مضامین

طلبۂ عزیز! آپ چاھیں تو ممکن ھے ( دوسری اور آخری قسط)

محمد شہاب الدین قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

وہ طلبہ جو حفظ کی تکمیل کرکے،یا براہ راست فارسی اور عربی کے ابتدائی درجات میں پڑھ رہے ہیں یا ان میں داخلہ کے لیے تیاری کر رہے ہیں،ان کو بھی اپنی بنیاد حد درجہ مضبوط کرنی ہوگی ،تا کہ آیندہ اسی پر عالمیت،فضیلت،افتاء،ادب،تفسیر اور دیگر تخصصات کی مزید پر شکوہ عمارتیں کھڑی کی جا سکیں،آج اگر آپ نے ماہرین کی نگرانی اور ان کی مر ضی اور معیار پر تأسیس کا عمل نہیں کیا تو آیندہ اس کے اوپر کسی مستحکم اور پائیدار تعمیر کا ارادہ محض خواب و خیال ہوگا،ابتدائی درجات میں اکثر قواعد و اصول حفظ یاد کیے جاتے ہیں چاہے وہ سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں،مثلا فارسی کی گردان، نیزصرف کبیر اور صرف صغیر کی گردانیں، آپ کی نوک زبان پر رھیں،ان کو آپ ابھی ہی فرصت اور تنہائی کے دنوں میں ازبر یاد کر لیں،اسی طرح نحو کے ابتدائی اور بنیادی قواعد یاد کرنے کے ساتھ، ان کا عملا اجراء ،نہ صرف کتابوں میں دئیے گئے محدود مثالوں سے کریں ،بلکہ اپنی روز مرہ بول چال مثلا ”میں مدرسہ جا رہا ہوں،میں نماز پڑھنے مسجد گیا تھا“ یا اردو کتابوں کے مطالعہ کے وقت ،جملوں میں نحوی ترکیب کریں،بالخصوص قرآنی آیات کے ذریعہ صرف و نحو کا اجراء بند ذہنوں کے گرہ کو کھولنے کے لیے از حد مفید ہے،یاد رکھیں!جسطرح قرآن کریم کے ابتدائی بچوں کو چندپارے پڑھا کر،ان میں پورا قرآن کریم از خود پڑھنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے, تا کہ وہ حفظ کے لیے تیار ہو سکیں، اسی طرح ابتدائی عربی درجات میں آپ اپنے پڑھے اسباق کی روشنی میں قرآنی آیات کے ذریعہ صرف و نحو کی اجراء کی عادت بنا سکتے ہیں،اس طریقہ کار سے آگے کے درجات میں ،عربی عبارات کو از خود حل کرنے کی صلاحیت آپ کے اندر پیداہو جائے گی، بالخصوص تفسیر قرآن کریم میں اس سےکافی مدد ملے گی اور اساتذہ آپ کے جذبۂ شوق کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
عربی درجات کے طلبہ جو آئند ہ دار العلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، مظاہر علوم سہارنپور یا دیگر مرکزی اداروں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں، انہیں معلوم ہوناچاہئے کہ ان اداروں میں امتحان داخلہ ،تقابلی ہوتا ہے،مختلف جید الاستعداد طلبہ داخلہ امتحان میں شریک ہوتے ہیں،امتحان تقریری بھی ہوتاھے اور تحریری بھی،تقریری امتحان میں یاد داشت،برجستگی،ما فی الضمیر کی ادائیگی اور بھر پور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے،ان اوصاف کے حصول کے لیے یادداشت،تمرین اور غیر معمولی جدو جہد درکار ہے، جب کہ عبارت خوانی میں مہارت کی دو بنیادیں ہیں،صرفی تعلیل اور نحوی ترکیب کے ساتھ ان کا اجراء،اس لیے روز انہ دو صفحہ عبارت خوانی کا ایسامعمول بنائیں کہ عبارت میں واقع افعال کے ضمن میں صرف کے ضروری قواعد اور جملوں میں نحوی ترکیب کا اجرا ھوجائے ۔اسی طرح تحریری امتحان کے لیے ضروری ہے کہ تحریر صاف ستھری،خوبصورت اور معیاری ہو،خط نستعلیق کی مشق اردو لکھنے کے لیے ضروری ہے ،جب کہ معروف عربی خطوط مثلا نسخ،ثلث،رقعہ اور خط جدید، جس کو خط عربی بھی کہا جاتا ہے، ان میں اختصاص پیدا کریں ،اس کے ساتھ ساتھ اسلوب نگارش خواہ اردو میں ہو، یا عربی میں،سیکھنا چاہئے،طریقہ القا اور حسن نگارش سے مضمون کس قدر حسین ہو جاتا ہے وہ اہل ذوق پر مخفی نہیں۔ درسیات میں مہارت پیدا کرنے کے لیے فرصت کے یہ اوقات مستقبل میں آپ کی زندگی کو شاہراہ سے جوڑنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں،شرط ہے کہ آپ اپنا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔
منتہی طلبہ کے لیے عربی شروحات اور فن سے متعلق مآخذ و مراجع کا مطالعہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک پودے کو تناور درخت کرنے کے لیے پیہم سیرابی اور اس کے تحفظ کی ممکنہ جد و جہد،کثرت مطالعہ ہی سے علم و فن کے راستوں سے، شہر علم کی شاہراہ تک پہنچا جاسکتا ھے ،اور جبال اور کبار علماء،محققین، مصنفین اور تخلیق کاروں کے علمی،ادبی اور تخلیقی جواھر پاروں سے اکتساب فیض ممکن ھوسکتا ھے ،لہذااپنی پسندیدہ کتابوں کے انتخاب کے سلسلہ میں تاخیر نہ کریں، وقت کم ہے اور مسافت لمبی،کتب بینی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں اکسیر ہے،ذوق مطالعہ ہی علم و فن کے دریا میں غوطہ زنی کا ہنر سکھاتا ہے، اسی سے علوم و معارف کے دروازے کھلتے ہیں اور لکھنے، بولنے کا سلیقہ بھی،اسلام کے خلاف کسی بھی فتنہ کی سرکوبی کے لیے مطالعہ کسی بھی مؤثر ہتھیار سے کم نہیں،عربی کتب سے استفادہ کی اگر عادت ہو گئی تو آپ اپنے علمی ذوق کی وجہ سے اہل علم کی آنکھوں کا تارا ہوں گے اور ہر طرف سے آپ کو علمی اعتماد کا اعزاز بھی ملے گا،جس کی وجہ سے میدان کار میں آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا،چوں کہ انسان کی مخلصانہ کوششیں، کامیابی کی شکل میں اس کے سامنے ضرور آتی ہیں“۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی”اولاد کے لیے والدین کی طرف سے بہترین تعلیم و تر بیت سے بڑھ کر کوئی اور عطیہ نہیں ہے“کے حوالہ سےوالدین اور سرپرستوں سے عرض ہے کہ آپ کے بچے ملک میں پھیلے مدارس میں سکون و اطمینان کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ھیں، جب کہ آپ اپنے اپنےکسب معاش کے مختلف مشاغل میں مصروف عمل رھتے ھیں،حفظان صحت اور دینی تربیت کے ساتھ قرآن و حدیث اور دیگر علوم و فنون کو بے فکری کے ساتھ مدرسہ میں پڑھنےوالے اکثر بچوں کا کفیل مدارس ہی ھوتے ھیں ،جب کہ دوسری طرف وہی والدین اپنے جن بچوں کو اسکول اور کالجوں میں پڑھا رہے ھوتے ھیں ، ان کی مہنگی تعلیمی فیس اور گراں ہاسٹل کے اخراجات،ٹیوشن فیس اور نہ جانے کتنے لوازمات پر آسانی سے اپنی خطیر دولت خرچ کرتے ھیں ،اب جب کہ ملک لاک ڈاؤن کا شکار ہے ، ان حالات میں بھی والدین کو اپنے ان بچوں کی فکر دامن گیر ھے،جو اسکول میں پڑھ رہے ہیں ،جب کہ ان ہی والدین کے وہ بچے جو مدارس میں زیر تعلیم تھے، ان کے تعلیمی نقصان اور سال ضائع ہونے کی کوئی فکر نہیں،کیا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کی آپ ان کی تعلیم کے لیے بھی اساتذہ کی خدمات حاصل کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے ان کی ضروریات کی تکمیل کریں؟یہ درست ہے کہ جن بچوں کو انجینئر،ڈاکٹر اور حساب داں بنا رہے ہیں اور ان کے اوپر آپاس لئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاکہ آئندہ وہ خود کفیل ہوں،خوش حال ہوں،عزت وشہرت ہو اور نہ جانے دنیا کی ساری شان و شوکت کے مالک ہوں،آپ ضرور ان کی دنیوی تعلیم لے لئے کوشاں رھیں ،اسلام نے اس کی اجازت دے رکھی ھے، لیکن یاد رکھیں! دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں پر سرمایہ کاری نہ صرف دنیا میں عزت وسکون کا ذریعہ ہو گی, بلکہ آخرت میں بھی بڑے منافع کا وسیلہ بھی،اس دن آپ کی کامیاب تجارت پر دنیا کے لوگ حسرت و شوق کی نگاہ سے آپ کو دیکھ رہے ہوں گے، لہذا اگر آپ نے مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کے اس لاک ڈاؤن میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے ،تو اس کی تگ و دواور جد وجہد میں لگ جائیں، آج ان کے اساتذہ کے اوپر جو بھی خرچ کریں گے ،کل آپ کو ڈھیروں گنا زیادہ ملے گا، اگر آپ اہل ثروت ہیں، تو اس نازک موقع پر غریبوں کے نو نہالوں کو فراموش نہ کریں،اور ان کےبھی تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھائیں ،آپ کے اس طرز عمل سے مدارس کے اساتذہ کے لیے بھی آسانی کی راہیں کھلیں گی، جو اس وقت مالی مشکلات کے شکار ھیں۔
مدارس کے طلبہ سے عرض ہے کہ آپ اپنے گاؤں یا قرب و جوار میں کسی بھی ایسےعالم کا ہاتھ پکڑ لیں جو آپ کی مطلوبہ کتابیں پڑھاسکتے ھوں اوران سے اپنے اسباق شروع کر دیں،اگر متواتر سارے گھنٹے، یا ساری کتابیں نہ بھی ہو سکیں، تو بالکل فوت ہونے کے مقابلہ میں کچھ ہونا بہتر ہے،کام مشکل ضرور ہے ،لیکن نا ممکن نہیں۔
اساتذہ اپنے دیرینہ تدریسی تجربات کی روشنی میں کم وقت میں زیادہ طلبہ،یا محدود وقت میں مختلف درجات کے طلبہ کو پڑھا سکتے ہیں،اس سال اگر مدارس نہ کھل سکیں اور کوشش کی جائے تو سال کے اخیر تک نصاب کی تکمیل کی جاسکتی ہے،منتہی طلبہ سے مبتدی طلبہ کے درس کا کام لیا جا سکتا ہے،اسی طرح اپنی نگرانی میں ممتاز طلبہ سے بھی تدریسی خدمات لی جا سکتی ہیں،غیر ضروری تفصیلات و تشریحات کو نظر انداز کرتے ہوئے متن اور حل عبارت، نیز ضروری تشریح کے ذریعہ اس سال کو کار آمد بنایا جا سکتا ہے، اگلے اسباق از خود نکالنے کی عادت کو فروغ دیتے ہوئے طلبہ کی صلاحیت کو پختہ اور اخاذ بنایا جا سکتا ہے،افراد سازی اور رجال سازی کے جذبہ سے سرشار ہو کر اگر پڑھایا جائے تو ،درس و تدریس کی افادیت دو چند ہو جاتی ہے، طلبہ کی ذہانت سے زیادہ اساتذہ کے طریقہ تفہیم اور ان کے اندر طلبہ کی شخصیت سازی کے سلسلہ میں غیر معمولی دلچسپی اور لگن کا بڑا دخل ہے،اس جذبہ کا استعمال جہاں ، جس مقدار وکیفییت میں ہوگا، وہاں کی مٹی اسی قدر زرخیز ثابت ہوگی۔
muftishehab@gmail.com
Mob:7004283092

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: