اہم خبریں

شمالی مغربی ضلع میں مسجد پر حملے اور شمالی مشرقی ضلع میں اندھا دھند گرفتاریوں کے بارے میں اقلیتی کمیشن کا پولیس کمشنر کو نوٹس

نئی دہلی: ۴؍اپریل ۲۰۲۰: دہلی اقلیتی کمیشن نے پولیس کمشنر دہلی کو دو نوٹس بھیجے ہیں۔ پہلا نوٹس ۳؍اپریل کو بھیجا گیا جس میں کمیشن نے کہا کہ اس کو ای میل، فون اور وہاٹسیپ سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ شمال مشرقی ضلع میں موجودہ لاک ڈاؤن کے پہلے سے پولیس مسلم نوجوانوں کو روزانہ درجنوں کی تعداد میں گرفتار کررہی ہے۔ ۲؍ اپریل کی رات ۸؍ بجے مصطفی آباد میں خواتین نے اس قابل اعتراض عمل کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ نوٹس میں کمیشن نے مزید کہا کہ اس سے پہلے وہ اس مسئلے کے بارے ڈپٹی کمشنر شمال مشرقی ضلع کو لکھ چکا ہے کہ یہ عمل قابل قبول نہیں ہے۔

نوٹس میں کمیشن نے پولیس کمشنر کو باخبر کیا کہ شمالی مشرقی ضلع کے کچھ لوگ یہ خطرناک الزام لگا رہے ہیں کہ کچھ پولیس افسران مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان سے بھاری رشو ت مانگتے ہیں اور دیے جانے پر انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں کہا کہ پولیس کمشنر اپنے گراؤنڈ اسٹاف کو احکامات جاری کریں کہ شمال مشرقی ضلع میں اندھا دھند گرفتاریاں بند کریں اور صرف انھیں لوگوں کو گرفتار کریں جس کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کا ثبوت ہو۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد وہ ان گرفتاریوں پر غور سے نظر ڈالے گا۔

مذکوہ نوٹس میں کمیشن نے مزید کہا کہ اسے شکایت مل رہی ہے مسجدوں کو لاؤڈاسپیکر استعمال کرنے سے منع کیا جارہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ موجودہ لاک ڈاؤن کی بندشوں کے تحت ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ صرف چار لوگ ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ نوٹس میں کمیشن نے پولیس کمشنر کو بتایا کہ مسجدوں کے لاؤڈاسپیکروں کا یہ کام ہے کہ نماز کا وقت آنے پر اذان دیکر مسلمانوں کو بتادیا جائے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے، اس لیے اذان کو بند کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ کمیشن نے پولیس کمشنر کو ہدیت دی کہ تمام ایس ایچ اوز کو باخبر کردیا جائے کہ وہ لاؤڈاسپیکر کے استعمال کو بند کرنے پر اصرار نہ کریں اور اسی وقت ایکشن لیں جب موجودہ بندشوں کے دوران نماز کے لیے چار سے زیادہ لوگ مسجد میں جمع ہوں۔

کمیشن نے اپنے نوٹس میں مزید کہا کہ بعض علاقوں میں گوشت کی دکانیں بند کی جارہی ہیں جو موجودہ لاک ڈاؤن کی بندشوں کے خلاف ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن کے تحت کھانے پینے کی اشیاء کو بنیادی ضروریات میں شمار کیا گیا ہے اور انھیں بیچنے والی دکانوں کو بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اقلیتی کمیشن نے ۴؍اپریل کو بھیجے گئے اپنے دوسرے نوٹس میں پولیس کمشنر کو باخبرکیا ہے کہ اسے اطلاع اور ویڈیو ملا ہے جس کے مطابق شمال مغربی ضلع میں علی پور پولیس اسٹیشن کے تحت واقع مخمیلپور میں۳؍اپریل کی رات ۸؍بجے تقریباً ۲۰۰ لوگوں کی بھیڑ نے ایک مسجد پر حملہ کردیا جبکہ مسجد کے اند ۲-۳ ؍لوگ موجودتھے ۔ بھیڑ نے مسجد کو تہس نہس کیا، کچھ چیزوں کو آگ لگائی اور کچھ دیواروں اور چھت کو توڑ دیا۔ نوٹس میں کمیشن نے کہا کہ یہ بات غیر قابل یقین ہے کہ اس طرح کی چیز قومی راجدھانی میں واقع ہو۔ ایک مصنوعی تصفیے کے ذریعہ اس معاملے کی لیپا پوتی نہیں کی جاسکتی ہے جس میں ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا ہے، اسے جلایا گیا ہے اور توڑا گیا ہے۔ اگر حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو لاقانونیت عام ہوجائے گی۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں پولیس کمشنر سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس مسئلے میں مجرمین کے خلاف ایف آئی آر درج ہو تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ ایسے جرائم پر سزا ملے گی۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں کہا کہ کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ بات گھس گئی ہے کہ کمزور طبقات جیسے مسلمان، عیسائی، دلت اور ادیواسیوں کے خلاف کوئی بھی جرم کرکے وہ قانون کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: