مضامین

شاہین باغ کی شاہینیوں کی جرأت و ہمت اور جذبے کو سلام

محمد سلمان قاسمی دھلوی

شاہین تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ
تو قوتِ بازو سے اسے اور بھی پرواز دے

اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ آزاد بھارت کی تاریخ میں کبھی ایسا منظم، اور پر اثر احتجاج اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا ہوگا، ماضی میں بھی انگریزوں سے بھارت کو ہم نے ہی اپنا خون دیکر کر آزاد کرایا تھا، اور آج بھی اس بھارت کو فرقہ پرست طاقتوں سے ہم ہی آزاد کرائیں گے،
ہم دور اول سے ہی اگر کتب تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو کہیں کوئی ایسی تحریک نہیں ملے گی جس میں خواتین کا ایک عظیم کردار نہ رہا ہو، خواتین اسلام ہمیشہ سے ہی مردوں کے شانہ بشانہ ( دعوت دین، اشاعت اسلام، میدان کار زار میں ) کھڑی ملیں گی،
چنانچہ اسلام میں سب سے بڑی فضیلت کے حامل وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا مثلاً سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس فضائل میں یہ سب سے بڑی فضیلت ہے؛ لیکن اس میں بھی تین صحابیات شریک ہیں، جس میں حضرت خدیجہؓ ، حضرت سمیہؓ ، حضرت ام ایمن ؓ ہیں .تقدم فی الاسلام کے بعد سب سے بڑا شرف ہجرت ہے ، اس میں صحابہ کرام کے ساتھ ہجرت کرنے والی تمام مہاجراتِ صحابیات رضی اللہ عنھن شریک ہیں، ابتدائے اسلام میں دخول اسلام کے بعد سب سے بڑا کارمانہ اظہار اسلام کا تھا، چنانچہ اظہارِ اسلام کرنے والے اولین صحابہ کرام میں ایک صحابیہ حضرت سمیہ ؓ بھی شامل ہیں، اسلام میں جہاد کا عمل بڑی فضیلت کا حامل ہے، اس میں بھی ہماری خواتین اسلام کسی صحابہ سے پیچھے نہیں ہیں ، چنانچہ جنگ یرموک کے موقع پر جب صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم اپنے قدم پیچھے ہٹانے لگے تو ایک صحابیہ سودأ بنت عاصمؓ ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں اور دوسری عورتوں کو مخاطب کر کے کہنے لگیں ’’اری! تم کب تک اپنے خیموں میں بیٹھی رہو گی، تمہارے خاوند اور تمہارے مرد تو پیچھے ہٹ رہے ہیں ، یہ بات سنتے ہی سب عورتیں خیموں سے باہر نکل آئیں، اس وقت لبنی بنت جریرؓ کہنے لگیں: ”اے عرب کی عورتو! تم اپنے اپنے خاوندوں کے ساتھ کھڑی ہو جاؤ ، اور اپنے معصوم بیٹوں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لو اور اپنے خاوندوں سے کہو کہ ہمیں اور ہمارے معصوم بچوں کو عجمی کافروں کے حوالے کر کے تم کہاں جا رہے ہو؟ ”ام حکیم اور خولہ رضی اللہ عنھا مسلسل لڑ رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: ”اے عربی ماؤں کے بہادر بیٹوں! تم کافروں سے بھاگتے ہو آگے آو اور ان پر حملہ کرو، چنانچہ مسلمان عورتوں نے عجیب بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے معصوم بیٹوں کو ہاتھوں میں اٹھالیا اور اپنے خاوندوں کو دکھا کر کہنے لگیں کہ ہمیں اور ہمارے ان معصوم بچوں کو تم کافروں کے حوالے کر کے کہاں جاؤ گے؟ جب مسلمانوں نے اپنے معصوم بیٹوں کو دیکھا تو واپس پلٹے اور انہوں نے رومیوں پر اس قدر سختی سے حملہ کیا کہ رومیوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا، اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان کو جنگ یرموک میں فتح عطا فرما دی، کتب تاریخ کے مورخین نے لکھا ہے کہ مسلمان عورتوں کا ایمان و یقین پر مشتمل یہ ایسا کارنامہ تھا کہ تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، آج پھر ہماری شاہین باغ کی شاہینیوں نے جنگ یرموک کے موقع پر خواتین کا جو کردار تھا اس کو تازہ کردیا، اسی طرح ماضی قریب میں بھارت کی آزادی میں قربانیاں پیش کرنے والی (رانی لکشمی بائی ، رضیہ سلطانہ) جیسی بہادر خواتین کی یادوں کو تازہ کردیاـ میری بہنوں آنے والی ہماری نسلیں اپنی ان ماؤں اور بہنوں پر تا دم حیات فخر کریں گی، اور آپ کی بہادری کے واقعات کو اپنی نسل در نسل میں منتقل کریں گی ـ آپ کے جذبہ ایمانی اور اپنے وطن عزیز کی محبت پر اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر دہلی کی اس سخت ترین سردی میں سڑکوں پر بیٹھنا یہ کسی مجاہدہ سے کم نہیں ، اس جذبہ ایمانی کو بصد احترام سلام پیش کرتا ہوں، اور پوری قوم بلکہ بھارت کا ہر شہری جو بھارت سے محبت کرتا ہے آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے…

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: