اہم خبریں

شعائر اسلام سے متعلق پولس کی من مانی کارروائی پر روک لگائے حکومت آحر کس قانون کے تحت پولس انتظامیہ بڑے جانوروں کی قربانی سے روک رہی ہے؟ صدر جمعیۃعلماء ہند نے اٹھایا سوال

پریس ریلیز

نئی دہلی۔۲۸/جولائی
جمعیۃعلماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص اترپردیش میں قربانی کو لے کر ضلع پولس انتظامیہ کے ذریعہ من مانے احکامات پر سخت ناراضی ظاہر کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ قربانی شعائر اسلام میں شامل ہے، اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔انھوں نے بتایا کہ جمعیۃ علما کو تحریری طور پر اترپردیش کے مختلف علاقوں سے شکایتیں ملی ہیں کہ پولس جانوروں کو پکڑ کر لے جارہی ہے، نیزبہرائچ، غازی پور، غازی آباد وغیرہ میں ضلع انتظامیہ نے بڑے جانوروں کی قربانی پر روک لگادی ہے، اس کے علاوہ ملک کے دوسرے حصے میں بھی اس طرح پریشانیاں کھڑی کی جارہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر پولس نے کس قانون کے تحت بڑے جانوروں پر پابندی عائد کی ہے اور یہ کس کے اشارے پر کررہی ہے؟اس سلسلے میں پولس کے ذریعہ ظلم و بربریت اور کھلے عام قانون کا مذاق بنائے جانے سے عوام میں سخت بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔ہم پولس کی اس طرح کی زیادتیوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاریں ان چیزوں پر روک لگائیں اور اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مسلمان سہولت کے ساتھ قربانی جیسے شعائر اسلام کو ادا کرسکیں۔

صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ سوشل ڈسٹنسگ اور قربانی سے متعلق جو سرکار نے گائیڈ لائن جاری کی ہے، اس پر عوام عمل پیرا ہیں، مسلم قائدین اور ادارے اس سے متعلق لوگوں کو مسلسل بیدار کررہے ہیں۔جہاں تک گائیڈ لائن کی بات ہے تو اس میں کہیں بھی بڑے جانور کی قربانی پر پابندی نہیں ہے۔اگر پولس انتظامیہ اس سے بڑھ کر کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور من مرضی کے احکامات تھوپتی ہے تو اس کے نتائج غلط اور منفی ہوں گے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت قدم نہیں اٹھایا تو ملک میں بدامنی اور فساد کی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور اس کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہو گی۔انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان اور ذمہ دار وں کو بھی متوجہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ اگر ان کے علاقے میں قربانی کو لے کر کوئی پریشانی ہوتی ہے یا پولس زیادتی کرتی ہے تو آپ تحریر اً اس کی اطلاع دفتر جمعیۃ علماء ہند کو دیں، تا کہ سرکار اور متعلقہ افسران سے مل کر اس مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کی جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: