اسلامیات

شب قدر کو پانا نہایت آسان ہے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (21)

شب قدر مل جانا بڑی سعادت کی بات ہے. اور شب قدر سے محروم ہو جانا بڑی محرومی کی بات ہے.سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و نے فرمایا کہ جو اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا. *من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ ابن ماجہ)* اس رات کی فضیلت کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے *لیلۃ القدر خیر من الف شھر (سورہ القدر)* شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، ہزار مہینوں کے تراسی برس چار ماہ ہوتے ہیں، چنانچہ اس رات عبادت کرنے والے کو تراسی برس سے زیادہ عبادت کرنے کا ثواب ملے گا.

شب قدر میں عبادت کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ جس نے ایمان و یقین کے ساتھ اور ثواب سمجھتے ہوئے اس رات کو عبادت کی تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے *من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ( بخاری شریف)*

اب سوال یہ ہے کہ شب قدر کو پانے والا کس کو کہیں گے اور شب قدر سے محروم رہنے والا کس کو کہیں گے نیز اس رات کو کیسے تلاش کریں، کب ملے گی اس کی علامات کیا کیا ہیں اور جب یہ رات مل جاءے تو کون کون سی عبادت کرنی ہے اور کتنی دیر تک کرنی ہے، یہ ساری باتیں سوچ کر شب قدر کو پانا نہایت مشکل لگتا ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاکھوں نمازیوں میں سے چند ایک کو ہی یہ سعادت ملتی ہوگی. جبکہ ایسا نہیں ہے، اس رات کو پانا نہایت آسان ہے.

جو آدمی شروع رمضان سے اخیر رمضان تک ہر رات کو مغرب اور عشاء کی فرض نماز با جماعت اور سنتوں کو ادا کر لے وہ شب قدر کو پانے والوں میں سے ہے. کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ شب قدر رمضان کی تیس یا انتیس راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہے، اور جب اس نے تمام راتوں میں یہ عبادت کر لی تو یقینی طور پر اس نے شب قدر کو پا لیا. یہ اور بات ہے کہ محض فرض اور سنت ادا کیا تو ثواب اتنے کا ہی ملے گا لیکن وہ شب قدر سے محروم رہنے والوں میں شامل نہیں ہوگا. باقی اگر کوئی مزید نوافل، تلاوت اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرے تو مزید ثواب ملے گا، شب قدر کے لئے کوئی خصوصی طور پر نماز سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں بتائی ہے. البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ جس دن معلوم ہو جاءے کہ یہ شب قدر ہے تو اس رات کو میں کیا دعا مانگوں تو آپ ص نے فرمایا کہ یہ کہنا. اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی (ترمذی شریف) لہذا رمضان میں ہر مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کا معمول بنا لیا جاءے تو جس رات کو شب قدر ہوگی یہ دعا اس رات میں بھی پڑھی چلی جاءے گی.

ایک مومن بندے کو چاہیے کہ وہ کم از کم اتنا تو ضرور کر لے، تاکہ شب قدر سے محروم رہنے والوں میں اس کا نام نہ آءے. باقی کوشش یہ ہو کہ مزید نوافل، تلاوت اور ذکر و اذکار کا اہتمام کریں. اگر کسی کا دو عشرہ غفلت میں گزر گیا تو کم از کم اخیر عشرہ کی قدر کرے کیونکہ اخیر عشرہ میں شب قدر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: