مضامین

صوفی کامل حضرت مولانا انور علی صاحب کیتھیاؒ

مولانا ثمیر الدین قاسمی مانچسٹر انگلینڈ

ولادت 1904ء وفات1974ء تقریباً

حاشیہ خیال میں جب کبھی یتیم خانہ دودھانی شہر دمکا کا تصور آتاہے تو معاًحضرت مولانا انور علی صاحب کا نورانی چہرہ آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتا ہے، کیونکہ مولانا کہ زندگی یتیم خانے کے ہرذرے کے ساتھ اس طرح پیوست ہوگئی تھی کہ کسی موڑپرایک کو دوسرے سے جدا کرنا مشکل تھا،مولانا ہی کی دم آتشیں سے یتیم خانے نے صفحہئ ہستی پر قدم رکھا اور انہیں کے دم خم سے ایک نامور مدرسہ کی شکل میں مشہور ومعروف ہوا،مولاناجب تک زندہ رہے اسی چمن کی تہذیب وترتیب میں لگے رہے اور اپنی قابلیت وصلاحیت،محنت وفنکاری کا ایک ایک قطرہ اس میں نچوڑ دیا،خاکسارکو 1985ء میں اس چمن انوری کو دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی تومحسوس ہوا کہ مولانا کی عط ربیزیوں سے وہاں کا ہر ذرہ معطراورہرکلی زبان سپاس تھی،یتیم خانے کے موجودہ صدرمدرس نے بڑے بلند الفاظ میں ان کی اخلاقی بلندی انتظامی صلاحیت اور صناعی وہمہ گیرکی تعریف کی اور ان کی رحلت سے بہت بڑا خلا محسوس کرتے تھے۔
علاقائی تحریکوں پر سرسری نگاہ پڑتی ہے تو تقریباً تمام ہی تحریکیں انکے اسم گرامی سے خالی نظر آتی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ موصوف کا شب وروز یتیم بچوں کے نان شبینہ مہیا کرنے میں صرف ہوتا تھا،جس کی وجہ سے یہ فاضل یگانہ علاقائی تحریکوں سے وابسطہ نہ ہو سکے اور نہ اس میں ہاتھ بٹا سکے۔
مولانا راہ سلوک میں حضرت مولانا حسین احمدمدنی رحمتہ اللہ سے صحبت یافتہ اور غالباً ان سے مجاز بھی تھے، ان کو سنت نبویؐ پر عمل پیرا ہونے کا بہت شوق تھا، طعام نشست وبرخاست شمع رسالت کے مطابق کرتے اور طلبہ کو بھی اسکا شوق دلاتے اسی کا فیض تھا کہ ذوق خود آگاہی خداترسی اور خدارسی میں آپ کا پایہ بہت بلند ہو گیا تھا، غالباً ۴۷۹۱ء میں دورہ قلب کا حملہ ہوا جس سے آپ جانبرنہ ہو سکے اور یتیم خانہ کو یتیم کرکے رخصت ہوگئے۔
عمر بھر کی برقراری کو قرار آہی گیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: