مضامین

شیونا تعلقہ سیلوڑ ضلع اورنگ آباد میں پولیس سے تکرار کرنے کی پاداش میں گرفتار سات مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور

پولس کے زریعے مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ان پر مقدمہ بھی قائم کردیا، گلزار اعظمی

ممبئی ۲۱ اپریل

اورنگ آباد ضلعے کے جھالکی بازار جو شیونا تعلقہ سیلوڑ ضلع اورنگ آباد میں ہے وہاں 11 اپریل کی شام کچھ نوجوان ان کے اہل خانہ کے ہمراہ پیپل واڑی گاؤں کی طرف جا رہے تھے اس درمیان کچھ پولیس والوں نے ان کو روک کر ان کو اور ان کے بوڑھے ماں باپ کو زدو کوب کیاجس پر نوجوانوں اور پولیس کے درمیان تکرار ہوئی جس کے بعد پولس نے ان پر تعزیرات ہند کی دفعات 143,149,188,332,333,353,594,507 ، اور 135 ممبئی پولس ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا۔
پولیس کی جانب سے اتنا ہی نہیں بلکہ جھالکی بازار گاؤں جہاں تڑوی پٹھان برادری کے سو مکانات ہے اس گاؤں کے پچاس سے زائد نوجوانوں پر بھی پولیس نے مختلف دفعات کے تحت کیس رجسٹرڈ کیا۔
یہ واقع شیونا سے قریب جھالکی بازار نامی علاقے میں پیش آیا جو تعلقہ سیلوڑ ضلع اورنگ آباد میں آتا ہے۔
ملزمین کی پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں منتقلی کے بعد جمعتہ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت قاری آمین الدین اور شیونا سے حافظ عبدلرحیم مستقل کوششیں کر رہے ہیں اور اس تعلق سے گلزار اعظمی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم سے مسلسل رابطہ میں ہیں ۔
آج گرفتار شدہ ملزمین آصف تاج خان تڑوی، جاوید پاشو تڑوی، پاشو رشید تڑوی رمضان حمید تڑوی، فیروز منان تڑوی، اسلم حسین تڑوی، سلیم تاج خان تڑوی کی ضمانت عرض داشت عدالت نے منظور کردی ۔
عدالت میں جمعیتہ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ مدسر پٹھان اور ان کے معاونین وکلاء نے ضمانت عرض داشت داخل کی تھی جسے سیشن عدالت کی جج نے ہر ایک کو پندرہ ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت دی۔
ملزمین کی گرفتاری کے بعد سے ہی جمعتہ علماء مراٹھواڑا کے جنرل سیکرٹری قاری آمین الدین اور لیگل سیل کے زمہ دار جناب شیخ مجیب اور مقامی جماعت شیونا کے جنرل سیکرٹری حافظ عبدلرحیم مقدمہ کی نگرانی کررہے ہیں ۔
اس ضمن میں جمعتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کہا کہ ملزمین کے اہل خانہ کی جانب سے قانونی امداد کی درخواست موصول ہونے کے بعد اور مقدمہ کی تفصیل جاننے کے بعد ملزمین کو قانونی امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا اور جمعتہ علماء ضلع اورنگ آباد کے ذمہ داروں کو ایڈوکیٹ خیضر پٹیل صاحب کے مشورے سے ملزمین کی جلد از جلد جیل سے رہائی کے لئیے کوشش کرنے کے لئیے اقدامات کرنے کا حکم دیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ بقیہ تمام افراد جن پر پولس کی جانب سے کیس رجسٹرڈ کیا گیا ہے ان کے لئے بھی جمعیتہ علماء کے پاس درخواست آئی ہوئی ہے ان کے لئے بھی ایڈوکیٹ خیضر پٹیل کوششیں کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ پولس کے اہلکاروں نے ملزمین کے ساتھ زیادتی کی اور ان کے خلاف مقدمہ بھی قائم کردیا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جارہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ پولس کی من گھڑت کہانی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پولس نے اپنی فریاد میں کہا ہیکہ ملزمین نے تکرار کی اور انھیں زدو کوب بھی کیا اور ڈیوٹی پر مامور پولس والوں کے ساتھ زیادتی کی جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: