مضامین

شیخ محمد علی صابونیؒ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

——————————————-
موجودہ دور کے بڑے مفسر قرآن ، مشہور عالم دین جامعہ ام القریٰ اور مسجدالحرام کے سابق استاذ شیخ محمد علی صابونی بن شیخ جمیل صابونی نے ترکی کے پالووا استنبول میں ۱۹؍ مارچ ۲۰۲۱ء مطابق ۶؍ شعبان ۱۴۴۲ھ بروز جمعہ ، نماز سے قبل اکانوے(۹۱) سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
شیخ محمد علی الصابونی کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۳۰ء مطابق ۱۳۴۹ھ کو حلب (شام) میں ہوئی، ان کے والد شیخ جمیل صابونی حلب کے بڑے علماء میں تھے، شیخ محمد علی صابونی نے اپنے والد سے حفظ قرآن کی تکمیل کے ساتھ لغت، فرائض اور علوم دینیہ کی تعلیم پائی، ان کے اساتذہ میں شیخ محمد نجیب سراج، احمد شماع، محمد سعید الادبی، محمد راغب الطباخ،محمد نجیب خیاطۃ وغیرہ کا نام بھی آتا ہے، انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حلب کے مدرسۃ التجاریۃ میں پائی، اس کے بعد حلب کے ہی مدرسہ خسرویہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخل ہوئے اور ۱۹۴۹ء میں تفسیر ، حدیث، فقہ، کیمیا وغیرہ میں نصاب کی تکمیل کے بعد سند فراغ حاصل کیا، شام کے وزارت اوقاف نے انہیں اپنے صرفہ پر جامعہ ازہر قاہرہ مصر بھیج دیا ۱۹۵۲ء میں کلیۃ الشریعہ سے سند کے حصول کے بعدجامعہ ازہر ہی میں تخصص کے شعبہ میں داخلہ لیا اور ۱۹۵۴ء میں فراغت حاصل کی، جامعہ ازہر سے فراغت کے بعد انہوں نے مادرِ وطن شام کے شہر حلب کا رخ کیا اور ثانوی درجات میں ۱۹۶۲ء تک ثقافت اسلامیہ کے مضامین پڑھائے، اس کے بعد سعودی عرب منتقل ہو گیے اور مکۃ المکرمہ میں کم وبیش تیس (۳۰) سال ، کلیۃ الشریعہ اور کلیۃ التربیۃ میں اسلامی موضوعات پڑھاتے رہے، اس کے بعد جامعہ ام القریٰ میں علمی مباحث اور تراث اسلامی کے احیاء کیلئے ان کا تقرر عمل میں آیا ، وہ رابطہ عالم اسلامی کے ہیئۃ الاعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ کے مشیربھی مقرر ہوئے، اور چند سال تک اس عہدے پرکام کیا۔
شیخ صابونی کی علمی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے، انہوں نے مسجد حرام مکۃ المکرمہ میں درس کے فرائض انجام دیے، موسم حج میں استفتاء کی ان کی مجلس لگاکرتی تھی،مکۃ المکرمہ اور جدہ کی مساجد میں ان کا ہفتہ میں درس قرآن ہوا کرتا تھا، یہ سلسلہ کم وبیش آٹھ سال تک انتہائی پابندی کے ساتھ جاری رہا، انہوں نے اپنی زندگی میں تفسیر قرآن کریم کے چھ سو سے زائد حلقے لگائے اور قرآن کریم کی تفسیر بیان کی، ان کی تینتیس(۳۳) سے زائد تالیفات وتصنیفات ہیں جن میں سب سے مشہور ان کی صفوۃ التفاسیر ہے، انہوں نے تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری، تفسیر روح البیان کی تلخیص کا کام بھی کیا، ان کا علمی میدان قرآن کریم اور اس کے متعلقات تھے، اس لیے ان کی بیشتر کتابوں کے موضوعات قرآن کریم ہی ہیں، حالاں کہ انہوں نے ریاض الصالحین کی شرح کے ساتھ فقہی موضوعات پر بھی اپنی علمی مہارت اور تحقیقی ذوق کا ثبوت دیا ہے ، عقائد کے باب میں ان کا تعلق اشاعرہ سے تھا، وہ ماتریدیہ کے مقابل اشعری کوپسند کرتے تھے ان کی تصنیفات میںجگہ جگہ اس کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں، ایک زمانہ میں ان کی صفوۃ التفاسیر عرب علماء میں انتہائی مقبول تھی، اور سعودی عرب کے ذریعہ ان کو گھر گھر پہونچانے کا کام کیا جاتا تھا، لیکن تقلید شخصی کے قائل ہونے اور صفات باری کے سلسلے میں اشاعرہ کے موقف کی تبلیغ کی وجہ سے عرب علماء ان کے مخالف ہو گیے اور ان کی کتابوں کی تقسیم بندہو گئی ۔
شیخ محمد علی صابونیؒ سے میری ملاقات ۲۰۰۷ء میں دبئی میں ہوئی تھی اسی سال ان کا انتخاب جائزہ دبئی قرآن کے لیے ہوا تھا، میں بھی’’دبئی انٹرنیشنل قرآن کریم ایوارڈ، کمیٹی‘‘ حکومت دبئی کی دعوت پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے جائزہ کے پروگرام میں مدعو تھا، حکومت کی طرف سے بن دلموک مسجد الراس ، مسجد کرامہ سنٹرکرامۃ، مسجد سلامۃ بر دبئی، مسجد الفتح بینک اسٹریٹ بر دبئی اور مسجد الغریر دیرۃ دبئی میں علی الترتیب اسلام میں عبادت کا تصور اور اس کی حکمتیں، معاشرہ کی اصلاح کیوں اور کیسے، اسلام کا تصور مساوات، کبر، ام الامراض اور اسلام میں علم کی اہمیت پر میرا خطاب ہوا تھا، اس سلسلے کا بڑا پروگرام جمعیۃ الاصلاح القصیص روڈ دبئی میں ہوا تھا، جس کا عنوان تھا قرآن مکمل دستور حیات۔ میرے خطاب کے لیے بعد نماز عشا کا وقت مقرر تھا، خطاب کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ دیر تک چلتا تھا، محمد بن راشد کے ایک ہوٹل جو کلاک ٹاور کے قریب تھا، مہمانوں کی رہائش رکھی گئی تھی، میرا قیام بھی وہیں تھا، گرچہ ہوٹل کا نام مجھے یاد نہیں رہا، البتہ خطاب کا سلسلہ ۲۷؍ ستمبر تا ۲؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء جاری رہا۔ پروگرام کے آخری دن شیخ محمد علی صابونی کو متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا دبئی انٹر نیشنل قرآن کریم ایوارڈپیش کیا گیا، اس موقع سے حکومت کا پورا عملہ خود دبئی کے حاکم اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم بھی موجود تھے، جائزہ کے حصول کے بعد میں نے ان سے ملاقات کی، بڑی شفقت سے پیش آئے، اپنی تفسیر صفوۃ التفاسیر اور درس قرآن کے کئی کیسٹ عنایت فرمائے، کھانے کی میز پر دیر تک مختلف علمی مسائل پر گفتگو ہوتی رہی، اور میں ان کی مجلس سے بہترین تاثرات لے کر لوٹا، وہ بڑے علمی آدمی تھے، شریعت کے اسرار ورموز ، قرآن کریم کی آیات اور شان نزول پر ان کی گہری نظر تھی، قرآن کریم سے خصوصی شغف نے ان کے اندر تواضع اور انکساری پیدا کی تھی ، وہ علمی رعونت اور کبر سے کوسوں دور تھے۔
ان کی وفات کا سانحہ بڑا ہے، واقعہ ہے کہ جو چلا جاتا ہے وہ اپنی جگہ خالی چھوڑ جاتا ہے، لوگ پیدا ہوتے رہیں گے کاروبار زندگی چلتا رہے گا، لیکن دوسرا محمد علی صابونی نہیں پیدا ہوگا، علمی انحطاط کے اس دور میں شیخ صابونی علم وفن کے روشن چراغ تھے، کہنا چاہیے ایک روشن چراغ تھا نہ رہا اور یہ کہ ایک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خاموش ہے۔رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: