مضامین

صدقہ فطر؛احکام و مسائل

مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

اسلام ایک کامل و مکمل دستور حیات ہے زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی بہترین رہنمائی موجود ہے؛انفرادیت ہو یا اجتماعیت عبادت ہو یامعاملت، معاشرت یا معیشت اسلام اپنے ماننے والے کو کہیں بھی تشنگی محسوس ہونے نہیں دیتا ہے جہاں مالداروں کے حقوق غریبوں پر رکھے ہیں وہیں مالداروں کے دوش پر غرباء کے حقوق بھی عائد کرتا ہے،نیز اہل ثروت اور صاحب استطاعت افراد پر ناداروں اور لا چاروں کا ذمہ بھی لگاتا ہے،جہاں اسلام عید کی خوشیاں امیروں اور مالداروں کو نصیب کرتا ہے وہیں غریب کے گھر کے چولہے کی بھی خبر گیری کرتا ہے،صدقہ فطر در اصل اسلام کی انہیں بہترین تعلیمات کا اثر ہے،لیکن افسوس یہ ہے کہ آج ہم سہولت پسند بن گئے ہیں بلکہ بخالت اور مال کی محبت ہمارے رگ و ریشے میں پیوست ہوچکی ہے بات اپنی ذات پر خرچ کرنے کی ہو تو ہزاروں روپے خرچ کرنے میں کوئی ملال نہیں ہوتا، ہزاروں کی شاپنگ ہوتی ہے، لیکن جب صدقہ فطر کی ادائیگی کا مسئلہ ہو تو کتنا ہی بڑا مالدار کیوں نہ ہو گیہوں سے صدقہ فطر ادا کرتا ہے حدیث پاک میں صدقہ کی جو چار مقداروں کا ذکر اس سے مال دار اور صاحبِ حیثیت افراد کے حساب سے ہے، مالدار افراد مہنگائی کے اس دور میں اپنی حیثیت کے حساب سے جو، کھجور اور کشمش کے حساب سے بھی اپنا صدقہ فطر ادا کریں
صدقہ فطر کسے کہتے ہیں؟
صدقۂ فطر ہر وہ مال ہوتا ہے جسے مسلمان عید کے دن اپنے آپ کو پاک کرنے کی نیت سے اپنے مال میں سے محتاجوں کیلئے نکالتے ہیں، اور اس سے اس کے روزہ میں پیدا شدہ خلل جیسے لغویات یا فحش بات کی تلافی مقصود ہوتی ہے در اصل یہی وہ حکمت ہے جو صدقہ فطر سے مقصود ہے نیز اس میں غرباء کا حق پوشیدہ ہے ۔چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے
قَالَ عَبْدُاللہ بن عَبَّاس رضی اللہ عَنْہ:فَرَضَ رَسُوْلُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زَکَاۃُ الْفِطْرِطُھْرَۃً لِلصَّائِم مِنَ اللَّغْوِ وَ الرَّفَثِ وَطُعْمَۃُ لِلْمَسَاکِیْنِ (ابوداود بَاب زَكَاةِ الْفِطْرِ ۱۳۷۱)۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ فطر روزہ دار کیلئے لغو بات چیت ،گالی گلوج سے پاکی ہے اور مسکینوں کیلئے کھانا ہے۔

صدقہ فطر کن پر واجب ہے؟
جس شخص میں تین شرطیں پائی جائیں اس پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔
(۱)مسلمان، کافر پر صدقہ فطر واجب نہیں۔
(۲)آزاد، غلام پر صدقہ فطر واجب نہیں
(۳)ایسا شخص جو اپنے قرضے اور اصل ضروریات اور اہل و عیال کی ضروریات کے علاوہ نصاب کا مالک ہو لہذا اس شخص پر جو قرض اور حوائج اصلیہ سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں۔چنانچہ اللہ کے نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے: لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى (بخاري بَاب تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ ۲۸۵/۹)

کونسی چیزیں حوائج اصلیہ میں داخل ہیں؟
(1)گھر (2) گھر کے سازوسامان (3) کپڑے(4) سواری (5) وہ ساز و سامان جس سے وہ اپنے حصول معاش میں مدد لیتا ہو۔چنانچہ علامہ رجب حنبلی لکھتے ہیں:الفاضل عن حاجته الأصلية:(من مسكن وثياب وأثاث ـ متاع البيت ـ وفرس وسلاح وخادم، ومن حوائج عياله أيضاً، ومن دينه كذلك (الفقه الاسلامي وادلته مشروعية صدقة الفطر وحكمها ومن يؤمر بها ۳۷۶/۳)

صدقہ فطر کس کی طرف سے نکالا جائے گا؟
(۱) اپنی جانب سے۔ (۲) اپنے چھوٹے محتاج بچوں کی طرف سے۔(۳) ہاں اگر وہ مالدار ہوں تو صدقہ فطر انہی کے مال سے نکالا جائے،اس کے ذیل میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ شوہر پر ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف سے صدقہ فطر نکالے، لیکن اگر بیوی پر احسان کرے تو جائز ہے، اسی طرح باپ پر اپنے بڑے باشعور بچوں کی جانب سے صدقہ فطر نکالنا واجب نہیں ، لیکن اگر وہ ان پر احسان کرے تو جائز ہے، ہاں اگر اولاد محتاج و مجنون ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا واجب ہے۔
عن أَبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ (مسلم، بَاب زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمسلم،ينَ مِنْ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ ۱۶۴۲)
صاحب الجوہرۃ النیرہ رقمطراز ہیں:وَأَمَّا الْوَلَدُ الْكَبِيرُ الْمَجْنُونُ إذَا كَانَ فَقِيرًا إنْ بَلَغَ مَجْنُونًا فَفِطْرَتُهُ عَلَى أَبِيهِ وَإِنْ بَلَغَ مُفِيقًا ثُمَّ جُنَّ فَلَا فِطْرَةَ عَلَى أَبِيهِ لِأَنَّهُ إذَا بَلَغَ مَجْنُونًا فَقَدْ اسْتَمَرَّتْ الْوِلَايَةُ عَلَيْهِ وَإِذَا أَفَاقَ فَقَدْ انْقَلَبَتْ الْوِلَايَةُ إلَيْهِ (الجوهرة النيرة بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ: ۵/۲)۔
صدقہ فطر کی مقدار
وہ چیزیں جن کا صدقہ فطر کے حوالہ سے نصوص میں ذکر آیا ہے چار ہیں:
(1) گیہوں:آدھا صاع (پونے دو کلو)
(2) جَو:ایک صاع(چار کلو تقریباً)
(3) کھجور:ایک صاع (چار کلو تقریباً)
(4) کشمش:ایک صاع(چار کلو تقریبا)
مسئلہ: صدقہ فطر کی قیمت کو نقدی کی شکل میں نکالنا بھی جائز ہے ، بلکہ یہ بہتر ہے اس لئے کہ اس میں فقیروں کیلئے زیادہ نفع ہے۔چنانچہ امام محمد بن حسن شیبانی سے منقول ہے:عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ :لاَ بَأْسَ أَنْ تُعْطِيَ الدَّرَاهِمَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ.(مصنف ابن ابي شيبة فِي إِعْطَاءِ الدِّرْهَمِ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ ۱۷۴/۳)۔
نوٹ:اپنے اپنے علاقوں کے اعتبار سے اچھی کوالٹی کو ترجیح دے کر صدقہ فطر ادا کریں تاکہ مہنگائی کے اس دور میں فقراء کی ضروریات پوری ہوسکیں

صدقہ فطر کچھ اہم مسائل
مسئلہ:صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے نصاب پر سال کا گذرنا شرط نہیں ہے۔
اور اسی طرح صدقہ فطر واجب ہونے کیلئے بالغ یا عاقل ہونا شرط نہیں بلکہ اگربچہ اور مجنون بھی نصاب کے مالک ہوں تو ان کے مال سے صدقہ فطر نکالا جائے گا۔ چنانچہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ فَقَالَ « أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ (دار قطني زكاة الفطر ۲۱۴۱) مذکورہ حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سال گذرنے کی شرط لگائے بغیر صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم فرمایا، اس لیے فقہاءِ کرام صدقہ فطر کے وجوب کے لیے مذکورہ شرط نہیں لگاتے ہیں اور اسی طرح صغیر کی قید لگا کر یہ بتایا کہ صدقہ فطر چھوٹے بڑے سب ہر شخص پر واجب ہے۔
مسئلہ: صدقہ فطر ایک فرد کی طرف سے کئی مسکینوں کو دینا جائز ہے اس طرح کئی لوگوں کی طرف سے ایک مسکین کو دینا بھی جائز ہے۔چنانچہ علامہ علاء الدين کاسانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَيَجُوزُ أَنْ يُعْطَى مَا يَجِبُ فِي صَدَقَةِ الْفِطْر عَنْ إنْسَانٍ وَاحِدٍ جَمَاعَةً مَسَاكِينَ وَيُعْطَى مَا يَجِبُ عَنْ جَمَاعَةٍ مِسْكِينًا وَاحِدًا ؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَ زَكَاةٌ فَجَازَ جَمْعُهَا وَتَفْرِيقُهَا كَزَكَاةِ الْمَالِ (بدائع الصنائع فَصْلٌ رُكْنُ صدقة الفطر: ۱۳۵/۴)۔
مسئلہ: صدقہ فطر کے مصارف بعینہٖ زکوۃ کے مصارف ہیں جن کے سلسلہ میں آیت کریمہ میں نص وارد ہوئی ہےیعنی مسلمان فقیر آدمی جو سید/ہاشمی نہ ہو۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ۔۔۔۔۔۔الایۃ
(التوبة:۶۰)اللہ پاک ہمیں صدقہ فطر نکالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: