مضامین

طلبۂ عزیز آپ چاھیں تو ممکن ھے….

محمد شہاب الدین قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

عالمی وبا کوروناکے نتیجہ میں ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو تعلیمی بحران پیدا ہوا ہے اس کی تلا فی آسانی سے ممکن نظر نہیں آتی ہے، تا ہم ان ھی ناسازگار حالات میں اپنے روشن تعلیمی مستقبل کی راہیں تلاش کرناہماری ذمہ داری ہے، یہ مشکل تو ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔
نئے تعلیمی سال 1442ھ کے چار ماہ گذر گئے، تمام چھٹیوں کو ختم کر کے اگر دیکھا جائے تو صفر سے شعبان تک صرف سات ماہ رہ گئے ہیں،جن طلبہ نے سال کے شروع میں ھی اپنے نصاب کی تکمیل کے لیے تعلیمی سفر شروع کر دیا ہے، ان کے عزم و حوصلہ، احساس ذمہ داری اور وقت کی قدر دانی جیسے جذبوں کو سلام، یقینا وہ اپنا ایک سال ضائع ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے،لیکن جن طلبہ نے اب تک کوئی نظام تعلیم مرتب نہیں کیا ہے، ان کے پاس اب سوچنے کا بالکل وقت نہیں ہے،ادارے کب کھلیں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، اگر آپ غفلت میں ہیں تو بیدار ہو جائیں اور مکمل ایک سال کے خسارہ سے بچنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔
مدارس اسلامیہ کے قیام اور ان دینی اداروں میں رائج منظم ومستحکم تعلیمی نظام کوقائم کرنے کے لیے ہمارے اکابر و اسلاف نے کیسی فقید المثال قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا روشن حصہ ہیں،ان کی ہی جد و جہد کی وجہ سے ہم ان اداروں سے فیضیاب ہو رہے ہیں، اس تاریخ کو پڑھنا اور جاننا بھی ہمارے فرائض میں ہے،مدارس کے قیام سے پہلےایک استاد اور ایک یا دو یا چند شاگردوں کے ذریعہ علماء کے گھر،مساجد سے ملحقہ عمارت اور رباط وغیرہ میں تعلیم و تعلم کا نظام چلتا تھا،جس طالب علم کو جب وقت ملتا استاد کی خدمت میں حاضر ہو جاتا اور ان سے کسی بھی فن کی کتاب پڑھ لیتا،دارالعلوم دیوبند کی تاسیس کا منظر نامہ بھی یہی ہے،ایک استاد، ایک شاگرد،چھتہ مسجد میں، انار کے درخت کے نیچے اسکا آغاز ہوا،متقدمین علماء کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے،بسا اوقات ایک ایک روایت کوحاصل کرنے کے لیے میلوں بلکہ ملکوں تک سفر کرتے تھے،ان واقعات سے آپ کو گذرے زمانہ کی مشقتوں کی طرف نہیں لے جانا چاہتا،لیکن دنیا اوراپنے ملک کے اس نازک دور میں جب کہ پڑھنا پڑھانا تک دشوار ہوگیا ہے، ہمیں اکابر کی پچھلی سنہری تاریخ کوجھانکنا ہوگا اور اس میں پوشیدہ کامیابی کے پہلوؤں کو اپنانا ہوگا،تاریخ اسی لیے لکھی جاتی ہے اور پڑھی بھی اسی لیے جاتی ہے۔
ہمارے لیے اطمینان کی بات ہے کہ ان ہی مدارس کی طویل اور پیہم جد و جہد کی وجہ سے آج الحمد للہ ملک کے ہر گاؤں،بستی اور علاقہ میں جید الاستعداد علماء،حفاظ اور قراء موجود ہیں ،جو اس مشکل وقت میں بھی طلبہ عزیزکی علمی تشنگی کو بجھارھےہیں،وہ طلبہ جویسرنالقران،نورانی قاعدہ اور ناظرہ پڑھنے والے ہیں، ان کے لیے حروف کی شناخت،صحت مخارج کے ساتھ حروف کی ادائیگی اور تجوید کے اصولوں کے مطابق قران کریم کو پڑھنااھم اور ضروری ہے، ابتدا ہی سے عملی مشق وتمرین کے ذریعہ بچوں کو عامل باالتجوید بنانے کی ضرورت ہے،اس طریقہ کار کو اختیار کر کے ہمیں (مدنی مسجد)خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے، کیوں کہ جو ذمہ داران مدارس اس محاذ میں بطور تحریک کے کام کر رہے ہیں ان کے نزدیک یہ اصول کار فرما ہے کہ بنیاد یں جس قدر مضبوط اور مستحکم ہوں گی مستقبل میں اس کے اوپر اسی قدر بلند و بالا عمارتیں بنائیں جا سکیں گی،ظاہر ہے ان ہی بچوں کو آیندہ حفظ کے دشوارگذار مراحل طے کرنے ہیں اوراس کا بڑا مر حلہ صحتِ مخارج کے ساتھ حروف کی ادائیگی ھے،اس کو ابتدائی درجات میں ہی مضبوط کر لینا ضروری ہوگا تا کہ آیندہ اس کی صلاحیت حفظ قران،آموختہ،سبق پارہ،تحسین صوت کے ساتھ ،عربوں کے لہجہ میں قرأت کی جد و جہد،نیز ائمہ حرمین اور عالم اسلام کے شہرت یافتہ مقری،قراء کی قرأت کی تقلید جیسے اہم محاذ پر اس کی توجہ مرکوز رہے۔جن طلبہ کا نا ظرہ کمزور ہو، ان کے لئےحفظ بہت مشکل امر ہو جاتا ہےجو تجربہ کار اساتذہ پر مخفی نہیں ہے،آپ کو اپنے گاؤں،قرب و جوار میں ایسے ماہر اساتذہ مل جائیں گے، جو ان بنیادوں پر آپ کے بچوں کی بنیاد سازی میں اہم کردارادا کر سکتے ھیں ۔جن مدارس میں ان خطوط پر بچوں کو ڈھالا جا رہا ہے ،ان کے لیے آپ کی جد و جہد مہمیز کا کام کرے گی اور جو مدارس ادھر متوجہ نہیں ہیں ان کے لیے باعث تقلید و مثال،یادرکھیں صحت مخارج اور تجوید کے اصولوں کے مطابق چند پارے پڑھنا زیادہ پڑھ لینے سے بہتر ہے،والدین اور سر پرست اس فرق کواگر نہ سمجھ سکیں تو تقریباً ہر جگہ ایسے علماء اور حفاظ موجود ہیں، جو آپ کی اس سلسلہ میں رہنمائی کر سکتے ہیں،ابتدائی اور پرائمری درجات میں اردو پڑھنا،نقل اور املاء وغیرہ کے لیے ہماری مائیں اور بہنیں خود اپنے مکان میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری کردیں تو دور حاضر کی سب سے بڑی مشکل آسانی سے حل ھو جائے گی۔
جو طلبہ حفظ کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک متوسط طالب علم کے لیے حفظ مع دور کی مدت چار سال ہے، پہلا سال آٹھ پارہ،دوسرا سال دس پارہ،تیسرا سال دس پارہ اور چوتھا سال حفظ کی تکمیل اور دور، اس سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف دور کے لیے آپ کو پورے ایک سال چاہیے تاکہ کم از کم پچیس سے تیس دور ھوجائے،معلوم ہوا کہ حفظ کے لیے دور کا سال انتہائی اہم ہے اور اس کے لیے مستقل وقت کی ضرورت ہے، تو کیوں نہ آپ ان فرصت کے دنوں کو اپنے آموختہ کے لیے مختص کر لیں،یہ تو ہمارا طریقہ تعلیم ہے ورنہ ہند و پاک،بنگلہ دیش اور عرب ممالک کے تحفیظ القران کے بیشتر مدرسوں میں حفظ اور دور دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں،یعنی جتنے پارے حفظ ہوئے ،ان پاروں کوحفظ کے دوران ھی اتنا پختہ یاد کر لیا جاتا ھے کہ انہیں ایک بیٹھک میں سنایا جاسکتا ھے، اسی طرح حفظ مکمل ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی دور بھی،دور کے لیے الگ سے ایک سال کی ضرورت نہیں پڑتی ہے،چنانچہ ایسے بچوں کا حفظ ختم ھوتے ھی ایک کہنہ مشق،ماہر اور بہترین یاد داشت کے ساتھ میدان کار میں اتار دیاجاتا ھے،آپ اپنا آموختہ یاد کرنے کے لیے مدرسہ کے کھلنے کا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟ جتنے پارہ آپ نے حفظ کر لیا ہے اسے آپ اسی وقت پختہ کر لیں،آپ کے لیے یہ بہترین موقع ہے،والدین کی نظروں کے سامنے،ان کی شفقتوں کے سایہ میں،ان کے ہاتھ کا کھانا پینااور ھر طرح کی وہ آسانیاں حاصل ھیں ،جو مدرسہ میں آپ کو میسر نہیں تھیں ،لہذاکامیاب اور بامراد ھے ہے وہ طالب علم جو اپنے آموختہ کو اس لاک ڈاؤن میں پانی کی طرح رواں کر لے اور خوش نصیب اور مبارکباد کے مستحق ہیں وہ والدین جو حفظ کر نے والی اپنی اولاد کو اس راستہ پر گامزن کر دیں تاکہ مدرسہ کھلتے ہی ان کا سبق شروع ہو جائے،البتہ جن بچوں نے آموختہ پختہ کر لیا ہے وہ اپنا سبق بھی جاری کر سکتے ہیں، بس ضرورت ہے ایسے اساتذہ کا انتخاب، جو حفظ قران کے ساتھ تصحیح کے معیار کو پورا کر سکیں،آپ کی جد و جہد رہے گی تو ایسے اساتذہ آپ کو یقینا مل جائیں گے،ابھی بھی وقت ہے،صفر کا آغاز ہے،مدرسوں کے اعتبار سے یہ تعلیمی ھما ھمی کا وقت ہے،آپ اپنی بروقت بیداری سےاپنا قیمتی ایک سال ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں، بلکہ اس سے زیادہ بھی حاصل کر سکتے ہیں،مدنی مسجد نوادہ میں پڑھنے والے طلبہ مجھ سے فون پر مدرسہ کے کھلنے کے سلسلہ میں پوچھتے ہیں ،تو میں ان سے پوچھتا ہوں، کتنے پارہ حفظ کر لیے تھے؟جواب ملتا ہے دس،بارہ یا پندرہ پارے وغیرہ وغیرہ،میں ان سے پوچھتا ہوں کتنے دور نکالے؟میں ان سے یہ کہ کر فون رکھتا ہوں کہ جتنے پارے حفظ کرلیے تھے ،ان کو مدرسہ آتے ہی ایک بیٹھک میں سنانا ہے،اس لیے روز انہ وقت متعین کر کے آموختہ یاد کر لیا کرو،بعض طلبہ کی حوصلہ افزا خبریں بھی موصول ہوئیں کہ اپنے گاؤں کے ایک حافظ صاحب سے سبق،سبق پارہ اور آموختہ بھی جاری ہے، ان طلبہ کی تعلیمی جدوجہد اور وقت کی قدر دانی دوسرے طلبہ کے لیے مثال ہے اور قابل تقلید بھی۔۔۔(جاری)
یکم صفر المظفر 1442ھ
muftishehab@gmail.com
Mob:7004283092

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: