مضامین

شیخ الحدیث حضرت مولاناشوکت علی صاحب بکھڈامدظلہ العالی

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 16جون1967ء……فاضل دیوبند1988ء
ناچیزکی کتاب ”تاریخ علاقہ“تصحیح ہوکرسامنے آئی تودیکھاکہ جگہ جگہ اسپرایک گاضل نوجوان کے قلم سے پرمغزنوٹ لکھاہواہے،اوروہ ہرمقام پرایک مفید مشورے سے مجھے نوازرہے ہیں،تحقیق وتفتیش سے پتہ چلاکہ یہ ادب نوازنوجواں حضرت مولاناشوکت علی بکھڈاہیں جومہارت علم میں اپنالوہامنواچکے ہیں۔
موصوف نے شہرہ آفاق ادارہ دارالعلوم دیوبندسے فضیلت کی ہے،اسکے بعد دوسال تک مدرسہ امدادالاسلام شہرمیرٹھ میں ہدایہ آخرین،سراجی اورسلم العلوم جیسی مغلق کتابوں کادرس دیا،اسکے بعدمدرسہ عبدالرب دہلی منتقل ہوگئے جہاں وہ ابھی ابوداؤد شریف،مشکوٰۃ شریف اوربیضاوی شریف جیسی اہم کتابوں کادرس دے رہے ہیں،مولانا اخلاق کی عط ربیزی،درس کی پابندی اورعلمی مہارت کی بناپرطلبہ اوراساتذہ میں ہردل عزیزہیں۔
آپکی تقریری اورتحریری صلاحیت بھی قابل تعریف اورقابل داد ہے،آپنے فن تصوف میں فیض الصمد تصنیف کی ہے جوابھی تک زیورطبع سے آراستہ نہیں ہوئی ہے،یہ کتاب ادبی ذوق کی غمازی کرتی ہے۔
آپ بلندپایہ مناظربھی ہیں اورموقع بموقع مجلس مناظرہ میں شرکت فرمانے ہیں اوراپنی خدادادذہانت سے مخالفین کوشکست پرمجبورکردیتے ہیں۔
آپ نے حضرت مفتی مرمودحسن صاحب گنگوہی مفتی اعظم ہندسے فتوی ٰنویسی کی بھی اجازت لی ہے اورراہ سلوک میں انہیں سے بیعت وارادت رکھتے ہیں،آپ کواس راہ میں بھی اچھاذوق ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: