مضامین

شعبان

محمد یاسین جہازی

ماہ اسلامی کے تسلسل میں آٹھواں نمبر شعبان کا ہے۔ اس کی صفت معظم ہے یعنی ایسا مہینہ، جو عظمت و تقدس کا حامل ہے۔ اس کی عظمت و بزرگی کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ مہینہ سرورکونین ﷺ کا مہینہ ہے۔ اس کا دوسرا عنوان شہر رسول بھی ہے۔ اور یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ، جس چیز کی نسبت سرورکائنات ﷺ سے ہوجائے تو اس کی عظمت و تقدس کی کیا شان ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ اسی مہینہ میں روزہ کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس مہینہ کی فضیلت کی یہ دوسری وجہ تھی اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اسی مہینہ میں بارگاہ خدا وندی میں بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ اپنے روزہ کی وجہ بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال کی پیشی کے وقت میں روزہ کی حالت میں رہوں۔ چوتھا سبب یہ ہے کہ یہی وہ مہینہ ہے، جس میں انسان کی تقدیریں مرتب ہوتی ہیں۔ پورے سال معرض وجود میں آنے والوں اور اسی طرح دنیا سے جانے والوں کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ان کے مقدرات کا بھی فیصلہ ہوتا ہے۔ علامہ ابن رجب حنبلی ؒ نے لطائف المعارف میں لکھا ہے کہ حسن ابن سہیلؒ نے کہا کہ شعبان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ شعبان نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی کہ ائے اللہ! تو نے مجھے دو عظیم مہینوں کے بیچ میں رکھ دیا ہے، لہذا میرے لیے بھی تو کچھ فرمائیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہم نے تجھے تلاوت قرآن کے مہینہ کا اعزاز بخشا ہے۔ لوگ تیرے دنوں میں تلاوت کا خوب اہتمام کریں گے۔ ابن الصیف ایمنی فرماتے ہیں کہ ان اللہ و ملائکتہ یصلون والی آیت اسی مہینے میں نازل ہوئی ہے، لہذا یہ درود و صلاۃ کا مہینہ ہے۔ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تحویل بھی اسی ماہ میں ہوئی ہے، لہذا یہ مہینہ تحویل قبلہ کا مہینہ بھی ہے۔
ماہ شعبان کو رمضان کا پیش خیمہ بھی کہاجاتا ہے۔ اس مہینہ میں رمضان کی تیاری کا پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ تیاری کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے اقوال و اعمال اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کردار سے جو چیزیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱) دعا کا اہتمام: اس مہینہ میں نبی اکرم ﷺ سے دو دعائیں منقول ہیں:
(الف) اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان (۱)
(ب) اللھم سلمنا لرمضان، وسلم رمضان لنا۔ (۲)
(۲) معمولات میں تبدیلی: رمضان اور عیدکی ساری خریداری اسی مہینہ میں کرلیا جائے۔ بعض صحابہ کرام کے متعلق آتا ہے کہ وہ رمضان میں اپنی تجارت بند کردیا کرتے تھے، حتیٰ کہ زکوٰۃ، صدقات کی ادائیگی سے بھی فارغ رہتے تھے، تاکہ ان کی وصولیابی کرنے والوں کا رمضان در در گردش میں نہ گذر جائے اور وہ بھی یکسوئی کے ساتھ رمضان المبارک کا اہتمام کرسکیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ شعبان میں صحابہ کے معمولات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شعبان آتے ہی تلاوت کا اہتمام بڑھ جاتا تھا۔ غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لیے زکوٰۃ بھی ادا کردیا کرتے تھے۔ عمرو بن قیس اعلائی کا معمول تھا کہ جوں ہی شعبان کا مہینہ شروع ہوتا تھا، تونہی دوکان بند کردیتے تھے اور دوکان پر لگنے والا سارا وقت تلاوت میں لگاتے تھے۔
(۳) جتنے بھی واجب حقوق ہیں، ان سے فارغ ہوجائیں۔ مثال کے طور پر کسی کی کفالت آپ کے ذمہ واجب ہے، تو اس فریضہ کو رمضان سے پہلے ہی ادا کردیں۔ آپ کسی کمپنی کے مالک ہیں اور آپ ہی کے توسط سے آپ کے ملازمین کے چولہے جلتے ہیں، تو کوشش یہ کریں کہ قبل از رمضان اسی مہینہ میں ان کو حق المحنت ادا کردیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم عام مہینوں کے مقابلہ میں اس مہینہ میں قبل از وقت ادائیگی کی فکر کریں۔
(۴) حقوق العباد کا تصفیہ کرلیں۔ اگر کسی کا بقیہ ہے، یا کسی سے بد کلامی ہوئی ہے، تو ان سب کا تصفیہ کرلیں، تاکہ اگلے مہینے میں مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے وقت کو رمضان کے احترام کے لیے فارغ کرسکیں۔
(۵) خواتین پردہ کا اہتمام کریں۔ عورتوں کے لیے پردہ فرض ہے۔ اور فرض کی ادائیگی بہر حال ضروری ہے۔ اس لیے کوشش یہ کریں کہ اس کا اہتمام اس مہینہ میں بڑھا دیں، تاکہ رمضان میں کسی قسم کی اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی سرزد نہ ہوسکے۔
(۶) مر د حضرات داڑھی منڈھوانا بند کردیں۔ گرچہ عام مہینوں میں بھی داڑھی رکھنا واجب ہے۔ یہ سرور کائنات ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کا چہرہ داڑھی سے مزین تھا، اس لیے نبی ﷺ کی سیرت کو اپناتے ہوئے واجب کی بے حرمتی کرنے سے باز آئیں اور رمضان کی عظمت کے پیش نظر داڑھی رکھنے کا مکمل اہتمام کریں۔
(۷) اسی طرح ایک دوسرا حرام کام ہے، جس میں لوگ عام طور پر مبتلا ہیں، وہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننا۔ یہ عمل بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہے، لیکن رمضان کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم اس مہینہ میں اس حرام سے بچیں اور ٹخنوں سے اوپر تک ہی لباس پہنیں۔
(۸) اسلامی تاریخ کا یاد رکھنا بھی ایک مستحسن عمل ہے، لیکن شعبان کے متعلق خصوصی ہدایت یہ ہے کہ رمضان کی خاطر شعبان کی تاریخوں کو یاد رکھنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔
(۹) رمضان کا استقبال: حضور اکرم ﷺ شعبان کے دنوں میں صحابہ سے فرمایا کہ کون تمھارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟ اس پر حضرت عمر ؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کیا دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ تو آپ ﷺ نے پھر جواب دیا کہ بالکل نہیں۔ حضرت عمر نے پھر پوچھا کہ پھر کیا بات ہے؟ اس پر ارشاد گرامی ہوا کہ آگے ایک ایسا مہینہ آرہا ہے، جس کی پہلی رات میں ہی سبھی اہل قبلہ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
پندرہ شعبان
پندرہ شعبان کی رات کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ واقعہ منقول ہے کہ اس رات کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی باری کا دن تھا۔ اور انھیں کے گھر میں محو خواب تھے۔ جب کافی رات ہوئی، تو آپ ﷺ بیدار ہوئے اور بقیع غرقد تشریف لائے، یہ اہل مدینہ کی قبرستان ہے، جو آج بھی موجود ہے اور مردوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگے۔ اسی بیچ حضرت عائشہ ؓ کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ آپ ﷺ موجود نہیں ہیں، چنانچہ آپﷺ کی تلاش کے لیے نکلیں۔اور دیکھا کہ آپ یہاں قبرستان میں ہیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو دیکھا تو فرمایا کہ کیا تمھیں یہ اندیشہ ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول تمھارے ساتھ نا انصافی کریں گے؟ اس پر حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید آپ کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسی رات ہے؟ تو حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلومات ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے اس رات کو اللہ تعالیٰ سمائے دنیا پر نازل ہوتے ہیں اور مغفرت طلب کرنے والوں کی مغفرت کرتے ہیں۔ طالب رحمت کو رحمت سے نوازتے ہیں اور کینہ پرور کو ڈھیل دیتے ہیں۔
اس مہینے کی پندرھویں شب کو جب کہ سب کے لیے مغفرت کا اعلان عام ہوتا ہے، ایسے موقع پر بھی سات لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی۔ وہ سات لوگ یہ ہیں:
(۱) مشرک۔ (۲) رشتہ توڑنے والا۔ (۳) کینہ رکھنے والا۔ (۴) ٹخنے سے نیچے کپڑا پہننے والا۔ (۵) والدین کا نافرمان۔ (۶) شراب پینے والا۔ (۷) ناحق مسلمان کو قتل کرنے والا۔
اس لیے کوشش یہ کریں کہ آپ کا شمار ان لوگوں میں سے نہ ہوسکے، تاکہ آپ کی مغفرت ہوجائے اور آپ کی تقدیر کا بہتر فیصلہ ہو تاکہ پورا سال آپ کی زندگی چین و سکون اور خیرو عافیت کے ساتھ گذر سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ماہ شعبان کی عظمت کا احترام کرتے ہوئے رمضان کی تیاری میں لگ جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس شہر رسول کے احترام کی توفیق ارزانی کرے اور رمضان کی ساری برکتوں اور نوازشوں کا حق دار بنائیں آمین، یا رب۔
مآخذ و مصادر
(۱) مسند البزار، البحر الذخار، مسند ابی حمزۃ انس بن مالک۔
(۲)مختصر قیام اللیل وقیام رمضان و کتاب الوتر، باب التعوذ عند القرأۃ فی قیام رمضان۔
(۳) إِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لیلَھا وَصُومُوا نَھارَھا، فَإِنَّ اللَّہَ ینْزِلُ فِیھَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَیٰ سَمَاءِ الدُّنْیَا، فیقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَہُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَہُ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِیہُ أَلَا کذا أَلَا کَذَا، حَتَّیٰ یَطْلُعَ الْفَجْرُ (سنن ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)
(۴)شعبان شھری و رمضان شھر اللہ۔ (الجامع الصغیر،حرف الشین، حدیث نمبر ۹۸۸۴)
(۵) احصوا ھلال شعبان لرمضان۔ (ترمذی باب ماجاء فی احصاء ھلال شعبان)
(۶)ماذا یستقبلکم و تستقبلون الخ (صحیح ابن خزیمہ، فضائل شہر رمضان)
(۷) کان المسلمون اذا دخل شعبان انکبوا علیٰ المصاحف آہ (لطائف المعارف، ص۸۵۲)
(۸) ان اللہ عز و جل ینزل لیلۃ النصف من شعبان الیٰ سماء الدنیا، فیغفر لامتی من عدد شعر غنم کلب (ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: