مضامین

طلبائے دارالعلوم دیوبند اور دیگر رضاکاران کی گرفتاریاں : جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(9)

محمد یاسین جہازی 9891737350

”جمعیت علمائے امروہہ کے امیر الجیش عبد السلام خاں اور دو نائب امیر الجیش سید محمد اختر اور محمد محسن اور ایک رضاکار مولوی عبد الماجد صاحب بھی گرفتار ہوگئے۔“ (الجمعیۃ 28اگست1930)
”الن پر 11ستمبر۔ التفات گنج تحصیل باندہ ضلع فیض آباد میں شراب پر پکٹنگ کرنے کے جرم میں جمعیت العلما کے چار رضاکار مسمیان واصل بیگ، ایوب بیگ، جواد بیگ، پیشکا بیگ گرفتار کرلیے گئے۔ کل مورخہ 10ستمبر 1930کو ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہیں۔“ (الجمعیۃ16ستمبر1930)
مولانا عبد القادر قصوری کو جون میں چار ماہ کی قید کی سزا دی گئی تھی، جسے عدالت عالیہ لاہور نے کم کرکے ایک ماہ قید محض کردیا۔ (الجمعیۃ20ستمبر1930)۔ انھیں 22ستمبر کو رہا کردیا گیا۔
”لاہور 23ستمبر۔ پنڈت سنتانم اور مولانا عبد القادر قصوری جو 21مئی کو مجمع خلاف قانون کے رکن کے باعث سزایاب ہوئے تھے۔ کل گجرات جیل سے رہا کردیے گئے۔ آپ نے اخبار کے نمائندے سے فرمایا کہ ملکی سیاسی حالت کے متعلق ہم بالکل تاریکی میں ہیں۔“ (الجمعیۃ28ستمبر1930)
8جولائی 1930کو جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے سترہ رضاکاروں کا گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ (الجمعیۃ13جولائی1930)۔ جمعیت علمائے مرادآباد کے ڈکٹیٹر آغا محمد یعقوب صاحب کو گرفتار کیا گیا۔ (الجمعیۃ 20اگست1930)
مرادآباد میں کانگریس اور جمعیت کے پچاس کارکنوں کو 26ستمبر1930کو گرفتار کرلیا۔ (الجمعیۃ یکم اکتوبر1930)
دہلی 8نومبر۔ آج مولوی عبد الغفور صاحب رکن دائرہ حربیہ جمعیت علمائے ہند اور مولانا برکت اللہ صاحب ساکن باڑہ ہندو راؤ کا مقدمہ دہلی ڈسٹرکٹ جیل میں پیش ہوا۔ ہر دو صاحبان نے عدالت کی کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ شہادت استغاثہ کے بعد مجسٹریٹ نے ہر دو صاحبان کو چھ چھ ماہ قید بامشقت کی سزا کاحکم دیا۔ ہر دو صاحبان کو سی کلاس دی گئی ہے۔“ (الجمعیۃ 13نومبر1930)
دہلی۔ ۴/ نومبر۔مسٹر محمد اسماعیل صاحب رضاکار جمعیت کل بروز ہفتہ اپنے مکان سے گرفتار کرلیے گئے۔ موصوف جمعیت علمائے ہند کے ایک سرگرم رضاکار تھے۔ ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کی گرفتار کس دفعہ کے ماتحت عمل میں آئی ہے۔“ (الجمعیۃ 13نومبر1930)
مولانا ارشاد اللہ خاں صاحب ناظم جمعیت علمائے میرٹھ کو گرفتار کرلیا گیا۔ (الجمعیۃ 16نومبر 1930)
”جمعیت العلما کی شاخ بمبئی نے حال ہی میں شہر کے اسلامی محلوں کی شراب کی دکانوں پر جو پیکٹنگ گذشتہ جمعہ سے جاری کی ہے، وہ دو روز تو پولیس کی مداخلت کے بغیر گذرگئی؛ مگر یک شنبہ کی شب سے پولیس نے رضاکاروں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ یک شنبہ کی شب کو پولیس نے چھ رضاکاروں کو گرفتار کیا ان میں سے دو کوکل ٹھکر کی عدالت میں پیش کیا۔ اور انھیں چار چارہ ماہ قید بامشقت کی سزا ہوئی۔
کراچی 28نومبر۔ آج آدھی رات کو تین ستیہ گرہی لیڈروں کو دفعہ 117کے ماتحت قانون نمک کی خلاف ورزی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔ ان کا مقدمہ گیارہ دسمبر کو کراچی جیل میں مسموع ہوگا۔ ان گرفتار شدگان میں سے دو لیڈر نہایت معزز اور سر برآوردہ ہیں۔ ایک مولوی محمد صدیق صاحب صدر ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی اور رکن جمعیت علمائے ہند، جن کو سندھ کے مسلمانوں میں خاص اقتدار حاصل ہے۔“ (الجمعیۃ 5دسمبر1930)
کل دو شنبہ کی شب کو پولیس نے پھر چھ رضاکاروں کو گرفتار کیا۔ کل بھی 31دکانوں پر پیکٹنگ میں 62رضاکار مصروف تھے۔“ (الجمعیۃیکم دسمبر1930)
اس طرح فردا فردا جمعیت علمائے ہند اور دائرہ حربیہ کے سیکڑوں افراد کو پولیس گرفتار کرکے جیل بھیجتی رہی۔ جب اس سے بھی اطمئنان نہیں ہوا تو، جمعیت علمائے ہند کے دفتر پر چھاپہ مارکر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے فتویٰ کی 1838کاپیاں لے کر چلی گئی۔
”پولیس جس مکتوب کی 1838جلدیں اٹھا کر لے گئی ہے، وہ حضرت مولانا محمود الحسن کا وہ فتویٰ ہے، جو تحریک ترک موالات کے زمانہ میں شائع ہوا تھا اور جس میں انگریزوں کے ساتھ موالات کرنے اور ان کی اعانت کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ یہ فتویٰ جمعیت علمائے دیوبند نے حال ہی میں اقبال پرنٹنگ پریس میں دوبارہ شائع کرایا ہے۔ (الجمعیۃ 24 نومبر1930)
سول نافرمانی کی تحریک اور طلبہ مدارس
مدرسہ امینیہ دہلی کے طلبہ نے بھی جمعیت علما کی طرز پر جمعیۃ الطلبہ بنائی اور اس کے پانچویں مقصد میں یہ تھا کہ
”(۵)جمعیت علمائے ہند کے احکام کے نفاذ و اجرا میں پوری جدوجہد کرنا۔“ (الجمعیۃ 13اپریل 1930)
طلبہ دارالعلوم دیوبند اور مجلس حربی
اسی طرح طلبہ دارالعلوم دیوبند نے بھی دائرہ حربیہ میں شرکت کرکے جنگ آزادی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔
”دہلی3اکتوبر۔ آج صبح دس بجے کی گاڑی سے طلبائے دارالعلوم کا دوسرا دستہ دفتر جمعیت علمائے ہند میں پہنچ گیا ہے اور تیسرے دستہ کے عنقریب آنے کی خبر ہے۔ جو لوگ طلبائے دارالعلوم دیوبند کے احساسات و جذبات پر اپنی غلط بیانیوں سے پردہ ڈالنا چاہتے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: