اہم خبریں

صدرجمہوریہ ہند اور وزیر اعظم کو روانہ کیا میمورنڈم،سی ا ے اے منسوخ کرنے اور این آرسی نافذ نہ کرنے کا مطالبہ

لکھنؤ15جنوری۔(پریس ریلیز)انڈین نیشنل لیگ وراشٹریہ بھاگیداری آندولن کی قیادت میں سیاسی وسماجی تنظیموں نے مشترکہ طور پر میمورنڈم صدر جمہوریہ ہند اور وزیر اعظم ہند کو گاندھی مجسمہ حضرت گنج پرضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔ جس میں پی سی کریل، حاجی فہیم صدیقی، محمد آفاق،کامریڈ ڈی کے یادو، مسلم فورم ریاستی صدر ڈاکٹر آفتاب احمد، مسلم متدان پارٹی کے صدر عزیزالحسن، آل انڈیا پرسنل لا بورڈکے کنوینر مولانا علی حسین قمی، صوفی سنت سیوا سمیتی کے صدر عبد الوحید چشتی، عباس باغ کے مینیجر محمد حسین، رانی ایجوکیشنل سوسائٹی کی سیکریٹری نسرین جاوید، سماجی کارکن عابد حسین، صحافی رضوان چنچل، شمشیر غازیپوری، جمال الدین نریندر یادو وغیرہ موجود تھے۔میمورنڈم میں سی اے اے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سیاہ قانون ملک میں ہندو مسلم میں نفرت پھیلانے اور توڑنے والا ہے۔ شہریت دینے کا قانون تو پہلے سے ہی دستور ہند میں موجود ہے۔پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ملک میں تقریباً ایک کروڑ70لاکھ لوگ ایسے ہیں جوخانہ بدوشی کی زندگی گذاررہے ہیں۔ وہ آج ایک شہر تو کل دوسرے شہر رہتے ہیں وہ اپنے کاغذات کہاں سے لے کر آئیں گے۔2011ء کی مردم شماری کے مطابق 8کروڑ43لاکھ آدیواسی ہیں، 32کروڑ ملک میں اَن پڑھ ہیں، یہ کونسی مارکشیٹ اور سرٹیفکٹ دیں گے۔غریب، مزدور، کمزوراور پچھڑوں کے پاس تو ان کے آباواجداد کے کاغذات نہیں ہوں گے۔وہ اپنی شہریت ثابت کیسے کریں گے؟ شہریت نہ ثابت ہونے پر ان کو ڈیٹنشن سینٹر میں ڈال دیاجائے گا۔اور وہ غریب اپنے مقدمے بھی نہیں لڑ سکیں گے۔سی اے اے اور این آرسی نہایت ہی فضول اور نفرت پھیلانے والا سیاہ قانون ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے بلکہ آسام میں جو ہندو شروع میں این آرسی لانے کی بات کررہے تھے وہ این آرسی نافذ ہونے کے بعد اپنے ہی ملک میں گھس پیٹھی ہوگئے۔اسی لئے سی اے اے قانون اگر این آرسی سے جوڑ دیا گیا تو یہ نہایت ہی خطرناک ہوگا۔موجود سبھی لیڈروں نے ایک آواز میں اس سیاہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: