مضامین

عائشہ :ا س زاویہ سے بھی دیکھناچاہیئے

؎ ہواہے جب سے دلِ نا صبور بے قابو
ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی
دنیامیں فی سیکنڈ لاکھوں حادثے اورموتیں ہوتے رہتے ہیںمگران میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جواپنے پیچھے کچھ خاص نقوش اورکہانیاں چھوڑجاتے ہیں ،اسی قبیل سے احمدآباد کی مشہور سابرمتی ندی میں غرقاب ہونے والی عائشہ عارف(اللہ اس کوبخشے) کی خودکشی کامعاملہ بھی ہے۔ جس پر کئی مشہورکالم نگاروںسے لے کرہندستان کی مؤقر مسلم تنظیم مسلم پارسنل لاء بورڈکے جنرل سکریٹری (حفظہ اللہ) تک کے مضمون پراحقرکی نظر پڑی،مگر عائشہ کی موت کے ساتھ ایک تشویشناک اورقابل افسوس پہلو یہ بھی رہاکہ ان میں سے اکثرکانقطۂ نظرتقریباََ ایک جیسا ہی ہے ، کہ عائشہ کے خوکشی کے اقدام کے پیچھے اس کے شوہرکی جانب سے بار،بارجہیزکاسخت مطالبہ کارفرمارہا، مجھے اس کے بدنصیب شوہرکے وکیل دفاع کاکرداراداکرنے کاکوئی شوق نہیں، اورنہ ہی الحمدللہ والمنۃمیں اپنی ازدواجی زندگی میں کسی الجھن اورچپقلش کا شکار ہوں۔
لیکن پھربھی آپ کے ساتھ اپنی یہ با ت شیئرکرنے کاحق دارہوں کہ آپ اس معاملہ کو یک طرفہ طورپردیکھنے کی غلطی میں تومبتلانہیں ؟اس موضوع پرآپ کوایک دسرے پہلوسے بھی غورکرناچاہیئے کیونکہ آپ اورہم سب نے ابھی تک جتنی بھی آڈیو،ویڈیودیکھی یاسنی ہیں وہ صرف مرحومہ عائشہ یااس کے والدین کی ہیں، اس کے ملزم شوہرکاتوکوئی بیان کسی کوسننے اوردیکھنے کوکہیں ملاہی نہیں،جس سے آپ اس حادثہ ٔناگہاں کی اصل حقیقت اورٹھیک، ٹھیک صورت حال تک
پہنچیں یا ایک انصاف پرست شخصیت کی حیثیت سے غورکرسکیں کیونکہ دنیاکی کوئی بے ایمان سے بے ایمان عدالت بھی یک طرفہ بات سن کے فیصلہ نہیں کردیتی، چاہے اس کی نیت ہمارے ایک سابق چیف جسٹس کی طرح کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو؟مگر مدعاعلیہ کی جرح بھی سننے کی روایت لازمی طورپربرقرار رکھی جاتی ہے۔
یاپھرکہیں ایساتونہیں کہ ہم بھی رات دن گودی میڈیاکو سن، سن کر اسی کا مذموم کرداراداکرنے کے عادی ہوگئے ہیں،کہ پولیس میڈیا کے سامنے کسی نقاب پوش کو کھڑاکرکے ملزم کہتی ہے مگرمیڈیا پولیس سے بھی دوقدم آگے بڑھ کراس کوخونخواردہشت گرد قرار دے کر اپناانکم آف سورس بڑھانے میں لگ جاتاہے۔
اس لئے مذکورہ سانحہ پر اس پہلوسے بھی غورکیاجاناچاہیئے کہ عائشہ مرحومہ کے شوہرکو جہیزکالالچی ہونے کے علاوہ اپنی بیوی یااس کے سرپرستوں سے کوئی دیگر شکایات تونہیں رہیں ؟
خدانہ کرے کہ عائشہ کسی ذہنی استحصال یاجلدبازی کاشکارہوکراپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھی ہو، یہ بات میں اس لئے کہہ رہاہوںکہ مشہور قول ہے ’بدیٔ مُردہ سودے ندارد،۔
بہرحال اگرآپ عورتوںکی خودکشی ، خود سوزی اور اتفاقی اموات کا تجزیہ کرنے لگیں تو معلوم ہوگا اکثر مقدمات میں بادی النظرمردہی کو خاطی کی نظرسے دیکھاجاتاہے، چاہے بعد تفتیش اورتحقیق قصوروارعورت ہی نکلے، مگرہمارے معاشرہ کی ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ اکثر ’مہیلا سیل ، اور ہمارے ملک کی چھوٹی بڑی تقریباََ تمام ہی عدالتوںکازاویہ نظر میاں، بیوی کے جھگڑے میں شوہرکوہی قصوروارماننے کا چلاآتاہے، تواس معاملہ میںبھی شاید ہم لوگ اپنی اسی پرانی روش پر نہ ہوں؟
نیزایک غضب کی بات یہ بھی ہے کہ عائشہ مرحومہ کی وفات پر ہمارے نومشق مفتیان کرام کوبھی اپنے لئے سامان تسلی فراہم ہوگیااورانھوںنے اس کے لئے حدیث رسولﷺ (اگرکسی نے خودکشی کی تواللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں ڈالدے گا اوروہ انسان بار، باراسی چیز سے خودکوہلاک کرتارہے گا جس سے اس نے اپنی خودکشی تھی؛سنن نسائی،ج ۳:۳۸۰۳) کی بنیاپرجہنم رسیدکا فتویٰ صادرکر کے عائشہ پرخداکی بے پایاں رحمت اورجنت کے وسیع دروازے تنگ کردئے ۔
البتہ مجھے اس معاملہ میں اسلامک اسکالر جناب یاسرندیم الواجدی کا موقف اوران کی وضاحت بہت اچھی معلوم ہوئی کہ ’’بہت ممکن ہے مرحومہ اپنے اقدام غرق سے قبل کسی ایسے مرض کا شکارہوچکی ہو جہاں انسان کو اپنے اچھے ، برے کی تمیزختم ہوجاتی وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکارہوجاتاہے،، یعنی دماغی مرض(Bipolar disorder) جیساکہ ماہرین نفسیات کے نزدیک اس مرض کا شکارمردوںکے بہ نسبت لڑکیاںاورخواتین جلدی ہوجاتی ہیں۔
اوربات رہی لوگوںکے اقدام خودکشی کی توچونکہ عام لوگوںاورغیرمسلم حضرات کی نظر میں موت کے بعدوالی زندگی، حساب ، کتاب کا کوئی تصورنہیںان کے نزدیک آواگون(آمدورفت) کامعاملہ ہے ، کہ اگرآج چلے گئے توکل پھرلوٹ کرآجائیںگے، اس لئے ان کی نظرمیں یہ ایک کھیل ،ڈرامہ سے زیادہ کچھ نہیں۔
شوہروںکی بے قصوری کی سرگزشت: میں اپنے قریب کے متعدد فیملی تنازعارت کوجانتاہوںکہ وہاں مرد بالکل بے قصور اورساراقصور خاتون خانہ کاہے، مثلاََ میرے ایک خاص معتمدکے بیان کے مطابق ابھی شمالی دہلی کے بھجن پورہ علاقہ میں ایک نوجوان جوڑاتھا ، شوہرشام کو کام پرسے لوٹ کے آیا ،اہلیہ سے چائے بنانے کوکہا، چائے کاپہلوگھونٹ بھرتے ہی بولا:کیاآج ساری چین اسی ایک کپ چائے میں ہی ڈالدی؟
شوہر کااتناکہناتھا کہ بیوی چھوٹتے ہی بولی:تونے کیاکہا؟ذرادوبارہ کہہ۔ شوہرنے جیسے ہی وہ جملہ دوبارہ دہرایا، عورت چھوٹتے ہی شوہرکی ماں، بہنوںکو مادرزاد گالیاں بکنے لگی۔ شوہرنے کہا:زبان اندر کر، ورنہ براہوجائے گا۔
بیوی چیخ کر بولی: تیری ماںکا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرتومردکابچہ ہے اورتونے کسی کُتیانہیں بلکہ عورت کا دودھ پیاہے، تو تُومجھ کوابھی اسی وقت طلاق دے، اور طلاق نہ دے تو تیری ماں کا۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر وہ بھی بزعم خود اصلی مرد تھا فوراََ ہمارے سماج کی طرح تین نالی بندوق کھول کر طلاق۔۔۔طلاق۔۔طلاق، کہااور معاملہ ختم۔ اب سب رشتہ دار اورعزیز پریشان ہیں،مگر سب لاحاصل ہے۔
اسی طرح ایک سانحہ ہے کہ چار، پانچ سال پہلے کاایک اور واقعہ بھی اسی طرح رونماہو اکہ بیوی کی بدکرداری کے چرچے محلے میں عام ہونے لگے تو شوہرنے ایک دن طیش میںآکر اس سے یہ پوچھ لیا: تیرانام’ تمنّا، ہے ابھی تو اورکتنے مردوںکی ’تمنّا، پوری کرے گی؟
اس عورت نے شوہر کودوٹوک جواب دیا: کہ ہاں! میرانام تمناہے، اورجوبھی مرد بھی مجھ سے تمنارکھے گامیں اس کی تمنا ضرورپوری کروںگی۔الامان والحفیظ۔
بہر اس طرح کی کتنی کہانیاں اور داستانیں خودآپ کے علم میں بھی ہوسکتی ہیں ، میرامقصد تو سماج کو آئینہ دکھاناہے، کہ کبھی بھی یک طرفہ بات پرطیش میں آکر کوئی اقدام نہ کریں،میرامقصد کسی کی دل آزاری مرحومہ یااس کے سرپرستوں کا استحصال نہی ہرگزنہیں بلکہ اس طرح کے کیسومیں گہرے مطالعہ کی دعوت فکر ہے۔
اوربات رہی عائشہ عارف کی موت یااسکے مشتبہ معاملہ کی تواللہ سے میری دعاہے کہ بچّی عائشہ کواللہ تعالی انصاف دے، اورقصوروارکوسزا، نیز مرحومہ کے لئے جنت الفردوس اور اسکے وارثین کو صبرجمیل کی دعاکے ساتھ اللہ حافظ۔
ہواہے جب سے دلِ نا صبور بے قابو
کلام تجھ سے نظرکوبڑے ادب سے ہے
(فیض احمدفیضؔ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: