شروعات پولیس نے کی اور لائبریری میں پڑھ رہے طلبہ و طالبات پر لاٹھی چارج بھی کردیا۔
اس حیوانیت سوز واقعہ نے پوری دنیا اور بالخصوص پورے ملک میں بیداری کی ایک لہر پیدا کردی اور پورے بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے شروع ہوگئے، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ شاہین باغ میں 15/ دسمبر2019سے احتجاج شروع ہواجس کو آج (14-01-2020) مکمل ایک مہینہ ہوگیا۔ اس احتجاج کو بند کرانے اور کالندی کنج راستے کو کھولوانے کے لیے دائر عرضی پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے آج کہا کہ پولیس عام شہریوں کا خیال رکھتے ہوئے کارروائی کرے۔ اس پر احتجاج کرنے والوں نے کہا کہ قانون واپس لینے کے بعد ہی مظاہرہ ختم کیا جائے گا۔بہر کیف موسم اور حالات کی سختی اور دشواریوں کے باوجود شاہین باغ نے احتجاج میں جو کلیدی رول ادا کیا ہے، اس کے پیش نظر یہ کہنا ذرا بھی مبالٖغہ نہیں ہوگا کہ شاہین باغ؛ واقعی شاہینوں کا باغ ہے؛ بالخصوص عورتیں اور لڑکیاں شاہین کا عملی کردار پیش کر رہی ہیں۔ ناچیز ان کے جذبے، حوصلے اور جہد مسلسل کو سلام پیش کرتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: