مضامین

شہباز علاقہ جناب پروفیسر عبدالحفیظؒ صاحب بیلڈھیا

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت1943ء

راقم سن شباب کوپہنچاتو علاقہ پروفیسر صاحب کی علمی ارتقاودینی حمیت کے ذکرسے کونج رہاتھا،وہ صاحب گنج میں مقیم تھے اسلئے شرف ملاقات سے محروم تھا لوگوں سے انکارذکر اس طرح سنتاجیسے کوئی آدمی گزشتہ صدی کے بزرگوں کے متعلق سنتاہے جودنیا سے بڑے بڑے کارنامے انجام دیکررخصت ہوگئے،یاافق پر کوئی بڑادرخشاں ستارہ دورسے دیکھتاہے مگروہ اسکوپانہیں سکتالیکن وہ اسکوچمکتاہوانظرآتاہے،۴۸۹۱ء میں مسلم پرسنل لابوڈکی جانب سے ایک تقریب میں صاحب گنج کی حاضری ہوئی اورپروفیسرصاحب سے نیا زحاصل کیاتوواقعی میں خوشی سے جھوم اٹھااوریہ شعرگنگنانے لگا:
کانت محادثۃالرکبان تخبرنا

عن جعفربن فلاح اطیب الخبر
حتی التقینافلاواللہ ماسعمت

اذنی باحسن مماقدرای بصری
ترجمہ: ہم آنے جانے والے قافلوں سے جعفر بن فلاح کے متعلق اچھی خبر یں سنا کرتے تھے،جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی توایسا محسوس ہواکہ جوکچھ سناتھااس سے زیادہ پاپا۔
سراپاوقار،میانہ قدچھریرابدن،کھلتاہواگورارنگ،متبسم چہرہ،کم کو لیکن حکمت سے پر،زبان میں چاشنی کلام میں محاورات وادب کی حلاوت پابند صوم وصلواۃ سیرت اسلاف کاحامل واسمین یہ ہیں رشک نکاہ پروفیسر عبدالحفیظ صاحب بیلڈھیا میں نے اس ملاقات میں تاریخ علاقہ کامسودہ پیش کیا،تھوڑی دیربغورمطالعہ کے بعد فرمایا کہ اسمیں انشاء پردازی اور زبان وادب کی تشنگی ہے اسکی سطح بلند ہوتب ہی قابل اشاعت ہوسکے گی۔مجھ جیسے کم علم کے لئے تعمیل حکم کرنا جو ئے شیرلانے کے مترادف تھا جسکی بنا پر آج تک شرمسارہوں۔
آپ ابتداء سے آج تک صاحب گنج کا لج میں انگریزی ادب وزبان کے پروفیسر ہیں اتنے عظیم الشان کا لج میں انگریزی کی استاد ی ہما شما کاکام نہیں ہے یہ تو صاحب علم و ہنر ہی کا کام ہے وہا ں کے ذہین طلبہ سے معلوم ہواکہ آپ پورے کالج میں محترم وہر دلعزیزاستاذ ہیں۔آپکے درس کے لئے طلبہ گوش بر آواز رہتے ہیں۔
آپکوانگریزی اور اردو ادب میں یکساں ملکہ ومہارت ہے بر جستہ بھی بولتے یالکھتے ہیں تو علمی شہپارے اور ادبی گوہر پروتے چلے جاتے ہیں اسپر دینی صلابت اور سلوک کے نشے نے آپکو دوآتشہ بنادیا ہے جدید وقدیم مغربی ومشرقی علوم وتہذیب کے حسین امتزاج نے آپکی قدرو قیمت دوبالاکردی ہے۔
یوں کئے کس نے بہم ساغروسنداں دونوں
آپ اہل علاقہ کے لئے فخر ونازش ہیں وہ آپکو مغربی علوم میں امام ومقتداء تصورکرتے ہیں،آپ بھی اسکی ترقی واصلاح کے لئے صمیم قلب سے کوشاں رہتے ہیں لیکن وطن سے دوری صحت کی خرابی کی راہ میں سنگ راہ ہے پھر بھی ہم جیسے نوااسموزو ضرورتمندوں کی اصلاح وصلاح سے دریغ نہیں فرماتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: