مضامین

صلہ رحمی نہ کرنے کا بھیانک انجام

از > *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

صلہ رحمی سے مراد اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدستی اور کمزور ہیں تو ان کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔ صلہ رحمی میں اپنے والدین، بہن بھائی، بیوی بچے، خالہ پھوپھی، چچا اور ان کی اولادیں وغیرہ یہ سارے رشتہ دار صلہ رحمی میں آتے ہیں۔ اپنے والدین کے دوست احباب جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ جب ان رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ان کے حقوق پورے نہیں کیے جائیں گے، ان کی مدد نہیں کی جائے گی تو یہی قطع رحمی کہلاتی ہے۔ یعنی اپنے رشتہ داروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنا۔
صلہ رحمی ہر دور میں کی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ مثلاً ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کرے، ان کے ساتھ اچھی گفتگو کرے، ان کے گھر جا کر حال احوال دریافت کرے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے، غمی خوشی میں شریک ہو۔ یہ ساری باتیں صلہ رحمی میں آتی ہیں۔ قطع رحمی کی سزا تو دنیا میں بھی مل جاتی ہے، جب بھائی مشکل وقت میں اپنے بھائی کا ساتھ نہیں دیتا۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو نہ سمجھا جائے۔ جب خون سفید ہو جائے، تعلقات ختم کریں، جب ضرورت ہو تو اس کی ضرورت کو پورا نہ کیا جائے، حتی کہ ایک دوسرے کے ساتھ مرنا جینا ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہ سزا ہی ہے۔ اور قیامت کے دن صلہ رحمی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ہم نے ان رشتوں کے تقدس کا کتنا خیال رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُّوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ(البقرة، 2 : 27)
(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں.
اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات جوڑنے کا حکم دیا ہے، اگر اس کے خلاف کریں گے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہونگے۔ اسی طرح بے شمار آیات میں اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی احادیث مبارکہ میں آپس میں صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ صلہ رحمی کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کیا ہے اور قطع رحمی پر وعید سنائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں صلہ رحمی کا خیال رکھیں، ایسا نہ ہو کہ جو رشتے دار غیرب ہوں، غربت کی وجہ سے ان سے تعلقات ختم کر لیں، جیسا کہ آجکل رواج ہے کہ اگر بعض رشتہ دار غریب ہوں اور بعض امیر تو امیر لوگ ان غریب رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں، اور ان کو اپنا رشتہ دار سمجھنا اور کہنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اپنےدوست احباب کے سامنے اپنا رشتہ دار قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ جیسے اولاد جب جوان ہوتی ہے تو اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتی ہے، ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی، یہ ساری چیزیں گناہ کبیرہ ہیں اور اس کی سزا قیامت کے دن ملے گی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا والدین اولاد کے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی، جس نے ان کی خدمت کی اس نے جنت کو پا لیا ورنہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
ابنِ حبان سے مروی ہے، تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے، شرابی، قاطعِ رحم، جادوگر ۔
مسند احمد بن ابی الدنیا اور بیہقی سے مروی ہے، اس امت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہو و لعب میں راتیں گزاریں گے ، جب صبح ہوگی تو ان کی صورتیں مسخ ہو جائیں گی، انہیں زمین میں دھنسا دیا جاۓگا ، صبح کو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے ، فلاں خاندان زمین میں دھنس گیا ہے، فلاں معزز اپنے گھر کے ساتھ زمین میں غرق ہوگیا ہے، ان کی شراب نوشی، سودخوری ، قطع رحمی، ناچ گانے پر فریفتگی اور ریشمی لباس پہننے کی وجہ سے ان پر قومِ لوط کی طرح پتھروں کی بارش ہوگی اور قومِ عاد کی طرح ان پر ھلاکت خیز آندھیاں بھیجی جائںنگی جن سے وہ اپنے قبائل سمیت ہلاک ہوجائیں گے۔
طبرانی نے اوسط میں حضرتِ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاشانۂ نبوت سے باہر تشریف لائے، ہم لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے ہمیں دیکھ کر فرمایا اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور وصلہ رحمی کرو کیونکہ صلہ رحمی کا ثواب بہت جلد ملتا ہے ، ظلم وزیادتی سے بچو کیونکہ اس کی گرفت بہت جلد ہوتی ہے، والدین کی نافرمانی سے بچو، جنت کی خوشبو ہزار سال کے فاصلہ سے اےگی ، بوڑھا زانی اور تکبر سے آزار گھسیٹنے والا، اس سے محروم رہیں گے۔
اصبہانی سے مروی ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا قاطعِ رحم ہماری مجلس میں نہ بیٹھے ، مجلس میں سے ایک جوان اٹھ کر خالہ کے ہاں چلا گیا، ان کے درمیان کوئی تنازعہ تھا جس کی اس نے معافی مانگی دونوں نے ایک دوسرے کو معاف کردیا اور وہ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا اس قوم پر رحمتِ خداوندی کا نزول نہیں ہوتا جس میں قاطع رحم موجود ہو۔
اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں مروی ہے کہ حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنارہے تھے۔ آپ نے کہا کہ ہر قاطع رحم ہماری محفل سے اٹھ جاۓ ۔ ایک جوان اٹھ کر اپنی خالہ کے ہاں گیا جس سے اس کا دو سال پرانا جھگڑا تھا، جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوگئے تو اس جوان سے خالہ نے کہا تم جاکر اس کا سبب پوچھو، آخر ایسا کیوں ہوا؟ حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا جس قوم میں قاطعِ رحم ہو، اس پر اللہ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔
طبرانی میں اعمش کی روایت ہے، حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ ایک صبح محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا میں قاطعِ رحم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے اٹھ جائے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں کیونکہ قاطعِ رحم پر آسمان سے دروازے بند رہتے ہیں (اگر وہ یہاں موجود رہےگا تو ہماری دعا قبول نہیں ہوگی)
صحیحین میں ہے، قرابت اور رشتہ داری عرشِ خدا سے معلق ہے اور کہتی ہے جس نے مجھے ملایا اللہ اسے ملاۓ اور جس نے مجھ سے قطعِ تعلق کیا ، اللہ تعالیٰ اس سے قطعِ تعلق کرے۔
حضرتِ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میں اللہ ہوں، میں رحمٰن ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا اور اسے اپنے نام سے مشتق کیا ، جس نے صلہ رحمی کی میں اسے اپنی رحمت سے ملاؤں گا اور جس نے قطع رحمی کی میں اسے اپنی رحمت سے دور کردوں گا۔
مسندِ احمد میں روایت ہے کہ سب سے بڑا سود مسلمان کے مال کو ناحق کھانا ہے اور قرابت و صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کے نام کی ایک شاخ ہے، جس نے صلہ رحمی نہ کی اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردیتا ہے۔
صحیح ابنِ حبان میں ہے، رحم رب ذوالجلال کی ایک عطا ہے، رحم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی اے رب ! مجھ پر ظلم ہوا ، مجھے برا کہا گیا ، مجھے قطع کیا گیا ، رب تعالیٰ نے فرمایا جو تجھے ملاۓگا میں اسے اپنی رحمت سے ملاؤں گا ، جو تجھے کاٹےگا میں اسے اپنی رحمت سے دور کردوں گا۔
بزار نے روایت کی ہے، رحم (قرابت ورشتہ داری) عرشِ خدا سے چمٹی ہوئی عرض کرتی ہے، اے اللہ ! جس نے مجھے ملایا تو اسے ملا ، جس نے مجھے کاٹا تو اس سے تعلق منقطع فرما! رب تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا نام اپنے نام رحمن اور رحیم سے مشتق کیا ہے، جس نے تجھے ملایا میں اسے اپنی رحمت سے ملاؤں گا ، جس نے تجھ سے تعلق منقطع کیا میں اس سے رحمت کو منقطع کرلوں گا.
بزار کی روایت ہے: تین چیزیں عرشِ خدا سے لٹکی ہوئی ہیں، قرابت کہتی ہے اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہوں، کبھی تجھ سے جدا نہ ہوں گی، امانت کہتی ہے اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہوں میں تیری رحمت سے کبھی جدا نہ ہوں گی ، نعمت کہتی ہے اے اللہ! میں تیری رحمت سے جدائی نہیں چاہتی ، میرا انکار نہ کیا جائے۔
بیہقی کی روایت ہے: خصلت یاسرشت عرش کے دروازوں سے معلق ہے جبکہ رحم میں تشکیک واقع ہوجاۓگی اور گناہوں پر عمل بڑھ جاۓ اور احکامِ الٰہیہ پر عمل نہ کرنے پر جرأت پیدا ہوجاۓ تو اللہ تعالیٰ سرشت کو بھیجتا ہے جو اس کے قلب پر حاوی ہو جاتی ہے اور اس کے بعد اس کو گناہوں کا شعور باقی نہیں رہتا۔
صحیحین میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ، صلہ رحمی کرے اور اچھی بات کرے یا چپ رہے۔ ایک اور روایت ہے: جو شخص طویل عمر اور فراخئ رزق کی تمنا رکھتا ہے اسے چاہئے وہ صلہ رحمی کرے۔
حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، جو شخص فراخئ رزق اور عمرِ طویل کو پسند کرتا ہے وہ صلہ رحمی کرے، مزید فرمایا: اپنا نسب یاد کرو تاکہ رشتہ داروں کو پہچان سکو، اس لئے کہ رشتہ داروں سے میل ملاپ میں خاندان کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت زیادہ ہوتی ہے اور عمر طویل ہو جاتی ہے۔
بزار اور حاکم کی روایت ہے: جو شخص یہ تمنا رکھتا ہو کہ اس کی عمر طویل ہو، رزق میں کشادگی ہو، اور بری موت سے بچ جاۓ وہ اللہ سے ڈرے یا صلہ رحمی کرے۔
حاکم اور بزار کی روایت ہے: فرمانِ نبوی ہے، توراۃ میں مرقوم ہے کہ جو عمرِ طویل اور زیادتئ رزق کا خواہشمند ہو وہ صلہ رحمی کرے۔[مکاشفۃ القلوب اردو ص ١٧٢-۱۷۴: رضوی کتاب

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: