اہم خبریں

صرف مسلمان ہی نہیں ؛ملک خطرہ میں ہے

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی ؒ،نیرل ۔ مہاراشٹر

گزشتہ روز ادھو ٹھاکرے جی ایک میٹنگ بلائی جس میں مہاراشٹر کے دانشوران ، سیاستدان اور علماء کرام کو بھی مدعو کیا ، اور اس میں ماحول کو پر امن اور سازگار بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "میں وچن دیتا ہوں کہ مہاراشٹر میں این آر سی لاگو نہیں کرنے دوں گا ، آپ ک آواز ایوان حکومت تک پہونچ چکی ہے آپ اطمینان رکھیں”ساتھ ہی ساتھ ایک بات یہ بھی کہا کہ اس ایکٹ سے مسلمانوںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، اس میں ان کا کوئی نقصان نہیں ہے ” ۔
ایک طرف ملک جھلس رہا ہے اور دوسری طرف ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ایسے موقع پر حکومت کے خلاف ہو رہے احتجاج سے روکنے کی اپیل کہیں نہ کہیں اس ایکٹ کی حمایت کی ہی ایک شکل نظر آتی ہے ، اور اس بات کی تائید اس طرح سے بھی ہوتی ہے کہ جس پارٹی نے کل اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ، آخر کیسے کہہ سکتی ہے کہ ہم اسے اپنے صوبہ میں نافذ نہیں ہونے دیں گے ، جبکہ اس ایکٹ کا تعلق کسی خاص صوبی کے بجائے پورے ملک سے ہے ، اس ایکٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں تک مسلمانوں کو مسئلہ ہے وہ توظاہر ہے کہ اس کی مدد سے مسلمانوں کو دیس سے نکالنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ، جو کسی بھی صورت میں پورا ہونے والا نہیں ہے ، لیکن اس کالے قانون سے صرف مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں بلکہ ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے والا ہے ، اور یہ آگ کسی خاص طبقہ کو نہیں بلکہ پورے ملک کو جلانے والی ہے ، جس کے مناظر ہم صبح وشام دیکھ رہے ہیں ۔
آنجناب ادھو ٹھاکرے جی کے اس بیان سے شک پیدا ہونا یقینی ہے کہ اس میں بر سر اقتدار پارٹی کی حمایت کا عنصر شامل نظر آتا ہے ، سوال یہ ہے کہ آنجناب وزیر اعلی جی مسلمانوں کو کیوں تسلی دے رہے ہیں ؟ کیا اس کے خلاف صرف مسلمان ہی احتجاج کر رہا ہے ، نہیں بلکہ پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ، تو پھروزیر اعلی صاحب اس ایکٹ کو کس نظریہ سے دیکھ رہے ہیں ؟ جبکہ معاملہ بالکل صاف ہو چکا ہے ، ایسی صورتحال میں بجائے امن وشانتی کی اپیل کرنے کے انہیں یہ کہنا چاہئے کہ آپ پر امن مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں، اور مظاہرین کا بھر پور ساتھ دینا چاہئے جس کی ایک تازہ مثال بنگال میں ممتا بنرجی کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے ، لیکن یہاں معاملہ بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے ، اس لئے میں بحیثیت ہندوستانی مسلمان اس بیان کو غیر مناسب سمجھتا ہوں، وزیر اعلی صاحب کو اپنے دیئے اس بیان پر غور کرنا چاہئے ، اور مظاہرین کا کھلم کھلا ساتھ دیتے ہوئے باغی حکومت کے خلاف زبردست مورچہ قائم کرنا چاہئے ، تاکہ عوام کی آواز میں طاقت پیدا ہو سکے ، اور ان کی شمولیت سے یہ کالا قانون واپس لیا جائے ، پھر کہیں جا کر ملک میں امن وشانتی کا ماحول قائم ہوگا ، اور اسی طریقہ سے امن قائم ہو بھی سکتا ہے ، بصورت دیگر ملک کو تباہ ہونے سے کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی ، ایک بار پھر کہتا چلوں معاملہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ ملک کے وجود اور اس بقاء کا ہے ، اس لئے ہر محب وطن کی اولیں ذمہ داری ہے کہ وہ اس احتجاج کو با اثر بنانے میں اپنی شمولیت کو یقینی بنائے ، اس کے سوا ملک کے تحفظ کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close