اہم خبریں

شراب کی حرمت

مفتی محمد حفظ الرحمان قاسمی گڈا استاذ دار العلوم حیدر آباد

۳/شعبان۱۴۴۵=۱۴/فروری ۲۰۲۴
احکام شرعیہ کی حکمتوں کو صحیح طور پر اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں ؛تاہم احکام شرعیہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت مطہرہ نے احکامِ شرع کے باب میں انسانی جزبات کی بڑی رعایت رکھی ہے ؛تاکہ انسان کو ان کی اتباع اور پیروی میں زیادہ مشقت اور تکلیف نہ ہو ،جیسا کہ خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًااِلَّاوُسْعَہَا(بقرۃ،۲۸۶)یعنی اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کوئی ایسا حکم نہیں دیتےجو اس کی طاقت و وسعت سے باہر ہو۔
اسی رحمت وحکمت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے شراب کوامت محمدیہ( علی صاحبہا ألف ألف تحیۃ) دفعۃً اور بہ یک حکم حرام نہیں کیا؛ بل کہ اس کے لیے اسی تدریجی طریقہ کو منتخب فرمایا جس کا تقاضہ تھا؛ چوں کہ شراب کا استعمال ابتداء اسلام میں جائز تھا اور مسلمان بھی شراب پیا کرتے تھے ،اور جب حضوراکرم( صلی اللہ علیہ وسلم)مکہ مکرمہ سے ،ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہاں بھی لوگ شراب پیتے تھے،توچند صحابہء کرام ( رضی اللہ عنھم اجمعین) حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا؛یا رسول اللہ! شراب کا حکم بیان فرمائیں،یہ عقلوں کو خراب کرتی ہے اور مال کو ضائع کرتی ہے،تو آیت کریمہ نازل ہوئی ’’یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِوَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَااِثْمٌ کَبِیْرٌوَمَنَافِعُ لَلنَّاسِ وَاِثْمُہُمَا اَکْبَرُمِنْ نَفْعِہِمَا‘‘(بقرۃ،۲۱۹)اور وہ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرمادیجیے؛کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدے سےزیادہ ہے۔
چناں چہ اس آیت کے نزول کے بعد کچھ صحابہء کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین )نے شراب نوشی کو ترک کر دیا؛جبکہ کچھ صحابہء کرام( رضی اللہ عنہم) نے بہ دستور شراب نوشی کو جاری رکھا۔ یہاں تک کہ ایک واقعہ پیش آیا کہ؛حضرت عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ)نے چند صحابہء کرام کی دعوت کی اور کھانے کے بعد دستور کے مطابق شراب نوشی کا دور چلا ، اور اسی حال میں مغرب کی نماز کا وقت آ گیا،تو سب اسی حال میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے،اور ایک صاحب کو امامت کی لیے آگے بڑھایا گیا،تو انھوں نےنشے کی حالت میں جو تلاوت شروع کی تو ’’قُلْ یٰٓاَیُّہَاالْکٰفِرُوْنَ‘‘ (الکفرون،۱) میں غلطی کر دی ؛تو یہ آیت نازل ہوئی:یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَقْرَبُوْا الصَّلوٰۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی(النساء،۴۳)؛یعنی اے ایمان والو !نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔
اس آیت کریمہ میں اگر چہ خاص نماز کے اوقات میں شراب کی ممانعت اور حرمت ِقطعی ہو گئی؛مگر باقی اوقات میں اب بھی اجازت باقی رہی،تو جن صحابہء کرام (رضی اللہ عنہم) نے پہلی آیت کے نزول کے وقت شراب نہیں چھوڑی تھی، انھوں نے اس آیت کےنزول کے بعد بالکلیہ شراب ترک کر دی ؛چوں کہ اوقات نماز کے علاوہ شراب کی حرمت صاف طور پر نازل نہیں ہوئی تھی؛اس لیے کچھ حضرات اب بھی اوقات نماز کے علاوہ شراب پیتے رہے۔
پھر اس کے بعد ایک واقعہ پیش آیا کہ حضرت عتبان بن مالک (رضی اللہ عنہ )نےچند صحابہء کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کی دعوت کی اور اس دعوت میں سابقہ دستور کے مطابق کھانے کے بعد شراب نوشی کا دور چلا ،اور پھر شعر وشاعری کا ،جس میں نشہ کی حالت میں حضرت سعد بن ابی وقاص(رضی اللہ عنہ)نےایک قصیدہ پڑھا جس میں اپنی قوم کی تعریف و بڑائی اور انصار مدینہ کی ہجو تھی،جس کو سن کر ایک نوجوان انصاری صحابی کو غصہ آیا اور انھوں نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) کے سر پر مارا ،جس سے ان کا سر شدید زخمی ہو گیا اور وہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ سنایا اور اس انصاری نوجوان کی شکایت کی، اس وقت آں حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم )نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی:أللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِيْ الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًاـکہ خدایا !شراب کے متعلق ہمیں واضح قانون عطا فرما۔
تو سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی یَااُیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْااِنَّمَاالْخَمْرُوَالْمَیْسِرُوَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ،اِنَّمَایُرِیْدُالشّٰیْطٰنُ اَنْ یُوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَوَالْبَغْضَٓاءَفِيْ الْخَمْرِوَالْمَیْسِرِوَیُصُدُّکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃَفَہَلْ اَنْتُمْ مُنْتَہُوْنَ(مائدۃ ۹۱،۹۰)’یعنی اے ایمان والو!بے شک شراب ،جوا،بت اورجوے کے تیر؛یہ سب گندی باتیں شیطان کے کام ہیں،سو اس سے بالکل الگ رہو؛ تاکہ تمہیں کامیابی ملے،شیطان شراب اور جوے کے ذریعےتمہارے درمیان بغض و عداوت پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز سے تمھیں غافل کرنا چاہتا ہے،سو کیا تم باز آنے والے ہو‘۔
چناں چہ اس آیت کے ذریعے شراب کو مکمل طور پر حرام کر دیا گیااور اس قانون ممانعت کو پوری شدت اور سختی کے ساتھ نافذ کیا گیااور رسول اللہ ﷺ نے سخت وعیدیں سنائیں ،مختلف ارشادات میں اس کی قباحت کو سختی ساتھ بیان فرمایا۔
چناں چہ ایک حدیث میں حضور ﷺنے شراب سے متعلق نو لوگوں پر لعنت فرمائی،ابو داؤد شریف کی روایت ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «‌لَعَنَ ‌اللّٰهُ ‌الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَايِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ.(أبو داؤد،رقم الحدیث،۳۶۷۴)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے (۱)شراب پر (۲) اس کے پینے والے پر(۳)اس کے پلانے والے پر(۴) اس کے بیچنے والے پر(۵) اس کے خریدنے والے پر(۶)اس کے نچوڑنے والے پر(۷) اس کے نچوڑوانے والے پر(۸)اس کے لادنے والے پر(۹)اور اس شخص پر جس کے پاس لاد کر لے جائی گئی۔
اسی طرح فرمایا ؛‌اَلْخَمْرُ ‌جُمَّاعُ ‌الْإِثْمِ (شرح الشفا،152ٍ/1)یعنی شرا ب تمام گناہوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔اور پھر زبانی تعلیم ہی پر اکتفا نہیں کیا؛بل کہ عملی اور قانونی طور پر اس کو نافذ فرمایا اور اعلان کر دیا کہ’ جس کے پاس جس قسم کی بھی شراب ہو وہ اس کو ضائع کر دے‘؛چناں چہ فرماں بردار صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم)نے یہ حکم پاتے ہی ،اپنی تمام تر جمع کی ہوئی شرابیں بہا دیں؛حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر( رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں ؛کہ جب مدینے کی گلیوں میں حضور ﷺ کے منادی نے یہ آواز لگائی کہ ’شراب حرام کر دی گئی ہے‘تو جس کے ہاتھ میں شراب کا جو برتن بھی تھا،اس کو وہیں پھینک دیا،جس کے پاس شراب کا جو جام تھا ،اس کو وہیں توڑدیا،بعض روایات میں ہے کہ اعلان حرمت کے وقت جس کسی کے ہاتھ میں جام شراب لبوں تک پہنچا ہوا تھا ،اس کو وہیں سے پھینک دیا،اس روز مدینہ کی گلیوں میں اس طرح شراب بہ رہی تھی جیسے بارش کی رَو کا پانی،اور مدینے کی گلیوں میں عرصہ دراز تک یہ حالت رہی کہ جب بھی بارش ہوتی ،مٹی میں شراب کی بو اور رنگ نظر آنے لگتاتھا۔
یہ ہے شریعت اسلامیہ کا کمال ،کہ جس چیز کو حرام کردیا اس کو مسلمانوں نے بالکلیہ ترک کر دیا،اور اس حکم پر ایسا عمل کیا کہ ،دنیا کا کوئی قانون اس کی مثال نہیں پیش کر سکتا؛چناں چہ آج سے ایک صدی پہلے امریکہ کی حکومت نے شراب نوشی پر پابندی لگانے کے لیے ،طرح طرح کی کوششیں کیں،لٹریچر لکھے گئے،اساتذہ کی خدمات لی گئیں،سالہا محنت کی ؛یہاں تک کہ لوگوں کو شراب سے دور رکھنے کے لیے امریکی حکومت نے شراب میں زہریلی ادویات بھی شامل کر دیں ،جس سے ایک اندازے کے مطابق تقریباًٍٍدس ہزار افراد مارے گئے؛اور ۱۹۲۰میں مکمل پابندی عائد کر دی گئی ؛لیکن ان کی یہ کوشش زیادہ مدت تک کام یاب نہ رہی اور بالآخرفقط ۱۳سال بعد ہی دسمبر ۱۹۳۳میں پابندی ختم ہو گئی اور بہ دستور شراب نوشی شروع ہو گئی ۔اسی طرح مختلف اوقات میں دنیا مختلف میں گوشے میں شراب پر پابندی کی کوششیں کی گئیں ؛لیکن نتیجہ بالکل صفر رہا ؛کیوں کہ ان مقامات پر چوری چھپےشراب کا استعمال ممانعت کے بعد اور بڑھ گیا۔
بات در اصل یہ ہے کہ اصلاح معاشرہ کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں ہے ؛بل کہ قانون سے پہلے ان کی ذہنی تربیت،عبادت وزہادت اوربہ طور خاص فکر آخرت کے ذریعے مزاجوں میں بڑے انقلاب کی ضرورت ہے،جس کے بعد ہی کسی قانون کو مکمل طور پر نافذکیا جا سکتا ہے ۔اور امریکہ کے پاس اگر چہ بے پناہ وسائل و ذرائع ہیں اور انھوں نے ذہن سازی میں ان کو استعمال بھی کیا ؛مگر ان میں بنیادی چیز یعنی فکر آخرت کا فقدان ہے ؛اس لیے ان کی کوشش مفید ثابت نہیں ہوئی۔
اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں احکام شریعت پر استقامت کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close