مضامین

شاہین علاقہ پروفیسراخترحسین صاحب چیلہامدظلہ العالی

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت1955ء M.A. P.H.D.
1987ء میں احقر تبلیغی مرکزنظام الدین دہلی میں مقیم تھا کہ ایک سروقدنوجوان نے مجھے پرتپاک مصافحہ کیا۔جسم پر لمبی شیروانی،رخساروں پرشرعی داڑھی اورسرپرٹوپی وض ع قطع سے محسوس ہوتاکہ یہ سدیافتہ مولانا یاکوئی دقاق عالم ہیں،کسی گوشے سے یہ محسوس نہیں ہوتاکہ یہ انگریزی تعلیم یافتہ انجینیرہیں اثناء گفتگو میں انہوں نے کئی مرتبہ فرمایا کہ میں علی گڑھ سے فارغ شدہ الکٹرک انجینیر ہوں لیکن شکل وصورت لباس وپوشاک سے میرے کانو ں کویقین نہیں آتاکہ یہ وبستان انگلش کے پروردہ ہیں،تحقیق سے معلوم ہواکہ جماعت تبلیغ سے کی صحبت نے انہیں صلحاکے لباس میں خود نیک بخت وصالح بنادیاہے،انہیں جماعت تبلیغ سے والہانہ محبت ہے اوراسکے لئے ہرقربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
علی گڈھ سے فراغت کے بعد آپ مادرعلمی ہی میں انجینیرنگ کے پروفیسر ہو گئے اورابھی تک اسی عہدے پربراجمان ہیں،عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی سے فراغت ہی باعث فخرہے پھراسمیں مدرسی کاتوکیا پوچھنا،آپ نے اس عظیم الشان ادارے میں مدرسی فرماکرعلوم عصریہ کے میدان میں جھنڈا گاڑ دیا اہل علاقہ سے اپنی برتری تسلیم کروالی۔
عصری تعلیم میں بلندڈگریوں کے ساتھ دینی صلابت اورراہ سلوک کے نشے نے آپکو دوآتشہ بنادیاہے،جدیدوقدیم مغرب ومشرق کے حسین امتزاج نے آپکی قدروقیمت کودوبالاکردیاہے ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جودونو ں کوچوں سے آشنائی رکھتے ہوں۔
درکف جام شریعت درکف سندان عشق
ہر ہوسنا کے نداند جام و سندان بافتن

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: