اہم خبریں

عالمی شہرت یافتہ دینی ادارہ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ انگریزی زبان و ادب سے سیکڑوں طلبہ استفادہ کرچکے ہیں

بشکریہ روزنامہ انقلاب ممبئی

یہ شعبہ ۲۰۰۳ء میں قائم کیا گیا تھا تب سے لے کر اب تک پوری توانائی کے ساتھ جاری ہے اور اس سے فیضیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ اس سے فارغین مدارس میں بڑی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہےاور حوصلہ بڑھتا ہے
حمزہ فضل اصلاحی
ممبئی: یہاں حاصل کی گئی اطلاع کے مطابق برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا شعبۂ انگریزی زبان وادب کا قیام ۲۰۰۳ء میں عمل آیا تھا۔ یہ شعبہ مولا نا سید اسعد مدنیؒ کے مشورہ، رکن شوریٰ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی اوردیگر کے تعاون سے قائم ہوا تھا۔ اس کے بعدسے اب تک یہ شعبہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ مختلف علمی اور سماجی شعبہ جات میںاپنی خدمات انجام دے رہےہیں۔ کچھ ملازمت کر رہے ہیں۔ کچھ طلبہ نے اسی کی مدد سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ پی ایچ ڈی کی بھی ڈگری حاصل کی ہے۔ کچھ یور پ میں انگریزی میں خطبہ دینے اور دعوت و تبلیغ میں سرگرم ہونے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔
شعبۂ انگریزی زبان وادب کے سربراہ  مولانا توقیر احمد قاسمی کاندھلوی اتر پردیش کے شاملی ضلع کے قصبہ کاندھلہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے دارالعلوم سے فضیلت کے بعد مرکز المعارف ممبئی میں داخلہ لیا۔ یہاں سے ۲۰۰۵ء میں ۲؍ سالہ کور س مکمل کیا۔ پھر مرکز المعار ف ہی میں ۴؍ سال تک ا نگریزی کے استاذ رہے ۔ گزشتہ ۱۰؍ سال سے دارالعلوم کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ ہیں ۔ ۵؍ سال سے شعبے کے سربراہ ہیں۔ ۱۰؍ اردو کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کرچکےہیں ۔ ان کے انگریزی مقالات بھی شائع ہوچکےہیں۔ اُن کے بقول:’’ یہاں سے ہر سال ۲۰؍طلبہ فارغ ہوتے ہیں۔ اس طرح ۲۰۰۳ء سے اب تک سیکڑوں طلبہ فارغ ہوچکے ہیں ۔ وہ پوری دنیا میں مختلف میدانوں میں سر گر م ہیں۔ کوئی درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہا ہے تو کوئی صحافتی خدمت۔ یہاں سے استفادہ کرنے والے کچھ طلبہ امریکہ او ربر طانیہ میں بھی ہیں اور انگریزی میں مصروفِ دعوت و تبلیغ ہیں۔ ‘‘
انہو ں نے مزید بتایا: ’’  شعبۂ انگریزی کے خصوصی کورس کی مدت ۲؍ سال ہے۔ اس کیلئے ہر سال ۲۰۰؍ یا اس سے زائد طلبہ میں سے صرف ۲۰ ؍ کا انتخا ب کیا جاتا ہے۔ سال او ل میں ۲۰؍ جبکہ سال دوم میں ۲۰؍ طلبہ پڑھتے ہیں۔ اس طرح ہر سال ۴۰؍ طلبہ یہاں رہتے ہیں۔‘‘ اس شعبے میں مولانا توقیر احمد قاسمی کے علاوہ مولانا عبدالملک بجنوری اور مولانا عبد الحميد یوسف قاسمی بھی استاذ ہیں ۔
’انقلاب ‘کے سوال’’ انتخاب کس بنیاد پر ہوتا ہے ؟‘‘ کے جواب میں مولانا توقیر احمد قاسمی کاندھلوی نے بتایا: ’’ تحریری اور تقریری انٹرنس ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اس میں ۳؍ باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ امیدوار کو لینگویج کا سینس ہو ۔ دوسرے، حالات حاضرہ پر اس کی نظر ہو، اسی لئے ایک پر چہ جنرل نالج کا بھی ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ امیدوار اچھا عالم دین ہو، اسے عربی زبان کا ذوق ہو،کیو نکہ اچھاعالم دین اور عربی زبان کا ماہر ہی انگریزی زبان سیکھ کر اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ فیلڈ میں کچھ کر سکتا ہے۔ ‘‘
اسی شعبے کے ایک اور استاذ عبد الملک بجنوری کابجنور سے تعلق ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہو نے کے بعد ۰۷۔۲۰۰۶ء  میں شعبۂ انگریزی کے تیسرے بیچ کاحصہ تھے۔ اس کے ٹاپر تھے ۔ ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو دارالعلوم کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ ہوئے۔ وہ بتاتے ہیں: ’’ ہمارے دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ انگریزی کے اکثر طلبہ حافظ قرآ ن ہیں۔ اس کے کئی فائدے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ ان کی میموری یا حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ یاد کر نے کی عادت کی وجہ سے ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہو جا تا ہے۔ دوسرے یہ ہے کہ انگریزی تلفظ کی ادائیگی میں انہیں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ وہ آسانی سے انگریزی کا تلفظ سیکھ لیتے ہیں۔ مشق کرتے ہیں۔ وہ بہت جلد انگریزی سے مانوس ہوجاتے ہیں۔ اسی لہجے میں گفتگو کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ حفظ کی وجہ سے اُن کے اند ر دوسروں کے مقابلے میں کسی بھی چیز کو سیکھنے کا جذبہ زیادہ ہو تا ہے ۔ ان کا ’لرننگ پاور‘ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی سبق کو مشکل نہیں سمجھتے ۔ اسے ہر حال میں یا د کر لیتے یا سیکھ لیتے ہیں۔‘‘
وہ مزید بتاتےہیں: ’’یہ صرف انگریزی زبان کا پروگرام نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ طلبہ کی ذہنی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کوئی آپ سے تلخ لہجے میں کچھ کہے تو اسے ٹھنڈے دماغ سے سنئے پھر مہذب انداز میں اس کا جواب دیجئے۔ ہمیشہ یاد رکھئےکہ آپ یہ بین الاقوامی زبان یعنی انگریزی خدا کیلئے سیکھ اور بول رہے ہیں۔ آپ ملازمت بھی کیجئے اور دین کی خدمت بھی کیجئے، کیونکہ قوم نے دین کی خدمت کیلئے آپ کے اوپر پیسہ خرچ کیا ہے۔‘‘
اسی ادارے سے ۲۰۱۸ء میں فارغ ہو نے والے تحسین مظفر جہازی قاسمی حیدرآباد میں ملٹی نیشنل کمپنی’’جینپیکٹ‘‘ سے وابستہ ہیں۔ جھارکھنڈ کے ضلع گڈا کے ایک گاؤں ’’جہازقطعہ ‘‘ کے رہنے والے ہیں۔ ۲۰۱۶ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کے بعد دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ انگریزی زبان و ادب میں داخل ہوئے ۔ وہ بتاتےہیں: ’’ اس شعبے میں داخلہ لینے کے میں نے انگریزی تو سیکھی ہی، ساتھ اس سے مجھے فکری غذا بھی ملی ، میری فکر میں وسعت آئی، سماجی شعور آیا، سوچنے سمجھنے کا انداز بدلا، دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا شوق پید ا ہوا۔ پہلےانگریزی سےنا بلد تھا۔ شعبے میں آیا تو یہاں ایسا ماحول ملا کہ ہم فجر کی نماز کے بعد سے پڑھنے لگتے تھے۔ دو سال یہی معمول رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مجھے کسی بھی انگریزی داں سے گفتگو کرنے میں جھجھک محسوس نہیں ہوتی۔ انگریزی اخبارات و رسائل کو پڑھنا اور سمجھنا آسان ہوگیا ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں: ’’ پہلے انگریزی اخبارات سے ڈر لگتا تھا۔ اب ا نگریزی اخبارات و رسائل کا مطالعہ معمول ہے۔ انگریزی ادب سے بھی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ اسی زبان میں عالمی خبریں بھی پڑھتا ہوں۔ میں جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، وہاں کی بول چال کی زبان انگریزی ہی ہے، میل بھی اسی زبان میں کرنا ہوتا ہے، یہاں شعبۂ انگریزی کے دوسالہ کورس کا فائدہ یہ ہے کہ اس نے بڑی جلا بخشی۔ ‘‘
عبد الرقیب قاسمی اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری ضلع کے سسورہ ناصر کے رہنے والے ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں ا نگریزی شعبہ سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد دہلی کے ایک ادارے میں ایک سال انگریزی کے استاد رہے جہاں مرکز المعارف کے طر ز پر ۲؍ سالہ کور س پڑھایا جاتا ہے۔ فی ا لحال وہ مولانا سید سلمان ندوی کے مدرسے ’ جامعہ سید احمد شہید ‘ میں استاذ ہیں جو ملیح آباد کے کٹولی میں ہے۔ ان کاکہنا ہے: ’’ اب تک مدارس کے طلبہ کی تدریس سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مدرسہ کا فارغ انگریزی استاذ بنتا ہے تو اس کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ طلبہ کی نفسیات سے واقف ہوتا ہے۔ ان کی کمیوں اور خامیوں کو سمجھتا ہے، کیو نکہ وہ اس مرحلے گزر چکا ہوتا ہے۔ عربی نحو و صرف کی مثالوں کی مدد سے انہیں انگریزی گرامر بتاتا ہے۔ عربی قواعد اور انگریزی گرامر میں بہت سی چیزیں مشتر ک ہیں۔ ایک انگریزی داں جو مدرسے کا فارغ ہو اس کو یہ علم رہتا ہے چنانچہ وہ مدارس کے طلبہ کیلئے انگریزی کی تدریس کو آسان بنادیتا ہے۔ ‘‘
ان کے بقول: ’’ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ انگریزی میں داخلہ میری زندگی کا اہم موڑ ہے۔ ابھی حال ہی میںکئی دانشوروں کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی کہ در س نظامی کو انگریزی میں متعارف کروایا جائے۔ نصاب میں شامل تمام کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے۔ درس نظام کے انگریزی میڈیم ادارے بھی ہوں۔ ظاہر ہےکہ یہ محنت طلب کام ہے، اس کیلئے ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔ یہ کام انگریزی داں طلبہ بہتر طریقہ سے کر سکتے ہیں۔ میں اس تجویز سے متفق ہوں اور اس کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے تیار ہوں۔ دوسرے طلبہ کو بھی سامنے آنا چاہئے۔ ‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: