مضامین

صلو فی رحالکم، کا جملہ آذان کے درمیان میں ہو، یا پوری آذان کے بعد

ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

تیسری قسط
اس مضمون میں تین حدیثیں ہیں

عرب کے بعض مسجدوں میں صلو فی رحالکم کا جملہ آذان کے درمیان، حی علی الصلوۃ کی جگہ پر کہا ہے، اس لئے لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کتنا صحیح ہے، پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا آذان نبوی کے درمیان کسی جملے کا اضافہ جائز ہے،
ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ بخاری شریف، مسلم شریف، میں یہ جملہ ہے کہ حضور ﷺ الا صلو فی رحالکم، کا جملہ آذان پوری کرنے کے بعد کہنے کا حکم دیتے تھے، آذان کے درمیان نہیں، اس لئے اگر مجبوری کے درجے میں دینا ہو تو الا صلو فی رحالکم، کا جملہ آذان پوری کرنے کے بعد دیں
صرف مسلم شریف، اور مسند امام شافعی، ترتیب سندی، کی حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا اپنا قول نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمد رسول اللہ کے بعد، الا صلو فی رحالکم، کہلواتے تھے، اس لئے اگر کسی ملک نے درمیان میں، الا صلو فی رحالکم، کہا تو یہ نا جائز نہیں ہے، کیونکہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا عمل ہے، اور قول بھی ہے، لیکن چونکہ حدیث میں یہ جملہ آذان پوری کرنے کے بعد ہے اس لئے آذان پوری کرنے کے بعد ہی کہنا چاہئے

آذان پوری کرنے کے بعد۔ الا صلو فی رحالکم، کہے اس کے لئے حدیث یہ ہے
1۔قال حدثنی نافع، قال اذن ابن عمر فی لیلۃ باردۃ بضجنان، ثم قال صلوا فی رحالکم، و اخبرنا رسول اللہ ﷺ کان یأمرمؤذنا یؤذن ثم یقول علی اثرہ، الا صلو فی الرحال فی اللیلۃ الباردۃ او المطیر فی السفر۔ (بخاری شریف، کتاب الآذان، باب الاذان للمسافرین اذا کانواماعۃ،ص ۴۰۱، نمبر ۲۳۶)
ترجمہ: حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ نے مقام ضجنان میں ایک ٹھنڈی رات میں آذان دی، پھر کہا قال صلوا فی رحالکم،اور یہ بھی کہا کہ حضور ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے کہ موذن جب آذان دے تو اس کے آخیر میں یہ کہے الا صلوا فیالرحال،سفر میں ہو اور ٹھنڈی رات ہو اور بارش کی رات ہو تو ایسا کرے

دوسری حدیث یہ ہے، جس میں ہے کہ آخیر میں کہے
2۔عن ابن عمر انہ نادی بالصلوۃ فی لیلۃ ذات برد و ریح و مطر فقال فی آخرنداۂ، الا صلو فی رحالکم، الا صلو فی رحالکم۔ (مسلم شریف، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الصلاۃ فی الرحال فی المطر، ص ۳۸۲، نمبر ۷۹۶/ ۱۰۶۱)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ، ٹھنڈی ہو، ہوا ہو، اور بارش ہو ایسی رات میں جب آذان دیتے تو آذان کے بعد یہ کہتے، الا صلو فی رحالکم، الا صلو فی رحالکم،
ان دونوں حدیثوں میں ہے آذان پوری کرنے کے بعد، الا صلو فی رحالکم، کہتے تھے
اس قول صحابی میں ہے کہ اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمد رسول اللہ، کے بعد حی علی الصلوۃ، نہ کہے بلکہ اس کی جگہ پر، صلوا فی بیوتکم، کہے

قول صحابی یہ ہے
3۔عن عبد اللہ ابن عباس انہ قال لمؤذنہ فی یوم مطیر اذا قلت، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمد رسول اللہ، فلا تقل حی علی الصلوۃ، قل صلوا فی بیوتکم۔ (مسلم شریف، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الصلاۃ فی الرحال فی المطر، ص ۳۸۲، نمبر ۹۹۶/ ۴۰۶۱/ مسند الشافعی، ترتیب السندی، جلد ۱، ص ۹۰۱، نمبر ۶۲۳)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بارش کے دن اپنے موذن سے کہا کہ جب تم ، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمد رسول اللہ، کہو تو اس کے بعد، حی علی الصلوۃ، نہ کہو بلکہ اس کی جگہ پر ، صلوا فی بیوتکم، کہو
اس قول صحابی میں ہے کہ درمیان میں صلو فی بیوتکم، کہہ سکتا ہے
لیکن بہتر وہی ہے جو پہلے ذکر ہوا، ورنہ دوسرے مسلک والے کہیں گے، جب آپ اپنی آذان کے درمیا یہ اضافہ کر دیا تو ہم بھی حضرت علی کی فضیلت میں آذان کے درمیان میں اضافہ کرنے مجاز ہوں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: