اہم خبریں

عالمی اسلامی کنونشن نے اٹھائی سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مضبوط آواز

اس موقع پر ایک پسماندہ علاقے میں تعلیمی اصلاحی و قومی خدمات پرمولانامحمدعلی مونگیری ایوارڈ سے نوازے گئے

نئی دہلی،2جنوری (پریس ریلیز) اس وقت ہمارا پیارا وطن ہندستان سخت قسم کی بے چینی اور بد امنی میں مبتلا ہے۔ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول قائم ہے، تخت حکومت پر ان فاشسٹ عناصر کا قبضہ ہے، جو ایک خاص نظریہ کے حامل ہیں اور ایک مخصوص پالیسی کے تحت اس ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنا اور یہاں کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ ان عناصر کو یہاں کی قدیم اور مثالی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہماری آبائی وراثت اورروحانی اقدار سے سخت نفرت ہے۔ انھیں سیکولرازم اور جمہوریت سے دشمنی ہے۔وہ دوستور و آئین میں دی گئی آزادی ا ر دستوری حقوق کو پامال کرنے پر آمادہئ کار ہیں۔ انھیں یہاں کی کثرت میں وحدت پر مبنی روایات سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت مہنگائی، بد عنوانی اور بھکمری جیسے عام مسائل پر کنٹرول کرنے میں سخت ناکام ہوچکی ہے، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ہندستان کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،اسی لیے وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ایشوز کو اٹھاتی رہتی ہے جس سے اس ملک کے عوام کی توجہ ضروری بنیادی مسائل پر مرکوز نہ ہوسکے اور وہ حکمراں طبقہ سے اپنے بنیادی حقوق کا سوال نہ کرسکے۔ حال ہی میں منظور ہونے والے شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کا مدعا ایسے ہی ایشوز ہیں جن سے ہندستان کا غریب طبقہ اور اقلیت سخت کوفت میں مبتلا ہے۔ یہاں کے سیکولر مزاج افراد کو ان قوانین کے نفاذ سے یہ اندیشہ لاحق ہوچکا ہے کہ مذہبی تفریق پر مبنی اس قانون کی وجہ سے ہمارے ملک کی مشترکہ تہذیبی روایات پامال ہوجائیں گی اور ان کی نسلوں کو مستقبل میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لیے ہندستان کے عوام بلا تفریق مذہب اس قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر حکومت اپنے عزائم سے منحرف ہونے کو تیار نہیں۔ان خیالات کا اظہار عالمی اسلامی کنونشن میں آل انڈیا تنظیم علماء حق کے زیر اہتمام منعقدہ غالب اکیڈمی نئی دہلی کے موقع پرخطبہئ صدارت پیش کرتے ہوئے تنظیم کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کیا۔
قومی شہریت ترمیمی بل، این آر سی، این آر پی اور دفعہ 370کے خاتمے کو ملک کو توڑنے والا قانون قرار دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہاکہ اس حکومت نے دوسری میعاد کے چھ سات ماہ کے دوران 60 فیصد ایسے قوانین پاس کرائے ہیں جو ملک کو توڑنے والے ہیں۔ یہ بات آج یہاں انہوں نے تنظیم علمائے حق کے زیر اہتمام عالمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ خواہ تین طلاق قانون کا معاملہ ہو، کشمیر سے دفعہ 370ختم کئے جانے کایا موجودہ شہریت ترمیمی قانون پاس کرانے کا، یہ سماج میں تفریق پیدا کرنے والے اور ملک کو توڑنے والے ہیں لیکن موجودہ شہریت ترمیمی قانون اس حکومت کے لئے الٹا پڑگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمجھا کہ میڈیا کے ذریعہ افیم کھلائے جانے کے بعد قوم سو گئی ہے لیکن آسام کے عوام نے اس قانون کے خلاف سڑک پر اترکر سب کو جگادیا۔
مسٹر رحمانی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت جھوٹ بولکر ملک گیر سطح پر ہونے والے مظاہرے کو ختم کرنا چاہتی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ ملک کا ہر طبقہ سڑک پر اترا ہوا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ حکومت کاارادہ کشمیر کو فلسطین بنانے کا ہے یہ حکومت اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
شیعہ عالم دین مولانا صادق نے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جس نظام میں عدل و انصاف نہیں ہوتا ہے وہ نظام اور حکومت درہم برہم ہوجاتی ہے اور کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک کے وہ نظام عدل قائم نہ کرے۔انہوں نے کہاکہ اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ عالم انسانیت کے لئے ہے اس لئے اتحاد کا پیغام بھی عالم انسانیت کے لئے ہے۔
انہوں نے موجودہ ملکی ماحول اور قومی شہریت ترمیمی قانون کے نتیجے میں ہونے والے مظاہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ جودیکھ رہے ہیں وہ معمولی سی وحدت ہے جس سے ایوان حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اگر مکمل اتحاد کا مظاہرہ ہوجائے اور پوری کمیونیٹی آجائے اور اتحاد کا مظاہرہ کرے تو پھر کیا عالم ہوگا۔
دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث مولانااحمد خضر شاہ مسعودی نے ملک میں بدامنی اور بے انصافی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب کسی ملک میں انصاف کا نظام نہیں ہوتا ہے وہ تباہ ہوجاتا ہے اور یہ مذہب پر مبنی قانون نا انصافی کا دروازہ کھولے گا جس کی وجہ سے یہاں کا نظام درہم برہم ہوگا۔
آفتاب احمد خاں کو محمد بن قاسم ایوارڈ، پولٹیکل کونسلرسعید علی کو صلاح الدین ایوبی ایوارڈ، حکیم عزیر کو حکیم عبدالحمید ایوارڈ،قاری شبیر احمد امینی کو مولانا محمد یوسف ایوارڈ،مولانا عامر اقبال ندوی کو شاہ ولی اللہ ایوارڈ،محمد عامر بلبیر سنگھ کو مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ ایوارڈ،ایران کلچرل ہاؤس کے ڈائریکٹر کو امام خمینی ایوارڈ،مولان
ا یاسین نعمانی کو مولانا محمدعلی مونگیری ایوارڈ، ڈاکٹر سردار خان کو ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ، مولانا ولی اللہ قاسمی کو حسان بن ثابت ایوارڈ اور ڈاکٹر زاہد علی خان مسلم یونیورسٹی کو سرسید ایوارڈ کے علاوہ دیگر حضرات کو مختلف ایوارڈ سے نوازا گیا۔اسی کے ساتھ فکر انقلاب کا خصوصی شمارہ فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین نمبر کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ دیگر خطاب کرنے والوں میں مولانا عبداللہ طارق، شاعر ہ وسیم راشد، مولانانثار احمد مظاہری،مفتی ناصرالدین مظاہری،یونس صدیقی،مفتی یوسف قاسمی،مولانا محمد احمد ندوی اور دیگر حضرات شامل تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: